Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اچھے دوست کی نشانیاں

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ اکرام نگر موانہ ضلع میرٹھ یوپی الہند

دوستی احادیث مبارکہ کی روشنی میں

نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد مبارک ملاحظہ کیجئے:
(1) اچھا ہم نشیں وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور
(2) اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں اضافہ ہو اور
(3) اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔
(جامع صغیر، ص 247، حدیث: 4063)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوھار کی سی ھے۔۔۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پالوگے۔۔۔یاتو مشک ھی خرید لو گے ورنہ کم ازکم اس کی خوشبو تو ضرور ھی پاسکو گے۔
لیکن لوھار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑوں کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پالو گے۔۔۔
صحیح البخاری
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال:’’الرجل علیٰ دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل‘‘
یعنی آدمی اپنے دوست کے دین اور اس کی روش پر ہوتا ہے۔پس تم میں سے ہر ایک شخص کو یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔ اور مسند احمد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ المرء علیٰ دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل‘‘
یعنی آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے.
اللہ کے رسولؐ ؐنے فرمایا “المؤمن مرآة
المؤمن “ کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہے۔
حدیث میں آئینہ کی مثال سے اسلئے سمجھایاہے کہ جب انسان آئینے میں دیکھتا ہے توآئینہ اس کی حقیقی شکل دکھاتا ہے اگر چہرے پر داغ ہو تو وہ داغ چھپاتا نہیں بلکہ اس کو بالکل ویسا ہی دکھاتا ہے جیسا وہ ہے، لیکن انسان کبھی آئینہ پر غصہ ہوکر اس کو توڑتا نہیں بلکہ وہ اپنے داغ کو قبول کرتا ہے اور کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح ایک دوست جب غلطی کرے تو اس کے دوست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی غلطی کو بتائے، اور سامنے والے کو چاہئے کہ اپنے اس آئینہ نما دوست سے دوستی توڑنے کی بجائے اسکا احسان مانے اور اپنی خامی کو دورکرنے کی کوشش کرے،
میں کہتا ہوں
یہیں پر ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ آئینہ جسطرح صرف خامی کو نہیں بتاتا بلکہ چہرے کی خوبصورتی اور خوبی کو بھی بیان کرتا ہے،
اسی طرح دوست کو چاہئے کہ صرف دوست کی خامیاں ہی نہ بیان کرے بلکہ اسکی خوبیوں کو بھی بیان کرے،
دوسرا نکتہ یہ ہیکہ آئینہ اسی کی خامی بیان کرتا ہے جو اسکے سامنے ہوتا ہے، اگر کوئی شخص آئینے کے سامنے نہ ہو تو اسکی خامی بیان نہیں کرتا ،
اسی طرح دوست کو چاہئے کہ دوست کی خامی اپنے دوست کے سامنے ہی بیان کرے اسکی غیرموجودگی میں دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے،
کیا خوبصورت مثال دیکر سمجھایا ہے آقا نے،

دنیاوی تجربات اور معاشرہ کے اعتبار سے اچھے دوست میں یہ صفات پائی جانی چاہئیں

(1) جب واقعات آپ کے راستے پر چل رہے ہوں یعنی حالات آپکے موافق ہوں تو وہ آپ کے لئے حقیقی طور پر خوش ہوں،
بہت سارے دوستوں کی “دوستی” پر غور کریں جو سطح پر دوستانہ دکھائی دیتے ہیں ، لیکن حسد ، غیر فعال جارحانہ ریمارکس سے بھرے ہوئے ہیں ، اگر میں اس سے اعلی ہوجاتا ہوں تووہ آپکو نیچا کرنے کی تگ ودو میں لگ جائیگا، آپکو کسی بھی طرح چاہے عزت اچھال کر یا مزاق اڑا کر یا تضحیک وتمسخر کے ذریعہ یا سازشیں کرکے نیچا دکھانے کی کوشش کریگا۔ جو کوئی بھی اس کھیل کو کھیلتا ہے وہ دوست نہیں ، بلکہ ہیرا پھیری ہے۔

(2) جب آپ کو واقعی ان کی ضرورت ہو تو وہ آپ کے لئے موجود ہوں،
بہت سے دوست کھانے پینے والے دوست ہوتے ہیں مصیبت کے وقت منظر نامے سے غائب ہوتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا موت کے وقت قبر کی تیاری میں محلے کے غریب لوگ سب سے آگے ہوتے ہیں اور کھاؤپیر لوگ اپنے کپڑوں کی سلوٹ کی فکر میں لگے ہوتے ہیں،

(3) وہ آپکے حامی ہوں لیکن ایماندار بھی ہوں،
صرف ایک مددگار دوست ہی بہت اچھا دوست نہیں ہوتا ہے کیونکہ ، مثال کے طور پر ، وہ اپنے دوستوں کو خراب تعلقات میں جانے یا رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تو وہ اچھے دوست نہیں ہیں یہ سب اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے سچ بولنے کی خواہش سے پہلے “معاون” بننے کی خواہش کو آگے بڑھایا ہے، حمایت کے ساتھ ایمانداری بھی ہو ، وہ آپکو دینی یا دنیوی نقصان میں پڑنے والے کاموں میں حمایت نہ کرے یہ اسکی ایمانداری ہے،

(4) وہ آپ کے وقت اور جذباتی توانائی کا احترام کرتے ہوں،
ایسا نہ ہو کہ آپکے کام میں انکی وجہ سے رخنہ پڑجائے ، آپکے کام الٹ پلٹ ہوجائیں، آپکے جذبات سے کھیلتا نہ ہو بلکہ انکاسچے دل سے احترام کرتا ہو،

(5) وہ واضح طور پر بات چیت کرتے ہوں ،
یعنی دل کی بات کو آپکے سامنے کھلے طور ہر بیان کردے، اسی طرح اگر آپ ان سے کسی چیز کی درخواست کرتے ہوں اور وہ کسی عذر کی وجہ سے اس کو قبول نہ کرسکتے ہوں تو وہ کھکے لفظوں میں معذرت کردیں، اسلئے کہ جو لوگ دل میں بات رکھتے ہیں اور معذرت نہیں کرتے بلکہ شرما حضوری میں کام کردیتے ہیں وہ بہت جلد دوستی ختم کردیتے ہیں کیونکہ انکو اندیشہ ہوتا ہے کہ آئندہ یہ پھر درخواست کرسکتا ہے، اسلئے اچھے دوست میں یہ صفت ضروری ہے کہ وہ واضح طور پر بات چیت کرتے ہوں،

(6) وہ آپ کے ساتھ جڑ جاتے ہوں یا یوں کہہ لیں کہ آپکے ہم مزاج ہوں،
ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں سیر کیلئے گئے آپ تفریح کے موڈ میں ہیں اور دوست کا مزاج غمگین سا رہتا ہے تو سارا مزہ کرکرہ ہوجائیگا، یہی ساری زندگی پر آپ منطبق کرسکتے ہیں،

(7) وہ آپ پر بھروسہ کرتے ہوں،
اعتماد کے بغیر ، کوئی بھی تعلقات زنگ آلود ہوجائیں گے،
اعتماد مواصلت کی سب سے بنیادی ضرورت ہے ، کیونکہ اگر آپ یقین نہیں کرسکتے کہ آپ کا دوست جو کچھ آپ کو بتا رہا ہے وہ صحیح ہے، تو پھر بات کرنے یا دوستی کرنے میں کیا فائدہ ہے؟ عظیم دوست ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔

No Comments

Leave a Reply