Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

ارتداد کے بڑھتے ہوئے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں

ارتداد کے بڑھتے ہوئے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں

محمد عطاءاللہ سمیعی
www.atasamiee.in

آج امتِ مسلمہ کو جن سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ارتداد کا بڑھتا ہوا فتنہ نہایت تشویش ناک ہے۔ یہ مسئلہ صرف مسلم لڑکیوں تک محدود نہیں بلکہ بڑی تعداد میں مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مختلف فکری، تعلیمی، معاشی اور سماجی اسباب کی بنا پر اپنے دین، تشخص اور اسلامی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض رپورٹوں میں لاکھوں مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا ذکر ملتا ہے، جو پوری ملت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اس فتنے کا ایک بڑا سبب دینی تربیت اور دینی تعلیم کا فقدان ہے۔ جب گھروں میں قرآن کریم، اسلامی عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ اور دینی ماحول کمزور پڑ جاتا ہے تو نئی نسل کی مذہبی شناخت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایمان کی مضبوطی علمِ دین سے پیدا ہوتی ہے، اور جب بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم دی جائے اور دین سے ناواقف رکھا جائے تو ان کے لیے حق و باطل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

معاشی تنگی اور غربت بھی ارتداد کے اسباب میں شامل ہے۔ بہت سے غریب خاندان روزگار اور بنیادی ضروریات کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں بعض اسلام دشمن عناصر مال، ملازمت اور بہتر زندگی کا لالچ دے کر کمزور ایمان رکھنے والوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ بعض لڑکیاں آسائشوں کے خواب دیکھ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی جاتی ہیں اور بعد میں ان کا انجام انتہائی افسوس ناک ثابت ہوتا ہے۔

تاہم موجودہ دور میں سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی نظام کا ہے۔ آج مسلمانوں کی بھاری اکثریت اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں بھیج رہی ہے جہاں عصری علوم تو سکھائے جاتے ہیں لیکن دینی تربیت، اسلامی شناخت اور ایمانی تحفظ کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔ تعلیم کا مطلب صرف ڈگری، ملازمت اور دنیاوی ترقی سمجھ لیا گیا ہے، حتیٰ کہ شادی بیاہ کے فیصلے بھی اسی بنیاد پر ہونے لگے ہیں۔ نتیجتاً مسلمانوں کے بیشتر بچے غیر اسلامی ماحول میں پرورش پاتے ہیں، جہاں غیر مسلم تہذیب و ثقافت سے مرعوبیت پیدا ہوتی ہے، غیر مسلم لڑکے لڑکیوں سے تعلقات بنتے ہیں اور رفتہ رفتہ دین سے دوری بڑھتی جاتی ہے۔

مخلوط تعلیم، سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال، ناجائز تعلقات، شادیوں میں غیر ضروری تاخیر، جہیز اور فضول رسم و رواج بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ انسان اپنے ماحول اور دوستوں سے متاثر ہوتا ہے، اس لیے جب تربیت اور صحبت غیر اسلامی ماحول میں ہو تو اس کے اثرات عقائد اور کردار دونوں پر پڑتے ہیں۔

ارتداد کے بڑھتے ہوئے اسباب میں خوف بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بعض لوگ معاشرتی دباؤ، حکومتی خوف، سفر کی مشکلات یا سیکولر ذہنیت کے زیر اثر اپنی اسلامی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کھل کر مسلمان بن کر رہے تو انہیں نقصان پہنچے گا، حالانکہ یہ کیفیت ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ پر یقین میں کمی کی علامت ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور افسوس ناک رجحان بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑنے کا بڑھتا ہوا رواج ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کو دنیا کمانا تو سکھایا گیا لیکن والدین کی خدمت، آخرت کی جواب دہی اور اسلامی اخلاقیات سے دور رکھا گیا۔ جب دینی تربیت کمزور ہو جاتی ہے تو خاندانی نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

نوجوانوں سے ملاقاتوں اور مختلف جائزوں کے دوران ایک اور غلط فہمی سامنے آئی کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں اسلام اور علماء دنیاوی ترقی کے مخالف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ دیندار بن گئے تو نہ ڈاکٹر بن سکیں گے، نہ انجینئر، نہ کامیاب تاجر، نہ اچھی زندگی گزار سکیں گے۔ یہی سوچ انہیں دینی ماحول، علماء اور مساجد سے دور کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام ترقی کے خلاف نہیں بلکہ بے دینی کے خلاف ہے۔ امت کو ایسے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، تاجر اور ماہرین کی ضرورت ہے جو اپنے دین، عقیدے اور اسلامی شناخت پر بھی مضبوطی سے قائم ہوں۔ اسی مقصد کے لیے ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جہاں جدید علوم کے ساتھ قرآن، حدیث، عقائد، اسلامی تہذیب اور اخلاقیات بھی پڑھائی جائیں۔ جہاں بچوں کے دلوں میں ایمان کی عظمت، آخرت کا یقین، والدین کی خدمت، حلال و حرام کی پہچان اور اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کیا جائے۔ جہاں انہیں یہ سکھایا جائے کہ دنیا عارضی ہے، موت یقینی ہے اور ایمان دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی دولت ہے۔

اسی سوچ کے تحت ایسے تعلیمی وغیر تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں لوگوں کی دنیاوی ضروریات مثلا مالی تنگی یا بیماری وقرضوں کے بوجھ میں دبے لوگوں کو راحت دیجائے اور طلبہ کو وہ تمام عصری علوم حاصل ہوں جن کی انہیں ضرورت ہے، لیکن ایسا دینی ماحول بھی میسر ہو جو ان کے ایمان، عقیدے اور اسلامی تشخص کی حفاظت کر سکے۔ جنکا مقصد صرف ایک اسکول قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی نسل تیار کرنا ہو جو علم میں ممتاز، کردار میں پاکیزہ، ایمان میں مضبوط اور اپنے دین پر فخر کرنے والی ہو۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو دینی ماحول میں معیاری تعلیم فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان شاء اللہ ارتداد، فکری گمراہی اور اخلاقی زوال کے بہت سے اسباب کا مؤثر سدباب ممکن ہو جائیگا