سیدوں یعنی اولاد حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور نفرت
قسط(۲)
بقلم (مفتی) محمدعطاءاللہ سمیعی استاذ عربی معہدالشریعة الاسلامیہ اکرام نگر موانہ ضلع میرٹھ یوپی
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز خواہ وہ لباس ہو ، جگہ ہو یا آپ کی آل و اولاد ہو ان سب کا ادب و احترام اور دل کی گہرائیوں سے ان کی تعظیم و توقیر کرنا عشق و محبت کا تقاضا ہے۔ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز عظیم ہوجاتی ہے مثلاً نسبتِ نکاح ملنے سے اُمّہاتُ المؤمنین اور ازواجِ مطہرات ، نسبتِ صحبت ملنے سے صحابیت اور نسبتِ اولاد ملنے سے سِیادَت کا شرف میسر آتا ہے۔ آپ کی اولاد جسے ہم ادب سے آلِ رسول اور ساداتِ کرام کہتے ہیں اسے بھی پیار اور احترام کی نِگاہ سے دیکھا جائے یہی مَحبّتِ رسول کا تقاضا ہے۔
يادرکھئے!محبتِ سادات کامل ایمان کی علامت ہے ،
اہلِ بیت سے محبت رکھنے کے متعلق۔
بزرگانِ دین ساداتِ کرام کی خدمت میں پیش پیش نظر آتے تھے چنانچہ ایک سیّد زادے جب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کسی کام سے تشریف لائے تو اِس موقع پر آپ نے سیّد زادے سےعرض کی : اگر آپ کو کوئی کام ہو تو آپ مجھے طلب فرما لیا کریں یا مجھے خط لکھ کر بھیج دیا کیجئے۔ آپ
کو اپنے دروازے پر کھڑا دیکھ کر مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔
حضرت علی خَوّاص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ساداتِ کرام
کا ہم پر حق تو یہ ہے کہ ہم اپنی روحیں اُن پر قربان کر ڈالیں کیوں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مبارَک خون اور گوشت اُن میں سَرایت کئے ہوئے ہے ، وہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ٹکڑا ہیں اور تعظیم و توقیر میں جُزء کا وہی دَرَجہ ہے جو کُل کا ہے۔ جس طرح رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زندگی میں جُزء کی حُرمت تھی وہی حکم اب بھی ہے۔ بعض اہلِ علم نے یہاں تک فرمایا ہے کہ سادات ِکرام اگرچہ نسب میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کتنے ہی دور ہوں اُن کا ہم پر حق ہے کہ اپنی خواہشوں پر اُن کی رضا کو مقدم کریں اور اُن کی بھرپور تعظیم کریں اور جب یہ حضرات زمین پر تشریف فرما ہوں تو ہم اُونچی نشست پر نہ بیٹھیں۔
محبتِ رسول کا تقاضا ہے کہ ہم ساداتِ کِرام کی تعظیم کریں۔ جو ساداتِ کِرام کی تَوہین و گستاخی کرے ، اِن سے دُشمنی رکھے یا کسی بھی طریقے سے اِن کی بے ادبی کرے تو یقیناً ایسا شخص اپنے محبتِ رسول کے دعوے میں جُھوٹا ہے اور اپنے اِس عمل سے نہ صرف اِنہیں بلکہ اِن کے جَدِّ امجد ، حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی ناراض کرتا ہے اور تکلیف پہنچاتا ہے چُنانچہ امام عبدُالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : سَیِّد شریف نے حضرت خَطَّاب رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں بَیان کیا کہ کاشِفُ الْبُحَیْرَہ نے ایک سَیِّد صاحِب کو مارا تو اُسے اسی رات خواب میں حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اِس حال میں زِیارت ہوئی کہ آپ اُس سے اِعْرَاض فرما رہے ہیں (یعنی رُخِ اَنْوَر پھیر رہے ہیں)۔ اُس نے عَرض کی : یارسولَ اللہ! میرا کیا گناہ ہے؟ فرمایا : تُو مجھے مارتا ہے ، حالانکہ میں قِیامت کے دِن تیرا شَفِیْع (یعنی شفاعت کرنے والا) ہوں۔ اُس نے عَرْض کی : یارسولَ اللہ! مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو مارا ہو۔ ارشاد فرمایا : کیا تُو نے میری اَوْلاد کو نہیں مارا؟ اُس نے عَرْض کی : ہاں۔ فرمایا : تیری ضَرْب (مار) میری ہی کَلائی پر لگی۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی مُبارَک کَلائی نکال کر دِکھائی جس پر وَرم تھا جیسے کہ شہد کی مکّھی نے ڈنک مارا ہو۔
سادات اور اہل بیت سے محبت کی وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر بیان فرمائی ہے اور تاکید فرمائی ہے اسکو واجب قرار دیا ہے کچھ روایات پیش خدمت ہیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : لَمَّانَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : (قُلْ لاَّ أَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمًوَدَّةَ فِي الْقُرْبَي) قَالُوْا : يَارَسُوْلَ اللهِ، مَنْ قَرَابَتُکَ هَؤُلاءِ الَّذِيْنَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ : عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت : (قُلْ لاَّ أَسْئَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمًوَدَّةَ فِي الْقُرْبَي) نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا :
یا رسول اللہ! آپ کی قرابت کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے (حسن و حسین)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 5 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 47، الرقم : 2641، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 168
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَحِبُّوْا اﷲَ لِمَا يَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِه، وَأَحِبُّوْنِي بِحُبِّ اﷲِ لوَأَحِبُّوْا اَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ
’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اور مجھ سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کے سبب محبت کرو اور میرے اہلِ بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔‘‘
،تمام نبیوں کے سالارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا:جو میرے اَہلِ بَیْت میں سے کسی کے ساتھ اچّھا سُلوک کرےگا،میں روزِ قِیامت اِس کا صِلہ(بَدْلَہ) اُسے عطا فرماؤں گا۔(جامع صغیر، ص۵۳۳، حدیث:۸۸۲۱)
حضرت علی فرماتے ہیں لقد عہد الی النبی الامی ﷺ أنہ لا یحبک الا مؤمن، ولا یبغضک الا منافق۔ (ترمذی)
کہ تم سے صرف مومن محبت رکھے گا اور منافق بغض رکھے گا، اسمیں آپکی آل واولاد سب داخل ہے
ایک لمبی روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا خطبہ دیا غدیر خم کے مقام پر اسمیں فرمایا
۔صحيح مسلم (4 / 1873):
عن زید بن ارقم قال ۔۔۔۔۔قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم«وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي». فقال له حصين: ومن أهل بيته؟ يا زيد! أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم”.
ترجمہ: ۔۔۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اور دوسری چیز) میرے اہلِ بیت ہیں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے لحاظ (یاد رکھنے) کی تاکید کرتاہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے لحاظ (یاد رکھنے) کی تاکید کرتاہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے لحاظ (یاد رکھنے) کی تاکید کرتاہوں۔ (یہ سن کر) راوی حدیث حصین رحمہ اللہ نے حضرت زید بن ارقم سے کہا: اہلِ بیت سے مراد کون ہیں؟ اے زید کیا آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں سے نہیں ہیں؟ (کیوں کہ بنیادی طور پر مذکورہ خطبہ ’’غدیرِ خم‘‘ کے مقام پر درحقیقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا تھا، اس پس منظر کی وجہ سے راوی نے مذکورہ سوال کیا) تو حضرت زید بن ارقم نے فرمایا: (ہاں!) آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں ہیں، لیکن (یہاں مراد) اہلِ بیت (سے) وہ ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ کے بعد صدقہ حرام ہے۔ راوی نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ راوی نے کہا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں!
عَنْ عَبْدِ الرحمٰن بْنِ عَوْفٍ قَالَ : افْتَتَحَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مَکَّةَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَي الطَّاءِفِ فَحَاصَرَهُمْ ثَمَانِيَةً أَوْسَبْعَةً، ثُمَّ أَوْغَلَ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً ثُمَّ نَزَلَ ثُمَّ هَجَرَ. ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَکُمْ فَرَطٌ وَ إِنِّي أُوْصِيْکُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمْ الْحَوْضُ . . . الحديث.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا پھر طائف کا رخ کیا اور اس کا آٹھ یا سات دن محاصرہ کئے رکھا پھر صبح یا شام کے وقت اس میں داخل ہو گئے پھر پڑاؤ کیا پھر ہجرت فرمائی اورفرمایا : اے لوگو! بے شک میں تمہارے لئے تم سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور بے شک میں تمہیں اپنی عترت کے ساتھ نیکی کی وصیت کرتا ہوں اور بے شک تمہارا ٹھکانہ حوض ہو گا ۔ ۔ ۔ الحديث۔‘‘ اِس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
الحديث رقم 3 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 2 / 131، الرقم : 2559.
اسکے بعد بھی اگر کوئی سادات کی نفرت دل میں رکھے اور انکو ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچائے تو ایسا شخص اپنے دعوی حب نبی میں جھوٹا ہے
وماعلینا الالبلاغ
ختم شد

No Comments