اللہ کے نزدیک جھوٹا شمار ہونے کیلئے صرف اتنا کام کرنا کافی ہے
محمد عطاءاللہ سمیعی
www.atasamiee.in
اسلام انسان کو زبان اور خبر دونوں کے استعمال میں احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ آج سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں یہ احتیاط پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کسی خبر، تصویر، ویڈیو یا آڈیو کی تحقیق کیے بغیر اسے آگے بھیج دیتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرزِ عمل کو جھوٹ کا سبب قرار دیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
ترجمہ:
“آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمارے لیے ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات قابلِ اعتماد نہیں ہوتی، اس لیے بغیر تحقیق اسے دوسروں تک پہنچانا گناہ اور معاشرتی فساد کا سبب بن سکتا ہے۔
سنی سنائی بات پھیلانے کا پہلا نقصان: بدگمانی
جب لوگ غیر مصدقہ خبریں پھیلاتے ہیں تو معاشرے میں بدگمانیاں جنم لیتی ہیں۔ کسی کے بارے میں ایک افواہ یا بے بنیاد بات پھیل جائے تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و وقار متاثر ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
(الحجرات: 12)
ترجمہ:
“اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بلا دلیل دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرنا جائز نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر اکثر افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں بدگمانی ہی کو فروغ دیتی ہیں۔
دوسرا نقصان: بہتان اور جھوٹا الزام
بعض اوقات ایک شخص کسی کے بارے میں کوئی بات سن لیتا ہے اور تحقیق کیے بغیر اسے آگے بیان کر دیتا ہے۔ اگر وہ بات حقیقت کے خلاف ہو تو یہ بہتان بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا:
“کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟”
صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اپنے بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرنا جو اسے ناگوار ہو۔”
عرض کیا گیا: اگر وہ بات واقعی اس میں موجود ہو تو؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔”
(صحیح مسلم)
لہٰذا کسی شخص کے متعلق غیر مصدقہ خبر آگے بڑھانا انسان کو غیبت، بہتان اور جھوٹ جیسے سنگین گناہوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔
تیسرا نقصان: بے گناہوں کو نقصان پہنچنا
غلط خبروں کی بنیاد پر بعض اوقات کسی کی عزت، کاروبار، ملازمت یا خاندانی زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔ بعد میں اگر خبر جھوٹی ثابت ہو جائے تو نقصان کی تلافی ممکن نہیں رہتی۔
اسی لیے قرآن کریم نے خبر کی تحقیق کا حکم دیا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾
(الحجرات: 6)
ترجمہ:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔”
یہ آیت آج کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
AI کے دور میں احتیاط کی ضرورت
آج مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے دنیا کو حیران کن سہولتیں دی ہیں، لیکن اس کے غلط استعمال کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔
اب کسی شخص کی ایک عام سی تصویر لے کر اس کی جعلی اور قابلِ اعتراض تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔ کسی کی آواز کا نمونہ حاصل کرکے ایسی آڈیو تیار کی جا سکتی ہے جو بالکل اصل معلوم ہو۔ اسی طرح کسی شخص کی ویڈیو بنا کر اس میں ایسے جملے شامل کیے جا سکتے ہیں جو اس نے کبھی کہے ہی نہ ہوں۔ ان جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کو “ڈیپ فیک” (Deepfake) کہا جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں محض کسی ویڈیو، تصویر یا آڈیو کو دیکھ کر یقین کر لینا دانشمندی نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر خبر اور ہر مواد کی تحقیق کرے، خصوصاً جب اس کا تعلق کسی کی عزت، کردار یا دین سے ہو۔
ہماری ذمہ داری
- ہر خبر کو فوراً فارورڈ نہ کریں۔
- خبر کے ماخذ اور حقیقت کی تحقیق کریں۔
- کسی کی عزت اور آبرو کو نقصان پہنچانے والے مواد سے اجتناب کریں۔
- سوشل میڈیا پر ذمہ داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کریں۔
- قرآن و سنت کے اصولوں کو خبر رسانی اور تبصرہ میں پیش نظر رکھیں۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن کریم کی ہدایات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ بغیر تحقیق ہر سنی سنائی بات کو آگے پہنچانا درست نہیں۔ اس سے بدگمانی، بہتان، جھوٹ، باہمی نفرت اور معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے۔ خصوصاً AI اور ڈیپ فیک کے اس دور میں تحقیق، احتیاط اور ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ ایک مسلمان کی شان ہے کہ وہ سچائی کا علمبردار ہو، افواہوں کا نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زبان اور سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین