مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی استاذ معہدالشریعة الاسلامیہ اکرام نگر موانہ ضلع میرٹھ یوپی
ہر کسی کی زبان پر رہا ہےیہ نعرہ
قومی فخر کی علامت بن گیا ’جے ہند
جے ہند ایک ایسا نعرہ ہے جس سے ہندوستان کا ہر شہری واقف ہے اور کبھی نہ کبھی انہیں یہ موقع ضرور ملتا ہے کہ وہ جئے ہند کا نعرہ لگائیں۔ اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اس نعرہ کا خالق کون ہے ؟
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اسکے خالق سبھاش چندر بوس ہیں !
لیکن نہیں ! حقیقت یہ ہیکہ اسکے خالق “ عابد حسن صفرانی “ ہیں جنکا اصل نام “زین العابدین حسن “ ہے
نہ صرف فوج اور پولیس بلکہ عوام کے درمیان بھی جے ہند کا نعرہ خاصی اہمیت کا حامل ہے- فوج اور پولیس کی کوئی پریڈ ایسی نہیں ہے جو اس نعرے کے بغیر مکمل ہوتی ہو- اسی طرح حب الوطنی سے لبریز کوئی تقریب ہو یا سیاسی لیڈران کی تقاریر، تمام کے تمام پروگرام اس نعرے کے بغیر ادھورے ہیں – یہاں تک کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس بھی عوام اور آزاد ہند فوج کے فرزانوں میں جوش بھرنے کے لئے جے ہند کا نعرہ لگواتے تھے- لیکن کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ یہ نعرہ عابد حسن سفرانی کی اختراع ہے،
سابق سیول ملازم نریندر لوتھر نے اپنی کتاب ’’لیجنڈ ڈوٹس آف حیدرآباد ‘‘ میں انتہائی دلچسپ مضامین پیش کئے ہیں جو دستاویزی شہادتوں ، انٹرویوز اور شخصی تجربات پر مشتمل ہیں اور ان مضامین میں سے ایک مضمون ’’جئے ہند‘‘ نعرہ کی اصلیت پر روشنی ڈالتا ہے ۔ نریندر لوتھر کے مطابق اس نظریہ کے خالق زین العابدین حسن ہیں جو حیدراباد کے ایک کلکٹر کے فرزند تھے،
عابد حسن صفرانی کی پیدائش 1912 حیدرآباد میں ایک محب وطن خاندان میں ہوئی تھی-صفرانی انجینیرنگ کی پڑھائی امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے برلن چلے گئے تھے- اپنے برلن قیام کے دوران ہی آزاد ہند فوج سے متاثر ہوکر اس میں شمولیت اختیار کر لی-
ہوا یوں کہ د وسری جنگ عظیم کے دوران نیتاجی سبھاش چندر بوس جرمنی فرار ہوگئے تھے جہاں وہ ہندوستان کی آزادی کے لئے ایک مسلح جدوجہد کی تائید کے خواہاں تھے۔
انہوں نے جنگی قیدیوں اور دیگر ہندوستانیوں کے کئی اجلاس سے خطاب کیا تھا اور ان سے خواہش کرتے تھے کہ وہ ہندوستان کی آزادی کیلئے ان کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔ اسی وقت حسن سے ان کی ملاقات ہوئی تھی جہاں حسن نے نیتاجی سے کہا تھا کہ وہ ان کے جذبہ حب الوطنی اور قربانی سے بہت متاثرہیں اور وعدہ کیا تھا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ نیتاجی کے ساتھ شامل ہوجائے گا جس پر نیتاجی نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ چھوٹی موٹی چیزوں کی (تعلیم) پرواہ کرے گا تو زندگی میں بڑے بڑے کام کب کرے گا ؟ ۔ یہ بات سن کر حسن نے تعلیم ترک کردی اور نیتاجی کا سکریٹری بن گیا ،
ان کی قائدانہ صلاحیت سے نیتا جی بھی خاصے متاثر تھے- ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر نیتا جی نے تنظیم کی اہم ذمہ داریاں ان کے سپرد کیں -صفرانی حیرت انگیز طور پر اپنی مادری زبان کے علاوہ انگریزی، جرمن، فرانسیسی، عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی، تیلگو، اردو، پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں روانی کے ساتھ گفتگوکرتے تھے-
عابد حسن صفرانی کو آزاد ہند فوج کی گاندھی بریگیڈ کی کمان بھی دی گئی،
جنگ آزادی پرلکھی جانے والی متعدد کتابوں میں عابد حسن صفرانی کی زندگی سے متعلق اور بھی بہت سی پرتیں کھلتی ہیں۔تاریخ داں نصیراحمد اپنی کتاب‘دی یمورتل’میں لکھتے ہیں،“ سبھاش چندر بوس کو سب سے پہلے صفرانی نے ہی نیتا جی کہا تھا۔ اس کے بعد یہ اتنا مقبول ہوا کہ ہر کوئی انھیں اسی نام سے جاننے لگا۔اسی طرح مصنف نریندر لوتھراپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ عوام اور آزاد ہند فوج کے استقبال کے لئے نعرہ لکھنے کی ذمہ داری صفرانی کو دی گئی۔ انہوں نے سب سے پہلے ہیلو لفظ تجویز کیا جس پر نیتا جی ناراض ہوگئے۔ اس کے بعد جئے ہند کا نعرہ دیا گیا جو آج تک مقبول ہے۔
جسے بعد میں سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند فوج کے لئے منتخب کر لیا- نیتا جی نے ا س نعرے کو عوام کے جذبے کوآزادی کے لئے بیدارکرنے کا ذریعہ بنایا- یہ اتنا مقبول ہوا کہ پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی سمیت تمام معروف رہنماؤں نے بھی اسے اپنا لیا- آج بھی اس نعرے کی تاثیر پہلے جیسی ہے- ملک کا محب وطن شہری اس نعرے کو لگا کرخود کے ہندوستانی ہونے پرفخر کرتا ہے- نعرے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ملک میں زبان، مذھب، اور ثقافت کے نام پر نفرت پھیلانے والے تنگ نظرسیاست دانوں کو بھی اس پر عتراض نہیں ہےچودھری اچاریہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ صفرانی صاحب نے یہ نعرہ فری انڈیا سنٹرس کے پہلے اجلاس میں تجویز کیا تھا- یہ اجلاس 1941میں ہندوستان کی حصول آزادی کے سلسلے میں برلن میں منعقد کیا گیا تھا- سبھاش چندر بوس کو یہ نعرہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے ہمیشہ کے لئے اسے اپنا لیا- وہ نیتا جی کے قریبی ساتھی کی حیثیت سے آخری وقت تک ان کے ساتھ رہے-وہ نیتا جی کے جرمنی کے ان کے آخری سفرمیں بھی ساتھ تھے- اس سفر کی روداد نیتا جی کےبھتیجے سیسرکمار بوس کی کتاب ”آئی ان اے ان انڈیا ٹوڈے” میں محفوظ ہے،
ان کے بارے میں ایک اور دلچسپ قصّہ بیان کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فوج کے جھنڈے میں رنگ کے انتخاب کی بات آئی توہندو فوجیوں نے بھگووا رنگ کے پیروی کی۔ جبکہ مسلمانوں نے ہرے رنگ کے استعمال پر زور دیا۔ اس کے بعد ہندو فوجیوں نے اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ سفرانی صاحب کے دل پر اس بات کا گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے ہندو فوجیوں کے جذبات کے احترام میں اپنے نام کے ساتھ لاحقہ کے طور پر صفرانی جوڑ لیا۔ آپ کا اصلی نام زین العابدین تھا۔
آج بھی حیدرآباد کے ٹرمپ بازار میں ”عابد منزل” کے نام سے ان کا آبائی گھر موجود ہے-
افسوس کہ متعصب ذہنیت رکھنے والے ناخلف لوگوں نے ایسے خدام قوم لوگوں کو بھلادیا، یہ احسان فراموشی نہیں تو کیا ہے؟ ہمیں اپنی نسلوں کو ان حقائق سے روشناس کرنا اور رکھنا ہے ورنہ تو تاریخ آپکو معاف نہیں کرے گی

No Comments