Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اولاد کے حقوق

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی موانہ میرٹھ یوپی الہند

اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں ،اور وہ کیا حقوق ہیں۔اس سلسلے میں والدین پر اولاد کی طرف سے کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔ اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔
اولاد سے والدین کے حقوق کے متعلق سوال ہوگا اور والدین سے اولاد کے حقوق کے متعلق سوال ہوگا، ہر ایک اللہ کا بندہ ہے ایسا نہیں ہے کہ والدین کو انکے والدین ہونیکی وجہ سے یونہی چھوڑدیا جائیگا
“الاکلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ”
تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اسکے وظیفہ کے متعلق سوال کیاجائیگا،

یاد رکھئے دو گھر ہیں (۱) دنیا (۲) آخرت
والدین پر حقوق دونوں سے متعلق ہیں ،
بہت سے والدین صرف دنیوی حقوق پر توجہ دیتے ہیں اخروی حقوق تلف کردیتے ہیں،
بہت سے والدین اخروی حقوق پر توجہ دیتے ہیں اور دنیوی حقوق تلف کردیتے ہیں،
ایسے والدین حق تلفی کرنیوالے ہیں،
عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ صرف والدین کے حقوق کا بیان کیا جاتا ہے اور والدین کو بھی صرف اپنے حقوق یاد رہتے ہیں، اولاد اور دیگر رشتے داروں کے حقوق سے آنکھیں موندے رہتے ہیں،
ہم آج یہاں اولاد کے حقوق کو سادہ انداز میں بیان کرینگے

دنیوی حقوق

(۱) جینے کا حق

اسلام سے پہلے جاہلی معاشرے میں جو صرف عرب میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے اندر تھا، اولاد کے حقوق مقرر نہیں تھے۔ اولاد کو بے جا اور غیر ضروری سختی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ عرب میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اولاد بالخصوص لڑکیوں کو قتل کر دیتے تھے ،عام طور پر مشہور تو یہی ہے کہ لڑکیوں کو قتل کرتے تھے یا زندہ گاڑتے تھے لیکن بعض جگہ لڑکے بھی اس کے ساتھ شامل ہوتے تھے اس کی وجہ غربت اور افلاس کا حقیقی خطرہ وخدشہ تھا۔ جس کے بارے میں قرآن کریم نے کہا:
وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ
مفلسی اور بھوک کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔
دوسری جگہ فرمایا:
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَہُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ
ان لوگوں نے بڑا نقصان اٹھایا جنھوں نے جاہلیت، حماقت اورنادانی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل کر دیا۔

(۲) اولاد میں برابری کا حق

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا جی! میری کچھ پراپرٹی ہے میری ملکیت میں کچھ غلام ہیں یا کوئی چیز ہے وہ میں اپنی اولاد میں سے ایک کو دینا چاہتا ہوں جس سے مجھے زیادہ محبت ہے یا جومیرے نزدیک میرا زیادہ تابع فرمان ہے اس کا میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ اس نے سوچا کہ رسول اکرمؐ سے بہتر گواہ اور کون ہو سکتا ہے آپ گواہ ہوں گے کہ میں نے اس کو دے دیا ہے بعد میں میری اولاد کوئی جھگڑا کھڑا نہیں کر سکے گی، باقی بچے کہہ نہیں سکیں گے کہ اس کو کیوں ملا اورہمیں کیوں نہیں ملا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:
میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا، یہ ظلم ہے کہ تم باقی اولاد کو نظر انداز کر کے ایک کو نواز رہے ہو ۔ اس لیے میں ظلم پر گواہی نہیں دوں گا۔

(۳) بچے سے پیار محبت کا اظہار بچے کا حق ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “خیارکم خیارکم لاھلہ وانا خیارکم لاھلی” تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کیلئے سب سے بہترین ہو اور میں اپنے اہل وعیال کیلئے تم سب سے اچھا ہوں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر میں داخل ہوتے مسکراتے ہوئے داخل ہوتے ، گھر والوں سے عفو ودرگزر سے کام لیتے کام میں انکے ہاتھ بٹاتے ، بعض والدین جب گھر میں داخل ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے شیر گھر میں آگیا ہے، بچے سہم جاتے ہیں خاموش ہوجاتے ہیں ، ہنسی مذاق ختم ہوجاتا ہے، گھر قید خانے کا سا منظر پیش کرتا ہے، یہ بات الگ ہے کہ اولاد کو والدین کا ادب کرنا چاہئے انکے سامنے بلند آواز سے نہ بولے لیکن چھوٹے بچے کو ان سب باتوں کی کیا سمجھ ہے؟ نیز باپ کو اپنے برتاؤ کو ایسا رکھنا چاہئے کہ اولاد اس سے خوف نہ کھائے بلکہ اسکی عزت کرے ،

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا اس درمیان نہ آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا نہ گالی دی نہ برابھلا کہا،

بچے سے پیار بھی اس کا حق ہے ایک تو ہے دینے دلانے میں ظاہری عدل وانصاف کرنا اس کے ساتھ یہ ہے کہ حسن سلوک ،پیار اور شفقت بچے کا حق ہے۔ ایک اعرابی آپؐ کی خدمت میں تھا اس کا بچہ آیا تو اس نے اس سے پیار کیا بچی آئی تو اس کو پیار نہیں کیا۔آپؐ نے فرمایا:

تونے انصاف سے کام نہیں لیا،ایک بچے کو پیار کیا تو دوسرے کوبھی کر نا چاہیے تھا بچے کو پیار کیا توبچی کو بھی کرنا چاہیے تھا۔ شفقت اورپیار بچے اوربچی دونوں کا حق ہے۔
بہت سے ماں باپ اسکا الٹ کرتے ہیں ، بچی سے پیار ہے بچے سے نہیں ہے،

ایک دفعہ ایک اور اعرابی آپؐ کے پاس آیا اس نے آپ کی مجلس میں دیکھا کہ آپ اورصحابہ) بیٹھے ہوئے ہیں بچے آتے ہیں توآپ ان سے پیار کرتے ہیں چومتے ہیں، یہ دیکھ کر اس بدّو نے حیرت سے کہا:

آپ اپنے بچوں کو چومتے بھی ہو، ہم تو ایسا نہیں کرتے، یہ بھی ایک شان سمجھی جاتی تھی ، نبی اکرمؐ نے عجیب بات ارشاد فرمائی:

اگر اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے شفقت کو نکال لیاہے تومیں کیا کرسکتا ہوں میں تیرے دل میں کیسے شفقت ڈال سکتا ہوں۔

اسی طرح بخاری شریف میں آتا ہے ایک موقع پر آپؐ نے سیدنا حسنؓ کوبوسہ دیا وہاں اقرع بن حابس ایک بدو سردار بیٹھے تھے ، اس نے کہا کہ میرے دوچار نہیں، دس بیٹے ہیں لیکن میں نے آج تک ان میں سے کسی کو نہیں چوما، کسی کو پیار نہیں کیا، سردار کا کیا کام ہے بچوں سے پیارکرنا۔

نبی رحمتؐ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور ارشاد فرمایا:

یا درکھو! اگر تم مہربانی نہیں کرو گے تو تم پر بھی مہربانی نہیں کی جائے گی۔ مہربانی اس پر ہوتی ہے جو خود مہربان ہو۔

سیدہ عائشہؓ نے بیان کیا کہ ایک عورت سوال کرتی ہوئی میرے پاس آئی فرماتی ہیں کہ اس وقت میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہیں تھا۔ میں نے وہی اٹھا کر اسے دے دی۔ دوبیٹیاں اس کے ساتھ تھیں ،پتہ نہیں وہ کب کی بھوکی تھیں، میرے پاس ایک کھجور تھی وہ کس کس کو دیتی، اس عورت نے اسے دوحصوں میں تقسیم کیا خود کچھ نہیں لیا بلکہ دونوں بیٹیوں کو آدھا آدھا حصہ دے دیا، سیدہ عائشہؓ نے یہ واقعہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں پیش کیا، بتایا کہ آپ کی غیر حاضری میں اس طرح ہوا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو اس طرح کے شفیق والدین ہوں، ان کی اولاد کیا ہوتی ہے کہ یہی بیٹیاں اس ماں کے لیے آگ سے پردہ اورحجاب بن جائیں گی، اس شفقت ، مہربانی اورادائے حقوق کی وجہ سے اس کو آگ سے بچائیں گی۔

یاد رکھئے بچے اور اولاد پیار محبت کے بھوکے ہوتے ہیں اگر آپ انکو محبت نہیں دینگے تو باہر کے لوگ ان کو اچک لیں گے اور آپ افسوس کرتے رہیں گے، محبت صرف اظہار چاہتی ہے جیسے اللہ بھی اپنی محبت کا اظہار چاہتا ہے اعمال صالحہ کے ذریعہ اسی طرح ہر شخص دل میں چھپی محبت کا اظہار چاہتا ہے،

سوچئے اگر اولاد آپکی محبت کو صرف دل میں رکھے اسکا اظہار نہ کرے نہ سلوک سے نہ اعمال سے نہ خیال رکھ کر تو آپ کیا اندازہ لگائینگے؟ یہی نا کہ اولاد کومجھ سے محبت نہیں ہے، بس جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں ویسے ہی اپنی اولاد کیلئے بنجائیے، اولاد کیلئے آپ بڑے ہیں اور چھوٹے ہمیشہ بڑوں سے سیکھتے ہیں، محبت بھی نفرت بھی عزت بھی توہین بھی قطع تعلقی بھی اور صلہ رحمی بھی، سب کچھ،

دولت خانہ کباڑ خانہ کیسے بنتا ہے؟

حافظ ابن قیم نے کہا کہ بچوں کی خرابی اور آوارگی کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے والدین ان کے بارے میں ذمہ داری ادا نہیں کرتے۔ ٹھیک ہے کہ بچے دوسرے طریقے سے بھی بگڑ جاتے ہیں لیکن بنیادی اوربڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچپن میں ان کے بارے میں ذمہ داری ادا نہیں کی جاتی۔

بچپن میں بچوں کو محبت کا احساس نہ دلایاجائے،
ان سے دوری رکھی جائے،
ان سے حجاب رکھا جائے،
اپنے بچوں پر دوسروں کو ترجیح دیجائےایک بچے کے مقابلے میں دوسرے بچے کو ترجیح دیجائےایک بچے کے قصور کی وجہ سے سب کو اسی طرح سمجھا جائے، اپنے بچوں سے بدظنی رکھی جائے،
بچوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کیاجانا،
دوسرے کی بات پر یقین کرلینا اپنے بچے کو صفائی کا بھی موقع نہ دینا اور اسکو ملزم سمجھ لینا،
بچے کی کسی خوبی پر اسکی حوصلہ افزائی نہ کرنا ،
اسکی صرف خامیوں کو گناتے رہنا خوبیوں کی کبھی تعریف نہ کرنا،
اولاد کا موازنہ بزرگوں سے کرنا،
اولاد کا موازنہ غیر کی اولاد سے کرکے اولاد کو مطعون کرنا،
یہ وہ گھن ہیں جو آپکے دولت خانہ کو کباڑ خانہ بنادیتے ہیں،

بہت سے والدین صرف بچوں کی سنتے ہیں انکے سامنے کسی اور کی نہیں سنتے یہ بھی غلط ہے، بہت سے والدین اپنی صرف کسی ایک اولاد کی سنتے ہیں دوسری اولاد کی بالکل نہیں سنتے ہونا یہ چاہئے کہ دونوں کی طرف کی بات سکون وتسلی سے سامنے بیٹھاکر سنی جائے پھر دلائل کی روشنی میں فیصلہ کیاجائے، اولاد کی ناحق طرف داری یا اسوجہ سے اسکی طرفداری نہ کرنا کہ وہ تو اولاد ہے یہ دونوں عمل عدل وانصاف کے منافی ہیں،
دولت خانہ کو کباڑ خانہ بنانے میں اہم کردار اس بات کا بھی ہے کہ بچوں کے سامنے رشتے داروں کی ، متعلقین کی برائی کیجائے، چھوٹے کے سامنے بڑے کی توہین کیجائے، چھوٹی اولاد کے سامنے بڑی اولاد کو ذلیل کردیا جائے،
اس سے چھوٹی اولاد کے دل سے بڑی اولاد کا تو احترام نکلتا ہی ہے ساتھ ہی باپ کی وقعت بھی کم ہوجاتی ہے،

(۴) بچوں کے ساتھ حسن سلوک بچوں کا حق ہے

روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

میں تمہیں نوجوانوں، چھوٹوں اورنوعمر لڑکوں کے بارے میں حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں، ان سے اچھا سلوک کرو، ان کی عزت اوراحترام کرو اگر ان کی نفسیات کے مطابق طریقے اور سلیقے سے بات ہوتو ان کے دل نرم ہوتے ہیں سنوارے جا سکتے ہیں وہ ہدایت اوراچھی بات کو جلد قبول کر تے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ دل سخت ہوجاتے ہیں ،پھر آدمی ساری عمر کی پختہ عادتیں اور عقائد بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بچے اور نوجوان جلدی بدلتے ہیں بوڑھے اورپختہ عمر کے لوگ اتنی جلدی نہیں بدلتے۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ان سے اچھا سلوک کروگے ، ان کی نفسیات کو سمجھو گے تویہ بہتر طریقے سے تمھارے ساتھ چلیں گے۔ جیسا کہ عرب میں یہ مشہور تھا کہ نوجوانوں سے بھی مشورہ لینا چاہیے وہ بھی کوئی جدید اور اچھی رائے دیں گے اس لیے کہ وہ موجودہ دور کو بھی بہتر سمجھتے ہیں۔
آج کے والدین اپنی اولاد کے ساتھ احترام سے بات کرنے کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں،
میں الحمدللہ اپنے (پانچ سالہ) بیٹے سے بھی “آپ” سے گفتگو کرتا ہوں،
بچے کو سکھانا نہیں پڑتا بلکہ وہ اطراف سے خود سیکھتا ہے، جیسا آپ بچے کیلئے بنیں گے ویسا ہی بچہ آپکو بنکر دکھائیگا، اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچے کو باپ بنا لیاجائے، بلکہ مطلب یہ ہیکہ عزت واحترام ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور انسان میں آپکی اولاد بھی شامل ہے، ہمیں کسی روایت میں نہیں ملتا کہ آپ صلی اللہ علیہ کسی بچے سے بھی بدتمیزی سے بولے ہوں،
بعد والوں کا کوئی عمل حجت نہیں کے نبی رحمت کے سامنے،

(۵) کھیل کود کے لیے ٹائم دینا انکی نفسیات کو سمجھنا اور اتنا اسپیس دینا کہ وہ اپنے دل کی بات بلاجھجھک رکھ سکیں یہ بھی بچوں کا حق ہے:

سیدنا عمرؓکہا کرتے تھے “تمہارے بچے کسی اورزمانے یا کسی اورنسل میں پیدا ہوئے ہوں تو یہ کوئی طعنے اور گھبرانے کی بات نہیں جنریشن گیپ والی بچوں کی سوچ اور ہے اورہماری سوچ اور ہے۔

اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ ماحول یا جدید زمانے کو بہانہ بنا کر دین سے دور ہوجائیں کہ دین توپرانے زمانے کی بات ہے دین تو ہر زمانے کی بات ہے لیکن تعلیم، کلچر اورتہذیب کے اوضاع واطوار جو ہر زمانے میں بدلتے رہتے ہیں ان کو سمجھ کر جو ان میں سے جائز چیزیں ہیں ان کو کوئی قبول کرتا ہے کوئی لیتا ہے تو اسے لینے دینا چاہیے ، اس پر زیادہ قدغن نہیں ڈالنی چاہیے، اخلاقی اوردینی قدریں توہونی چاہئیں لیکن ان سے ہٹ کر یا ان کے اندر رہ کر کوئی تبدیلی آتی ہے تو اس کو قبول کرنا چاہیے۔ اس سے بڑوں کو کمپرومائز کرنا چاہیے اس لیے فرمایا کہ تمھاری اولاد کاکسی اورنسل یا اورزمانے سے تعلق ہے۔
بہت سے والدین اپنی اولاد کو بالکل اپنے سانچے اور اپنی سوچ میں ڈھالنا چاہتے ہیں ایسا ممکن نہیں ایسا اگر ممکن ہوتا تو پوری دنیا مومن نہ سہی لیکن صحیح ذہنیت کی تو ہوتی،
نیز سارے لوگ ایک ہی کام کررہے ہوتے، اذہان کا مختلف ہونا دنیا میں مختلف کاموں کے انجام دینے کا سبب ہے،
بہت سے والدین اپنی اولاد کے تھوڑا سا بدلنے ہر بالکل ان سے لاتعلق ہوجاتے ہیں، یہ کج فہمی یا کم فہمی یا جمود کی علامت ہے،
ان تمام رویوں سے بچوں کی تخلیقی صلاحیت رک جاتی ہے وہ کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتے، انسان کو سب سے پہلا اور بڑا حوصلہ گھر سے ملتا ہے، لیکن جب گھر سے ہی اسکو دھکے ملتے ہیں تو وہ یا تو بکھرجاتا ہے اور اگر وہ انتہائی مضبوط انسان پیدا ہوا ہے تو پھر چمک بھی جاتا ہے،

حضرت عمر کے فرمان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ شروع میں ہی انھیں اپنے جیسا بڑا اوربوڑھا نہ سمجھ لو کہ وہ بچپن کی بات نہ کر سکے یا جوانی کی کوئی جائز بات نہ کر سکے کہ یہ سنجیدہ ہونا چاہیے اوران کو کھیل کود کے قریب نہیں جانا چاہیے میں نے ایسے بڑے نیک والدین دیکھے ہیں کہ اگرچھوٹے بچے بات کرنا شروع کریں تو انہیں خاموش کرا دیا جاتا ہے یہ طریقہ درست نہیں۔ انہیں بھی اچھی بات کہنے کا موقعہ ملنا چاہیے۔
بہت سے والدین اپنے بچے کو صفائی کا موقع بھی نہیں دیتے،

اگر انکے بچے سے متعلق کوئی شکایت ہے، یا بہن بھائیوں کے مسائل کو لیکر بات چیت ہورہی ہو یا والدین کو ہی کسی بات کو لیکر غلط فہمی ہو اور بچہ اسپر اپنی طرف سے صفائی پیش کرے یا اسکی وضاحت کرے یا اپنے من کی بات کہے تو بہت سے والدین اسکو بدتمیزی زبان درازی نافرمانی اور گستاخی سے تعبیر کرتے ہیں، اور پھر اپنی انا کو آڑے لاکر اس بدتمیز نما اولاد سے بلاوجہ کا قطع تعلق کرلیتے ہیں، نہ انکی خبرگیری کرتے ہیں نہ انکی طرف توجہ دیتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے،
حالانکہ اللہ بھی بندوں کو صفائی پیش کرنے کا موقع دینگے،
ماں باپ کا ایسا رویہ بچوں کو احساس کمتری کا شکار بنادیتا ہے ، بہت سے بچوں کو والدین کا ایسا رویہ باغی بنادیتا ہے اور پھر وہ حقیقت میں نافرمان اور باغی طاغی جو کچھ بھی بن سکتا ہے وہ بن جاتا ہے اور اس سب میں ہاتھ والدین کے رویے کا ہی ہوتا ہے، اسکا بھی قیامت میں سوال ہوگا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

No Comments

Leave a Reply