مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ اکرم نگر موانہ ضلع میرٹھ یوپی الہند
سکندر اور انکے استاذ ارسطو کا واقعہ
قدیم زمانے کی بات ہے کہ ایک بار فاتحِ عالم، سکندر اپنے استاد ارسطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آیا جو تازہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے بپھرا ہوا تھا۔ یہاں استاد اور شاگرد کے درمیان تکرار شروع ہوگئی کہ پہلے نالہ پار کون کرے گا؟
سکندر بضد تھے کہ نالے کی دوسری طرف پہلے وہ جائیں گے۔ بالآخر ارسطو نے ہار مان لی اور پہلے سکندر نے ہی نالہ پار کیا، جب عالم اور طالب نے نالہ پار کرلیا تو ارسطو قدرے سخت لہجے میں سکندر سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ، “کیا تم نے مجھ سے پہلے راستہ عبور کرکے میری بے عزتی نہیں کی؟”
سکندر نے انتہائی ادب سے قدرے خم ہو کر جواب دیا، “ہرگز نہیں استادِ محترم، دراصل نالہ بپھرا ہوا تھا اور میں یہ اطمینان کرنا چاہتا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، کیونکہ ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندرِ اعظم وجود میں آئیں گے لیکن سکندر ایک بھی ارسطو کو وجود میں نہیں لا سکتا۔”
ہارون رشید کے صاحبزادوں کا واقعہ
خلیفہ ہارون رشید کے دو صاحبزادے امام نسائی کے پاس زیرِ تعلیم تھے۔ ایک بار استاد کے جانے کا وقت آیا تو دونوں شاگرد انہیں جوتے پیش کرنے کے لیے دوڑے، دونوں ہی استاد کے آگے جوتے پیش کرنا چاہتے تھے، یوں دونوں بھائیوں میں کافی دیر تک تکرار جاری رہی اور بالآخر دونوں نے ایک ایک جوتا استاد کے آگے پیش کیا۔ خلیفہ ہارون رشید کو اِس واقعے کی خبر پہنچی تو بصد احترام امام نسائی کو دربار میں بلایا۔
مامون رشید نے امام نسائی سے سوال پوچھا کہ، “استادِ محترم، آپ کے خیال میں فی الوقت سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہے؟” مامون رشید کے سوال پر امام نسائی قدرے چونکے۔ پھر محتاط انداز میں جواب دیا، “میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ احترام کے لائق خلیفہ وقت ہیں۔” خلیفۂ ہارون کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ اتری اور کہا کہ، “ہرگز نہیں استادِ محترم، سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ استاد ہے جس کے جوتے اٹھانے کے لیے خلیفۂ وقت کے بیٹے آپس میں جھگڑیں۔”
اشفاق احمد کا واقعہ
اشفاق احمد اپنی کتاب زاویہ کے اندر روم میں قیام کے دوران پیش آنے والا ایک واقع بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہاں اُن کا ٹریفک چالان ہوا اور اُنہیں بارہ آنے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی گئی، بوجوہ وہ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر رہے تو اُنہیں عدالت میں حاضر ہونا پڑا۔ جج اُن سے سوال کرتے رہے مگر اُنہیں جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ بس وہ یہی بول پائے کہ “جی میں یہاں پردیسی ہوں، اُس پر جج نے مجھ سے پوچھا آپ کرتے کیا ہیں؟ میں نے بڑی شرمندگی سے سر جھکا کر جواب دیا کہ جی میں ٹیچر ہوں۔ یہ سننا تھا کہ جج اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سب کو حکم دیا کہ “اے ٹیچر ان دی کورٹ۔” سب احترام میں اپنی کرسیوں سے کھڑے ہوگئے۔
اشفاق احمد کہتے ہیں کہ پھر جج نے انہیں یوں مخاطب کیا جیسے بڑے ہی شرمندہ ہوں۔ اِسی شرمندگی میں جج نے کہا کہ “جناب آپ استاد ہیں، ہم جو آج جج، ڈاکٹر، انجینئر جو کچھ بھی بنے بیٹھے ہیں وہ آپ اساتذہ ہی کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے، مجھے بہت افسوس ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر آپ کو چالان ادا کرنا ہوگا کیونکہ بہرحال آپ سے غلطی ہوئی ہے مگر میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔”
اشفاق احمد نے مزید لکھا کہ اُس روز وہ اِس قوم کی ترقی کا اصل راز جان گئے تھے۔
آج استاذ کی وہ عزت نہیں کیجاتی ہے جو پہلے کبھی ہوا کرتی تھی، زمانے نے خوب ترقی کی ہے لیکن اپنے محسن کی احسان مندی کے بارے میں انسان تنزلی کا شکار ہوا ہے،
آج پڑھنے والے طلباء کم ہوگئے ہیں، اکثر طلباء پڑھائی لکھائی کے رسم ورواج کی رو میں یا ماں باپ کے کہنے کی وجہ سے زبردستی مدرسے میں داخل ہوجاتے ہیں، لیکن انکا مزاج پڑھائی کا ہوتا ہی نہیں ہے، اسی وجہ سے وہ استاذ کی نہ کسی بات کو برداشت کرپاتے ہیں نہ انکے دل میں استاذ کی کوئی قدرومنزلت ہوتی ہے، نتیجتا یہ طلباء زمانے کی گردش اور حوادثات کا شکار ہوجاتے ہیں، استاذ کی ناقدری کرکے کوئی کامیاب نہیں ہوا ہے، علم تو چاہے حاصل ہوجائے لیکن علم کے فیضان سے محرومی ہی ہاتھ لگتی ہے،
ایک زمانہ وہ بھی تھا
ایک زمانہ وہ تھا جب طالب علم استاذ کی روک ٹوک کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے، اور سمجھتے تھے کہ جسپر استاذ کی زیادہ توجہ ہوتی ہے اسی پر زیادہ روک ٹوک ہوتی ہے، جسکو استاذ اپنا سمجھتا ہے اسی پر زیادہ پابندی لگاتا ہے، بھلا پرائے بچے کی فکر کون کرتا ہے؟ یہ وہ زمانہ تھا جب استاذ اگر طالب علم سے ناراض ہوجاتا تھا تو طالب علم کو اسوقت تک سکون نہیں ملتا تھا جبتک وہ استاذ کو راضی نہ کرلیتا تھا، آج استاذ کو ناراض ہونیکا ڈانٹنے کا کوئی حق نہیں ہے، آج استاذ طالب علم سے ڈرتا ہے کہیں ناراض نہ ہوجائے اور مدرسے سے میرا بوریا بستر نہ بندھ جائے یا طالب علم میری بے عزتی نہ کردے، یہ تنزلی نہیں تو کیا ہے؟ یہ ناکامی اور بدبختی نہیں طالب علم کی تو کیا ہے؟ آج تو بہت سے طالب علموں کو اپنے استاذ کا نام تک نہیں پتہ ہوتا ہے،
باادب بانصیب بے ادب بے نصیب
با ادب با نصیب ، بے ادب بے نصیب ہوتا ہے۔ قانونِ ارتقاء کی رُو سے باعلم قوموں کو حق حاصل ہے کہ کم علم قوموں پہ حکمرانی کریں۔ اس بات کا زمانہ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں نے ہی اس زمین پر حکمرانی کی ہے۔ اور ان پڑھ قومیں ان کے ماتحت رہی ہیں۔ آج اگر ہم قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم ادب کرنا بھول گئے ہیں۔
؎ اب تو شاگردوں کا استاد ادب کرتے ہیں
سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے
حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا قولِ مبارک ہے۔’’ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا میں اسکا غلام ہوں چاہے مجھے بیچ دے یا آزاد کردے،
آج اساتذہ کو اپنا غلام سمجھا جاتا ہے، استاذ کے پاس پڑھنا گویا ان پر احسان رکھنا ہے، اور بہت سی جگہوں پر اسکے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ارباب مدارس بھی ہیں، بعض اہل مدارس کا مقصد بس مدرسے میں بھیڑ جمع کرنا ہوتا ہے ، چھوٹے مدارس میں اکثر طلباء کے داخلے کا کوئی معیار ہوتا ہے نہ کوئی قانون ہوتا ہے، ہر ایرا غیرا داخلہ لے سکتا ہے ورنہ ہرمعیاری ادارہ اپنے یہاں کا ایک اسٹینڈرڈ اور معیار رکھتا ہے ، اسکے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں، کہ جسمیں یہ کوالیٹی ہوگی اسکو ہم اپنے یہاں جگہ دینگے، یہ ارباب مدارس ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ تاکہ زمانہ کو دکھاسکیں کہ ہمارے یہاں طلباء کی اتنی تعداد ہے، طلباء کی کمی زیادتی انکے یہاں کامیابی اور ناکامی کا معیار ہوتی ہے، وہ ارباب مدارس طلباء کو روکنے ٹوکنے اور تنبیہ کرنے پر پابندی لگائے رکھتے ہیں ، وہ اسی بنا پر اساتذہ کا جانا تو برداشت کرلیتے ہیں لیکن طالب علم کا جانا پسند نہیں کرتے،
اہل مدارس توجہ دیں ۔ کامیابی اور ناکامی کا معیار کیا ہے؟
اہل مدارس کو سمجھ لینا چاہئے کہ کامیابی اور ناکامی کا معیار طلباء کی تعداد کے کم زیادہ ہونے پر نہیں ہے بلکہ طلباء کی صحیح اور غلط تعلیم وتربیت پر ہے، اگر آپکے یہاں تعلیم وتربیت کا کماحقہ ںظم نہیں ہے بس جیسے جو بچہ آئے اسکو بٹھا لیا جس لباس میں آئے کوئی بات نہیں، جس وقت آئے کوئی حرج نہیں جیسے چاہے وضع قطع رکھے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب چاہے جہاں چاہے گھومے پھرے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے تو آپکے یہاں چاہے ایک لاکھ طلباء ہوں آپ ناکام ہیں، آپ طلباء کی زندگی برباد کررہے ہیں، طلباء ایک امانت ہیں، قیامت کے دن اس امانت اور انکی تعلیم وتربیت کے متعلق سوال ہوگا،
اور اگر آپکے یہاں تعلیم وتربیت کا معقول نظم ہے ، جوچیز طلباء کیلیے بہتر ہے اسپر توجہ دیجاتی ہے، طلباء کو تعلیم کےتقاضوں کے مطابق تعلیم دیجاتی ہے نہ کہ طلباء کی مرضی کے مطابق، آپ طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی فکر کرتے ہیں نہ کہ بھیڑ جمع کرنے کی ، غرض آپ قانون اور اصول وضوابط کے مطابق تعلیم دیتے ہیں تو پھر آپ سوفیصد کامیاب ہیں چاہے آپکے یہاں ایک ہی طالب علم ہو، اسلئے کہ جب آپ مکمل اصول وضوابط کے ساتھ تعلیم دینگے تو آپکے یہاں وہی آئیگا جسکو واقعی علم کی طلب ہوگی، اور مدرسہ تو ہے ہی طالب علم کیلئے نہ کہ بھیڑ کیلئے، دیکھئے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے وقت صرف ایک استاذ اور ایک طالب علم تھا تو کیا وہ ناکام تھے؟ ایک طالب علم صحیح طریقے سے پڑھ لے گا تو وہی پورے جہان کی کایاپلٹ کیلئے کافی ہوگا، اور اگر بالفرض کوئی آپکے یہاں نہیں بھی آیا تو آپ امانت میں خیانت کے جرم سے بری تو رہینگے ہی،
آج استاذ طالب علم کو نہ کسی بات پر تنبیہ کرسکتا ہے نہ روک ٹوک کرسکتا ہے، طالب علم اپنی مرضی سے جیسے چاہے جب چاہے مدرسے میں آئے جیسے چاہے پڑھے، جو چاہے پہنے پہنے جیسی چاہے وضع قطع اختیار کرے، جسطرح چاہے رہے نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہ آپکے سامنے ہے ! کہ یہی غیرتربیت یافتہ بچے بڑے ہوکر اپنی طرح کی بے شعور فوج تیار کرتے ہیں جنکا کوئی مقصد نہیں ہوتا، نہ انکے سامنے کوئی ملی یا ملکی کوئی کاز ہوتا ہے، انکا مقصد دو وقت کی روٹی ہوتا ہے چاہے جیسے حاصل ہوجائے،
ایسی جماعت کا کیا فائدہ؟
یاد رکھئے نہ ہرکسی کا پڑھنا فرض ہے نہ ہر کسی کو پڑھادینا فرض ہے نہ ہر کوئی پڑھ سکتا ہے، اسلئے صحیح طریقے پر اصول وضوابط کے ساتھ تعلیم پر توجہ دیجئے ، یہ باتیں بہت سے لوگوں کو کڑوی لگے گی لیکن میرا اصول ہے حقیقت بیانی کرنا، امید ہیکہ یہ باتیں اہل حقائق کو سمجھ آئینگی
استاد کے ادب کے مختلف دینی اور دُنیوی فوائد طالبِ علم کو حاصل ہوتے ہیں جن میں بعض یہ ہیں:
(1)
امام بُرھان الدّین زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک طالبِ علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے نفع اٹھاسکتا ہے جب تک کہ وہ علم ،اہلِ علم اور اپنے استاد کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو ۔
(2)
امام فخرالدین ارسا بندی رحمۃ اللہ علیہ مَرْو شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔
(3)
کیو نکہ استاد ہو یا طبیب دونوں ہی اس وقت نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی تعظیم وتکریم نہ کی جائے ۔(
(4)
صلاحیت ِفکر وسمجھ میں اضافہ ہونا
(5)
استاذ کے ادب سے علم کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں
اساتذہ اور مدارس بدلنے کا نقصان
بلاوجہ استاذ اور مدرسہ بدلنے سے علم کی برکت ختم ہوجاتی ہے، انسان اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا ، اسکی ذہنی کھڑکیاں مسدود ہوجاتی ہیں، افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے بہت سی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک طالب علم کسی استاذ کے پاس کسی مدرسہ میں پڑھ رہا ہے تو دوسرے مدرسہ کا استاذ اور بہت سے لوگ طلباء کو انکے استاذوں سے بدظن کرنے میں اور استاذ ومدرسہ تبدیل کرنے میں پوری محنت سے لگ جاتے ہیں ، بزعم خود وہ اپنے علاوہ اپنے مدرسہ کے علاوہ دوسرے استاذ اور مدرسہ کو ناکام کرنے کی کامیاب کوشش کررہے ہوتے ہیں، اپنے کو کامیاب ظاہر کررہے ہوتے ہیں، لیکن انکا یہ گمان محض گمان ہی ہوتا ہے، ہمارے پاس بہت سے لوگ شکایت لاتے ہیں کہ فلاں صاحب ایسی حرکت کرتے ہیں، اور میرا خود ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے جنکا کام ہی لگے لگائے طلباء کو بہکانا ہوتا ہے، اور یہ اساتذہ اور لوگ وہی ہیں جنہوں زمانہ طالب علمی میں اساتذہ کی ناقدری اور علم دین کی ناقدری کی ہے ، جنکی تربیت نہ ہوسکی، بلکہ انہوں نے اپنی تربیت کرنے کا استاذ کو موقع ہی نہیں دیا ہوتا، لہذا اب یہ اپنی ہی طرح کی ایک فوج تیار کرنے کے درپے ہوتے ہیں، اسی طرح بہت سے اداروں میں کچھ ملازمین غدار اور ضمیر فروش بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی ادارے کو جس جگہ سے انکیبروزی روٹی چل رہی ہے اسی کو کمزور کرنے اور ناکام کرنے کی باقاعدہ کمپین اور مہم چلائے رکھتے ہیں، اور وہ سب حرکتیں کرتے ہیں جو اوپر گزریں،
یہ سب کرکے ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں لیکن ایسے لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرنا چاہئے اللہ ایسے حاسدوں کے حسد سے امت مسلمہ کی اور تمام دینی اداروں کی حفاظت فرمائے،
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تحریر فرماتے ہیں
“حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے ؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : ’’ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ ‘‘ ۔ ( آل عمران :۱۶۴)
اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاری کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان کے تلامذہ میں ہیں ؛ لیکن علومِ اسلامی میں مہارت اور زہد و تقوی کی وجہ سے امام صاحب کو اپنے استاذ سے بھی زیادہ عزت ملی ، اس کے باوجود امام احمدؒ کبھی ان کے برابر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے اور کہتے کہ آپ کے سامنے بیٹھوں گا ؛ کیوںکہ ہمیں اپنے اساتذہ کے ساتھ تواضع اختیار کرنے کا حکم ہے ، (تذکرۃ السامع و ا لمتکلم ، ص : ۸۷) امام شافعی ؒ امام مالک ؒ کے شاگردوں میں ہیں ، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک ؒکے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے ، کہ کہیں آپؒ کو بارِ خاطر نہ ہو ، (حوالہ سابق ، ص : ۸۸) خود قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے ، باوجودیکہ حضرت موسیٰ ں مقامِ نبوت پر فائز تھے ؛ لیکن انھوں نے نہایت صبر اور تحمل کے ساتھ حضرت خضر کی باتوں کو برداشت کیا اور بار بار معذرت خواہی فرمائی ، امام ابوحنیفہ ؒ کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے استاذ حماد ؒکے مکان کی طرف پاؤں کرنے میں بھی لحاظ ہوتا تھا ، امام صاحب ؒ خود اپنے صاحب زادہ کا نام اپنے استاذ کے نام پر رکھا ، قاضی ابویوسفؒ کو اپنے استاذ امام ابوحنیفہؒ سے ایسا تعلق تھا کہ جس روز بیٹے کا انتقال ہوا اس روز بھی اپنے استاذ کی مجلس میں حاضری سے محرومی کو گوارا نہیں فرمایا ۔
بد قسمتی سے اب اساتذہ اور طلبہ کے درمیان محبت و احترام کا یہ جذبہ مفقود ہے ، طلبہ اپنے اساتذہ کو ایسی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ ان کے حریف اور فریق ہیں ، نقل و حرکت اورنشست و برخاست میں ادب و احترام تو بہت دور کی چیز ہے ، رودر رو فقرے چست کرنے اور جملے کسنے میں بھی کوئی حجاب نہیں ، ظاہر ہے اس بے احترامی اور بے اکرامی کے ساتھ کیوںکر کسی شخص سے فیض یاب ہواجاسکتا ہے ؟”
امام شافعی فرماتے ہیں ما وصل من وصل إلا بالحرمة، وما سقط من سقط إلا بترك الحرمة والتعظيم.
جو شخص کسی مقام پر پہنچا وہ صرف ادب واحترام کیوجہ سے پہنچا اور جو آدمی محروم القسمت ہوا وہ صرف ادب واحترام نہ کرنے کیوجہ سے ہوا،
لیس للانسان الاماسعی (سورہ نجم) آج جو بوؤگے کل وہی کاٹوگے اسلئے اے طلباء عظام اپنے حالات کو سدھارنے کی کوشش کرو
وماعلینا الاالبلاغ
Comments: 5
Irfanullah
March 5, 20253:15 amماشاءاللہ مختصر پراثر
محمد عابد
April 29, 20255:37 amماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور پر اثر تحریر۔ جزاک اللہ خیرا
KHALIL AHMAD
September 12, 202512:26 pmماشاءاللہ اللّٰہ تعالیٰ خوب اور مزید ترقی سے نوازے
atasamiee
September 13, 20255:22 amآمین وایاک
علی اکبر
December 10, 20255:01 pmبہت اچھا لکھا صاحب نے ۔ماشاء اللہ