Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • (واذا الموؤدة سئلت) زندہ درگور ہوئی لڑکی سے سوال کیوں ہوگا؟ سوال تو قاتل سے ہونا چاہئے

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • (واذا الموؤدة سئلت) زندہ درگور ہوئی لڑکی سے سوال کیوں ہوگا؟ سوال تو قاتل سے ہونا چاہئے

(واذا الموؤدة سئلت) زندہ درگور ہوئی لڑکی سے سوال کیوں ہوگا؟ سوال تو قاتل سے ہونا چاہئے

(واذا الموؤدة سئلت) زندہ درگور ہوئی لڑکی سے سوال کیوں ہوگا؟ سوال تو قاتل سے ہونا چاہئے!
ایک اشکال کا تحقیقی جواب

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

سوال
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب میرا ایک سوال ہے جو کسی اور صاحب نے مجھ سے کیا ہے وہ یہ کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا واذاالموؤدة سئلت کہ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائیگا کہ اسکو قتل کیوں کیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ مقتول یعنی مظلوم سے سوال کیوں ہوگا کہ اسکو کس جرم میں مارا گیا؟ سوال تو قاتل یعنی ظالم سے ہونا چاہئے کہ اس نے کیوں مارا؟

براہ کرم اسکا جواب باحوالہ اور تشفی بخش دیجئے
والسلام
ابوطلحہ مقیم مدینہ منورہ

جواب
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

قرآن مجید کی آیت “وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ، بِأَىِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ”
(سورۃ التکویر: 8-9) کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن زندہ درگور کی گئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا: “کس گناہ کے بدلے تمہیں قتل کیا گیا؟”

یہ سوال بظاہر مقتول (زندہ دفن کی گئی لڑکی) سے کیا جا رہا ہے، حالانکہ عام طور پر توقع کی جاتی ہے کہ ظالم (قاتل) سے سوال ہوگا۔ علماء نے اس کی حکیمانہ وضاحت پیش کی ہے، جو درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

1. قرآنی اسلوب: مظلوم کی گواہی کو ظاہر کرنا

(1) مظلوم کی بے گناہی ظاہر کرنا

سوال کا مقصد ظالم سے بازپرس کے بجائے مقتول کی بے گناہی کو نمایاں کرنا ہے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ (تفسیر کبیر) فرماتے ہیں:

“سوال مقتول سے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظلم اور ناانصافی ہوئی، قیامت کے دن اس مظلوم کی بے گناہی اور ظالم کے جرم کو پوری کائنات کے سامنے واضح کیا جائے۔”
(تفسیر کبیر، جلد 11، صفحہ 191)

(2) زبانِ حال سے سوال

یہ سوال زبانِ حال کا ہوگا، یعنی درحقیقت لڑکی کو بولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ خود اس کے حق میں گواہی دے گا، اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ ظالم کی زیادتی کو ظاہر کیا جائے۔

“ہٰذا السوال لیس للاستفہام بل للتوبیخ وفضیحة الظالم”
(روح المعانی، علامہ آلوسی، جلد 30)

2. ظالم کی مذمت اور رسوائی کا پہلو

(1) ظالم کو براہ راست جوابدہ بنانا

اگرچہ ظالم سے سوال بھی ہوگا، لیکن یہاں مظلوم سے سوال کرنے میں ایک خاص حکمت ہے:
• یہ سوال ظالم کے لیے سب سے بڑی رسوائی اور شرمندگی پیدا کرے گا، کیونکہ اس کے ظلم کو ایک مظلوم کی زبانی واضح کیا جائے گا۔
• اس اسلوب سے ظالم کی زیادتی اور جرم کو نمایاں طور پر بے نقاب کیا جاتا ہے۔

علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“السؤال هنا لتعظيم الجريمة وتوبيخ القاتل، فجعل السؤال للمقتولة كأنه لسان الحال: ما ذنبها؟ ليكون أبلغ في الفضيحة.”
(تفسیر قرطبی، جلد 20، صفحہ 27)

3. سوال ظالم کے خلاف گواہی کے لیے ہے

(1) مظلوم کو گواہ بنایا جانا

قیامت کے دن مظلوم کو گواہ بنایا جائے گا تاکہ ظالم کے خلاف فیصلہ صادر ہو۔
قرآن مجید میں دیگر مظلوموں کے بارے میں بھی فرمایا گیا ہے:

“وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ”
(سورۃ التکویر: 11)
ترجمہ: “اور جب رسولوں کو ان کے مقرر وقت پر لایا جائے گا۔”

اسی طرح ہر مظلوم کے حق میں انصاف ہوگا، اور ان سے سوال محض ان کی بے گناہی کو ظاہر کرنے کے لیے ہوگا۔

(2) دوسرے مقامات پر ظالم سے سوال

قرآن میں متعدد مقامات پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ ظالم سے اس کے گناہوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، جیسے:

“فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ، عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ”
(سورۃ الحجر: 92-93)
ترجمہ: “تو تمہارے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، ان کے اعمال کے بارے میں۔”

قریبی علماء کی تشریح

(1) مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:

“یہ سوال ظالم کے خلاف گواہی کے لیے ہوگا اور مظلوم کے حق کو قیامت کے دن نمایاں کرنے کے لیے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کو قیامت کے دن مکمل انصاف دلائے گا۔”
(بیان القرآن، سورۃ التکویر)

(2) علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ

حضرت عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“یہ سوال مقتول کی بے گناہی کے اظہار اور ظالم کے جرم کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے ہوگا، تاکہ قیامت کے دن ظالم کی رسوائی سب کے سامنے ہو۔”
(تفسیر عثمانی، سورۃ التکویر)

5. سلف صالحین کی رائے

(1) امام طبری رحمہ اللہ

امام طبری فرماتے ہیں:

“المقتولة تُسأل للتوبيخ على قاتلها، لا للاستفهام عن حالها، فالله يعلم ذنبها أنها بريئة، لكن ليشهد على القاتل بعظيم جرمه.”
(تفسیر طبری، جلد 24، صفحہ 54)
ترجمہ: “مقتول سے سوال ظالم کو شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا، کیونکہ اللہ پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے، لیکن اس سے سوال ظالم کی سنگینی کو ظاہر کرنے کے لیے ہوگا۔”

ابن قیم فرماتے ہیں:

“السؤال للمظلومة ليكون شهادة عليها أمام الخلق جميعًا، وتوبيخًا لقاتلها، فهذا من عدل الله وكمال حكمته.”
(زاد المعاد، جلد 4، صفحہ 45)
ترجمہ: “مظلوم سے سوال اس کی گواہی کے لیے ہوگا اور ظالم کے لیے توہین کا باعث بنے گا، اور یہ اللہ کی عدل اور حکمت کا مظہر ہے۔”

خلاصہ
1. مظلوم سے سوال درحقیقت زبانِ حال یا گواہی کے طور پر ہے، تاکہ اس کی بے گناہی ظاہر ہو اور ظالم کی رسوائی ہو۔
2. ظالم سے بازپرس بھی ہوگی، لیکن مظلوم کو سامنے لا کر سوال کرنا ظالم کے جرم کی شدت اور مظلوم کے حق کی وضاحت کے لیے ہے۔
3. یہ قرآن کے اسلوب اور اللہ کی حکمت کا حصہ ہے، تاکہ قیامت کے دن مظلوم کے ساتھ مکمل انصاف ہو۔

واللہ اعلم بالصواب

محمدعطاءاللہ سمیعی

Comment: 1

  • Tanveer ul Islam Malik Kashmir

    Reply February 1, 20255:20 am

    Mashallah qabili tashffi bakhsh jawaab

Post a Reply to Tanveer ul Islam Malik Kashmir Cancel Reply