Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

قربانی پر اعتراضات اور اسکے جوابات


قربانی عبادت کے ضمن میں بہت سے لوگوں کیلئے ذریعۂ معیشت بھی

*مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند*
www.atasamiee.in

یہ ایک بنیادی اور ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے، اور اسی نے یہ رہنمائی بھی عطا فرمائی ہے کہ کس چیز کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ جب خالق خود طریقہ بتا دے تو بندے کے لیے اس پر اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اسی اصول کے تحت سب سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ قربانی محض ایک عبادت ہی نہیں بلکہ عبادت کے ضمن میں ایک معاشی سرگرمی بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی اہمیت کو یوں واضح فرمایا: حضرت ابوہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“من وجد سعة ولم یضح فلایقربن مصلانا”
(مسند احمد، ابن ماجہ)

(جو شخص قربانی کی گنجائش رکھتا ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے)

یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ صاحبِ استطاعت کے لیے قربانی کو نظر انداز کرنا ایک سنگین کوتاہی ہے، جسے کسی بھی عقلی یا معاشی دلیل کے نام پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔

عیدالاضحی کے موقع پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے والی رقم اگر غریبوں میں تقسیم کر دی جائے یا ہسپتال کالجز وغیرہ بنائے جائیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ بظاہر یہ بات ہمدردی پر مبنی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ نہ دینی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی معاشی اعتبار سے۔ سب سے پہلے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ غربت دور کرنے کا اصل طریقہ صرف پیسہ تقسیم کرنا نہیں بلکہ کمائی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ پیسہ تقسیم کرنے سے وقتی ضرورت تو پوری ہو جاتی ہے، لیکن روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے مستقل طور پر غربت کم ہوتی ہے اور محتاجی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح رفاہ عامہ کا طریقہ ایک ضرورت کو ختم کرنا نہیں بلکہ فضول خرچیوں کو کنٹرول کرنا ہے، اور مال کو درست طریقے سے استعمال کرنا ہے

یہی وہ حکمت ہے جو قربانی میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ قربانی کے عمل سے عبادت کی ادائیگی کے ساتھ ایک وسیع معاشی نظام حرکت میں آتا ہے: مویشی پالنے والے کسان،چارہ اگانے والے لوگ، بیوپاری، منڈیوں کے مزدور، ٹرانسپورٹر، قصائی، اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افرادسب کو اس سے روزگار اور آمدنی کے مواقع ملتے ہیں۔ اس طرح قربانی محض گوشت کی تقسیم نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی سرگرمی ہے جو ہر طبقے کو سہارا دیتی ہے۔ اور ان میں مسلم وغیر مسلم سبھی شامل ہیں،

اگر فضول خرچی یا بیجا خرچی کیجائے تو آدمی نفسانی خواہشات کے تابع ہوکر ایک پہلو کو نظر انداز کرکے عبادات پر ہی اعتراض کرنے لگتا ہے اور نفسانی خواہشا کا وکیل بنجاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایک متوازن نظام دیا ہے، جس میں تینوں پہلو شامل ہیں:
ایک طرف پیسہ کی تقسیم کا نظام ہے۔ زکوٰۃ، صدقۂ فطر، عشر، کفارات، نذورات اور دیگر امدادی صورتیں ، اور دوسری طرف روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے اعمال بھی ہیں، جن میں قربانی ایک نمایاں مثال ہے۔
تیسری طرف فضول خرچی پر روک بھی لگائی ہے ، فرمایا “ولاتبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین” (الاسراء) فضول خرچی نہ کرو بیشک فضول خرچی کرنیوالے شیطان کے بھائی ہیں “
یہ کہنا بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ قربانی سے غریبوں کو فائدہ نہیں ہوتا۔ عید قرباں کے دنوں میں لاکھوں غریب افراد کو گوشت نصیب ہوتا ہے، جو عام دنوں میں میسر نہیں ہوتا، اور اسی کے ساتھ وہ محنت مزدوری اور کاروبار کے ذریعے آمدنی بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف لینے والے نہیں بلکہ کمانے والے بھی بنتے ہیں۔
ایک غور کرنیوالی بات ہے کہ ایک ضرورت دوسری ضرورت کو ختم یا کم نہیں کرتی مثلا انسان کو کھانے کی بھی ضرورت ہے مکان کی بھی اور کپڑوں کی بھی، آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ کھانے پر خرچ نہ کیا جائے کیونکہ کپڑے بھی ضروری ہیں، یا سر نہ چھپایا جائے کیونکہ کھانا ضروری ہیں،
کپڑے کی ضرورت مکان پورا نہیں کرسکتا ہے کھانے کی ضرورت کپڑا پورا نہیں کرسکتا ، علاج کی ضرورت سواری پورا نہیں کرسکتی ، ہاں یہ کہا جائیگا کہ غیر ضروری اخراجات کو ختم کرو اور ضرورت کو پورا کرو،
اسی طرح سرکار نے ہر شعبے کیلئے الگ فنڈ مقرر کررکھا ہے، تعلیم پر اتنا خرچ کرنا ہے انفراسٹرکچر پر اتنا خرچ کرنا ہے ملک کی سلامتی کیلئے اتنا خرچ کرنا ہے، ہر ایک کا فنڈ متعین ہے ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کرنا بیوقوفی اور نظام کو گڑبڑانے والا اور خیانت والا عمل کہلائیگا، قربانی بھی ضروری ہے اور غرباء کی امداد ہسپتال کالجز بھی، لیکن ایک ضرورت کی وجہ سے دوسرے کو ختم کرنا اور ایک کا فنڈ دوسری جگہ استعمال کرنا دیانت اور عقل کے خلاف ہے، قربانی کے ایام میں قربانی کا بدل دوسری امداد نہیں بن سکتی جسطرح ایک چیز کی ضرورت دوسری چیز پورا نہیں کرسکتی، قربانی کا فنڈ قربانی کی جگہ استعمال کرو اور اپنی خواہشات اور فضول خرچیوں پر لگام لگا کر دیگر رفاہی کام انجام دو،
کوئی کہہ سکتا ہے کہ جسکی زیادہ ضرورت ہے اسپر توجہ دیجائے اور جسکی کم ضرورت ہےاسکو چھوڑدیا جائے، تو بالکل یہی بات ہے جسکے پاس اپنی تمام ضروریات قرض وغیرہ سب کو پورا کرنے کے بعد بقدر نصاب مال بچتا ہے وہ قربانی کرے اور جسکی اپنی ضروریات کو پورا کرنے بعد بقدر نصاب مال نہ بچے وہ قربانی چھوڑسکتا ہے،

حیرت کی بات یہ ہے کہ قربانی پر اعتراض کرنے والے اکثر خود مہنگے اور پرتعیش طرزِ زندگی کے عادی ہوتے ہیں۔ مہنگے موبائل، قیمتی گاڑیاں، جدید گیجٹس، پریمیم لائف اسٹائل، مہنگی شادیاں اور مہنگے کھانے یہ سب ان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہی لوگ غریب کی ہمدردی کی آڑ میں جانور کے ذبح پر اعتراض کرتے ہیں، لیکن خود غیر ضروری اور پرتعیش طرز زندگی رکھتے ہیں ، چمڑے کے پریمیم سامان استعمال کرتے ہیں، جو اسی جانور سے حاصل ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چمڑے کی صنعت ہزاروں لوگوں کا ذریعۂ معاش ہے انمیں مسلم اور غیر مسلم سبھی ہیں اور اس چمڑے کی صنعت کا فروغ بھی اسی نظام سے جڑا ہوا ہے۔
اعتراض کرنیوالے حضرات مال کے ضیاع کو بہانہ بنا کر قربانی پر تو اعتراض کرتے ہیں لیکن فضول خرچی سے متعلق قرآنی حکم کو خود بھی بھول جاتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں پھیلاتے ہیں

اگر واقعی ہمدردی مقصود ہو تو روزمرہ کے غیر ضروری اخراجات پر نظر ڈالنی چاہیے، جیسے غیر ضروری پارٹیز ، شادی بیاہوں اور دیگر پروگرامز کے فالتو خرچے فاسٹ فوڈ اور روزانہ چکن اور بڑے کی مختلف ڈشز ، روسٹ، فرائی، اور گوشت کے دیگر سالن، جو سب جانور کے ذبح ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر اصول یہ ہے کہ جانور کو ذبح نہ کیا جائے یا اس پر خرچ نہ کیا جائے، تو پھر ان چیزوں کو بھی ترک کرنا چاہیے اور ان پر خرچ ہونے والی رقم غریبوں پر لگانی چاہیے۔

حقیقت یہ ہیکہ آج کل قربانی کے خلاف جو اعتراضات سامنے آتے ہیں، ان میں سے بہت سے دراصل اسلام دشمن عناصر کی فکری یلغار کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو ان کی عبادات سے دور کرنا ہے ،
کچھ اعتراضات مسلمانوں کی علماء اور دین سے دوری کی وجہ سے کم علمی کا نتیجہ ہیں ۔ افسوس یہ ہے کہ بعض سادہ لوح اور دین کا بنیادی مقدمہ اور انسان کی پیدائش کا مقصد نہ جاننے والے لوگ ان باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر غور کیا جائے تو اصل سوال یہ ہے کہ ہمیں اللہ نے جو مال دیا ہے، وہ زیادہ کہاں خرچ ہو رہا ہے—عیش و عشرت اور خواہشات پر یا اللہ کی مرضی کے مطابق دین اور عبادات پر؟

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اعتراضات وہی شخص کر سکتا ہے جسے نہ دین کا بنیادی مقدمہ معلوم ہو اور نہ ہی معاشیات کی صحیح سمجھ ہو۔ دین ہمیں عبادت کا پابند بھی بناتا ہے اور معاشرے کی فلاح کا راستہ بھی دکھاتا ہے،

لہٰذا درست رویہ یہ ہے کہ ہم اپنے فضول اور عیش و عشرت والے اخراجات کو کنٹرول کریں، مہنگے موبائل، گاڑیاں، بیڑی سگریٹ گٹکھا شراب بیئر غیر ضروری گیجٹس ، شادی بیاہوں ، برتھ ڈیز، انیورسری، برسی، کے فضول اخراجات اور غیر ضروری لائف اسٹائل میں کمی لائیں، اور بچنے والی رقم کو رفاہِ عامہ اور غریبوں کی مدد میں لگائیں۔ نہ یہ کہ سال میں ایک بار آنے والی عظیم عبادت قربانی کو ہی نشانہ بنا کر اسے ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔
لہذا جان لو کہ قربانی ایک جامع عبادت ہے جس میں اطاعت، ایثار، معاشی حکمت اور سماجی فائدہ سب جمع ہیں۔ اسے محض “پیسوں کا ضیاع” سمجھنا نہ دینی اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی حقیقت کے مطابق۔ اگر ہم یکسوئی کے ساتھ غور کریں تو واضح ہو جائے گا کہ اللہ کے دیے ہوئے مال کا بڑا حصہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، اور دین کے نام پر ہم کتنا خرچ کرتے ہیں۔ یہی غور و فکر ہمیں درست سمت دکھا سکتا ہے

No Comments

Leave a Reply