Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تعارف
  • مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی کا مختصر تعارف

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تعارف
  • مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی کا مختصر تعارف

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی کا مختصر تعارف

اس ویب سائٹ پر حضرت مفتی عطاءاللہ سمیعی دامت برکاتہم سے متعلق مواد نشر کیا جاتا ہے،حضرت مفتی صاحب نوجوان باصلاحیت اور قابل عالم دین ہیں۔ 

نام : مفتی محمدعطاءاللہ 

والد : حضرت مولانا سعیداللہ مظاہری ناظم معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

ابن مولانا سمیع اللہ رحمة اللہ علیہ شاگرد رشیدشیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ، وبانی و سابق صدرالمدرسین مدرسہ قاسمیہ تعلیم الاسلامیہ سٹھلہ ضلع میرٹھ یوپی الہند۔

 آپ ضلع بستی کے رہنے والے تھے لیکن انہوں نے ضلع میرٹھ کے ایک گاؤں سٹھلہ میں ایک مدرسہ قائم فرمایا اور وہیں اپنی زندگی کے قیمتی ۵۲ سال گزار دئیے ،یہاں تک کہ وہیں آپکی آخری آرام گاہ بنی،

مولانا سمیع اللہ کے شاگردوں میں وقت کے بڑے بڑے علماء شامل ہیں جیسے مدرسہ شاہی مرادآباد کے صدر مفتی حضرت مفتی شبیر صاحب دامت برکاتہم ، دارالعلوم میرٹھ کے شیخ الحدیث مولانا خورشید صاحب دامت برکاتہم ، بڑے موانہ کے شہر قاضی مولانا نفیس احمد خاں صاحب ، آپکے بڑے صاحبزادے معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ کے ناظم حضرت مولانا سعیداللہ صاحب ، جدہ ریڈیو میں مولانا لئیق اللہ خان ، مدرسہ عائشہ للبنات موانہ کے مہتمم مولانا سید نفیس احمد قاسمی ، جمعیت علماء ضلع میرٹھ کے ناظم اور دارالعلوم میرٹھ کے استاذ عربی مولانا سلمان صاحب ،وغیرہ ایک بڑی لمبی فہرست ہے،

آپ اپنے دادا کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہی اپنے آپکو “سمیعی” لکھتے ہیں،

تاریخ ومقام  پیدائش : 6  صفر المظفر 1410 ھ مطابق 7 ستمبر 1989ء بروز جمعرات بوقت نو بجے شب بمقام مالیگاؤں مہاراشٹر

تعلیمی مدارس: (۱)مدرسہ قاسمیہ تعلیم الاسلام سٹھلہ 

(۲) جامع مسجد پرانا مصطفی آباد دہلی 

(۳) مدرسہ مدینة العلوم اکلہ خانپور ضلع میرٹھ 

(۴) معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی

 (۵) جامعہ مظاہر علوم جدید سہارنپور یوپی۔

تحصیل علم کی تفصیل : آپ نے تحصیل علم کی ابتداء اپنے والد ماجد حضرت مولانا سعیداللہ دامت برکاتہم کے پاس مدرسہ قاسمیہ تعلیم الاسلام سٹھلہ میں  کی، اسوقت آپکی عمر محض چار سال تھی نورانی قاعدہ سے قرآن مجید کی ناظرہ کی تکمیل تک آپکے استاذ آپکے والد ماجد ہی رہے، چھ سال کی عمر میں آپ نے ناظرہ قرآن کریم مکمل کرلیا، 

اسکے بعد حفظ کی ابتداء مدرسہ کے مہتمم حافظ مولانا اکرام الہی رحمة اللہ علیہ نے “سورہ ق” سے کرائی،

آپ نے کچھ دن حفظ اپنے والد صاحب کے پاس کیا اسکے بعد آپ نے مکمل حفظ اپنے والد کے شاگرد مولانا صغیر احمد دامت برکاتہم کے پاس کیا، نوسال کی عمر میں آپ نے حفظ مکمل کرلیا،

آپکی حفظ کی تکمیل کے بعد آپ کے استاذ مولانا صغیر احمد صاحب دہلی چلے گئے، آپ بھی اپنے استاذ کے ساتھ دہلی میں ان ہی کے  پاس چلے گئے ، اور وہیں قرآن کا دور کیا،

ڈیڑھ سال آپ وہاں رہے اسکے بعد آپکی طبعیت کی خرابی ( سر میں شدید پھوڑے پھنسی) کی بنا پر واپس آگئے اور سٹھلہ کے قریب اکلہ خانپور کے مدرسہ مدینة العلوم میں آپ داخل ہوئے وہاں آپکے چھوٹے چچا حضرت مولانا سعداللہ سمیعی القاسمی علیگ درجات عربیہ پڑھاتے تھے، ان کے ہی پاس آپ رہتے تھے، کچھ ماہ وہاں رہنے کے بعد آپکا ایکسٹینڈ ہونیکی وجہ سے وہاں سے بھی آپ کو آنا پڑا، 

اسی سال یعنی سن ۲۰۰۲ میں ہی آپکے والد اور چچا مولانا مفتی اسعد اللہ قاسمی، مولانا سعداللہ قاسمی، مولاناہارون بَلیَوی رحمة اللہ علیہ نے موانہ میں ایک مدرسہ کی بنیا رکھی، جسکا نام “معہدالشریعة الاسلامیہ “ ہے، اسکے آپ اولین طلباء میں سے رہے، اور یہی قصبہ موانہ فی الحال مفتی صاحب کا وطن ہے،

یہاں آپ نے درجہ فارسی سے درجہ چہارم عربی تک پانچ سال تعلیم حاصل کی، درجہ عربی  چہارم تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے مظاہر علوم سہارنپور جدید میں داخلہ لیا، اور وہاں رہ کر آپ نے درجہ افتاء کی تکمیل تک  مسلسل پانچ سال تک تعلیم حاصل کی،

دروان تعلیم آپ اپنے ساتھیوں میں ہمیشہ فائق رہتے تھے، آپکا شمار ممتاز طلباء میں ہوتا تھا، آپ ہمیشہ اعلی نمبرات سے پاس ہوتے تھے، یہی وجہ ہے کہ مظاہر علوم سے ہی آپکو افتاء کرنے کا موقع ملا،سن ۲۰۱۲ میں افتاء سے آپکی فراغت ہوئی،

اساتذہ : آپکے استاذہ کی فہرست آپکے تعلیمی سفر 

کے اعتبار سے بالترتیب یہ ہے

درجہ ابتدائی وناظرہ : والد ماجد حضرت مولانا سعیداللہ دامت برکاتہم 

(۲) جد امجد حضرت مولانا سمیع اللہ رحمہ اللہ تعالی 

درجہ حفظ تاتکمیل : (۱) والد ماجد حضرت مولانا سعیداللہ دامت برکاتہم 

(۲) حضرت مولانا صغیر احمد صاحب دامت برکاتہم سٹھلوی

دور قرآن : (۲) حضرت مولانا قاری انظر صاحب بڑینہ ضلع مظفر نگر سابق استاذ مدرسہ مدینة العلوم اکلہ خانپور

(۲) حضرت قاری قاسم صاحب دامت برکاتہم سابق استاذ مدرسہ مدینة العلوم اکلہ خانپور

(۳) حضرت مولانا ہارون صاحب سابق استاذ معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ

درجہ فارسی تا چہارم معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ  : (۱) والد ماجد حضرت مولانا سعیداللہ دامت برکاتہم 

(۲) عم محترم حضرت مولانا مفتی اسعداللہ صاحب دامت برکاتہم 

(۳) عم محترم حضرت مولانا سعداللہ صاحب دامت برکاتہم 

مظاہرعلوم (جدید) سہارنپور : (۱) امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت شیخ یونس جونپوری رحمہ اللہ تعالی سابق شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور

(۲) فقیہ العصر حضرت مولانا عاقل صاحب دامت برکاتہم، خلیفہ وداماد حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ تعالی

(۳) امام اسماء الرجال حضرت مولانا زین العابدین اعظمی رحمہ اللہ تعالی

(۴) حضرت مولانا سلمان صاحب رحمہ اللہ تعالی سابق ناظم مظاہر علوم سہارنپور

(۵) حضرت مولانا مفتی مقصود صاحب دامت برکاتہم انبہٹوی، صدر مفتی مظاہر علوم سہارنپور

(۶) حضرت مولانا مفتی طاہر صاحب دامت برکاتہم غازی آبادی،

(۷) حضرت مولانا مفتی نیر اقبال صاحب دامت برکاتہم (بہار) 

(۸) حضرت علامہ حفظ الرحمن صاحب دامت برکاتہم

(۹) حضرت مولانا احمد مرتضی صاحب رحمة اللہ علیہ(بہار) 

(۱۰) حضرت مولانا احمد صاحب دامت برکاتہم ( بہٹ) 

(۱۱) حضرت مولانا وقاری اسلم صاحب دامت برکاتہم سہارنپوری

(۱۲) حضرت مولانا وقاری صلاح الدین صاحب دامت برکاتہم (بنگال)

آپ کو اللہ تعالی نے مختلف خصوصیات سے 

نوازا ہے، 

(۱) ان میں سے سے اہم خصوصیت آپکی حق گوئی اوربیباکی ہے، آپ بلا خوف لومة لائم حق بات کہتے ہیں، چاہے وہ بات اپنے خلاف یا اپنے متعلقین واقرباء کے خلاف ہو، 

اسکا اندازہ آپ انکے مضامین اور بیانات سے لگاسکتے ہیں، 

یہی وجہ ہیکہ عوام وخواص سبھی آپ پر اعتماد کرتے ہیں، 

(۲) دوران طالب علمی آپ شروحات سے اور خاص طور سے اردو شروحات سے اجتناب کرتے تھے، آپ کی عادت تھی کہ آپ استاذ کا سبق مکمل لکھا کرتے تھے، آپ استاذ کی اسی تقریر سے کتاب کو حل فرماتے تھے، آپکی اسباق کی کاپیاں طلباء میں بہت مشہور تھیں ، 

آپ نے حضرت شیخ یونس رحمہ اللہ کی مکمل بخاری کی تقریر نوٹ کی ہے، 

کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ حضرت شیخ یونس رحمہ اللہ نے سبق کے بعد تمام طلباء کو مخاطب کرکے کہا کہ “اگر کسی نے آج کے  اس سبق  کی تقریر لکھی ہو تو مجھے لا کر دیدے” تو پوری درسگاہ میں سے صرف ایک طالب علم پورے سبق کی تقریر حضرت شیخ تک پہنچاتا تھا، اور وہ طالب علم حضرت مفتی صاحب ہوتے تھے، 

یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضرت شیخ یونس رحمہ اللہ کی عادت شریفہ تھی کہ ایک بات کو صرف ایک مرتبہ بولتے تھے دوبارہ اسکے تکرار سے بالکل اجتناب کرتے تھے، اسکے باوجود انکے سبق کی تقریر کو مکمل لکھ لینا انتہائی انہماک کی دلیل ہے

اسی طرح آپ نے مشکوة، ترمذی، طحاوی، جلالین، شرح وقایہ، سلم العلوم، وغیرہ کی کاپیاں لکھی ہیں، طلباء ان کاپیوں کی فوٹو اسٹیٹ کراکے ان سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کاپیوں کو بنگال سے تعلق رکھنے والے “حضرت مولانا قاری حسان صاحب” خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمة اللہ علیہ اپنے ساتھ مکہ لے گئے اور ان کاپیوں کی طباعت کا کام شروع کرادیا، لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور وہ کام درمیان میں رہ گیا، 

(۱) اللہ تعالی نے آپکو پرکشش آواز سے نوازا ہے ،آپ کو بچپن سے ہی نعتیں نظمیں پڑھنے کا شوق ہے، مدرسہ کے جلسوں اور دینی محافل میں جہاں آپ ہوتے آپکو نعت پڑھنے کا موقع ضرور دیا جاتا، اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، آپکی آواز میں نعتیں نظمیں “ Mufti Ataullah Samiee” یوٹیوب چینل پر آپ سماعت فرماسکتے ہیں،

(۲) آپ عمدہ تلاوت قرآن کریم فرماتے ہیں ، آپکی تلاوت سننے والوں کے دلوں پر نقش ہوجاتی ہے، آپ مختلف لہجوں میں قرآن کریم کی تلاوت پر قدرت رکھتے ہیں، آپکی تلاوت قرآن کریم کو بھی مذکورہ چینل پر سنا جاسکتا ہے،  

آپ کی قرآن کی تلاوت کی عمدگی کی بنا پر آپکو مظاہر علوم جدید کی مسجد میں امام مقرر کیا گیا اور آپ تین سال یعنی درجہ ہفتم عربی سے  افتاء سے فراغت تک امامت کے فرائض انجام دیتے رہے، 

ایسی دینی درسگاہ جہاں ہر وقت مہمانان رسول، محدثین مفسرین فقہاء اور بیرون ممالک عرب وعجم  سے آنیوالے سینکڑوں لوگ ہوتے ہیں انکی امامت کرنا یہ اللہ کی عظیم نعمتوں سے کم نہیں، 

ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء

(۳) آپ فن خطاطی میں بھی ید طولی رکھتے ہیں، آپ مختلف فارسی رسم الخط اور عربی خطوط میں عمدہ خطاطی فرماتے ہیں، آپکی خطاطی کے مختلف نمونے فیسبک پیج “Mufti Ataullah Samiee” پر دیکھ سکتے ہیں ،

(۴) آپ فن فقہ میں بھی مہارت رکھتے ہیں، آپ کے ہمعصر اور ہم درس  آپ کے ساتھی ، بڑے چھوٹے ملک وبیرون ملک کے لوگ  آپ سے مسائل میں رجوع کرتے ہیں،

آپ روزانہ درجنوں کی تعداد میں احادیث اور فقہ سے متعلق سوالا کے جوابات دیتے ہیں

اللہ حضرت کا سایہ تادیر قائم رکھے آپکا فیض عام وتام ودائم رکھے آمین

(۵) فن علم حدیث میں بھی آپ مہارت رکھتے ہیں، ملک وبیرون ملک کے علماء آپ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی علمی تشنگی دور کرتے ہیں،

(۶) آپ میدان خطابت میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں، اور مختلف موضوعات پر موقع بموقع آپ تبلیغ دین کی نیت سے بیانات فرماتے ہیں،

خدمات : آپ شروع سے ہی تخلیقی ذہنیت کے مالک ہیں، آپ نے زمانہ طالب علمی میں ہی (۱) مقامات حریری کی شرح لکھنی شروع کردی تھی، جو ابھی مسودہ کی شکل میں ہے، 

(۲) اسی کے ساتھ تین طلاق کے موضوع پر دورہ حدیث کے سال میں  آپ نے ایک مقالہ لکھا،

(۳) فراغت کے بعد آپ نے حضرت مفتی تقی عثمانی کے کتابچہ “آؤ نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں” پر کام شروع کیا، اور ہر ہر مسئلہ کی صریح حدیث تلاش کرنی شروع کی، اور بڑی محنت کے بعد الحمدللہ اسمیں کامیابی حاصل ہوگئی، 

(۵) مزید اسمیں اپنا ضمیمہ شامل کیا جسمیں نمازوں کے اول وآخر اوقات سے متعلق احادیث، عیدین ، وتر، جمعہ کی نمازوں کی شرعی حیثیت، رفع یدین، تشہد میں انگلی اٹھانے نہ اٹھانے سےمتعلق بحث، اور دیگر موضوعات شامل کئے، یہ کتاب بھی مسودہ کی شکل میں ہے، 

(۶) آپ نے حج وعمرہ کے موضوع پر ایک مختصر رسالہ تالیف کیا جو “آسان فضائل ومسائل حج وعمرہ “ کے نام سے طبع ہوچکا ہے، 

(۷) آپ نے اپنے دادا مولانا سمیع اللہ رحمہ اللہ کے اشعار کو تلاش کرکے انکو جمع کرنا شروع کیا، جسمیں  سینکڑوں اشعار جنمیں رباعیات، قطعات، غبار دل، نعت ،نظم، حمد ، مناجات، حالات، مرثیے، اظہار خیال،اور حالات سے متعلق اشعار سبھی شامل ہیں، یہ ابھی زیر ترتیب ہے،

(۸) آپ خود بھی شعروشاعری کا ذوق رکھتے ہیں، آپکے بھی اشعار حمد، نعت، مدارس کے ترانوں صحابہ کی مدح وغیرہ پر شامل ہیں،

(۹) آپ فراغت کے بعد سے ہی مختلف مقامات پر رہ کر طلباء دین کی علمی پیاس بجھاتے رہے ہیں، آپکے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، آپ نے نورانی قاعدہ سے لیکر ہفتم عربی تک کی تمام کتب پڑھائی ہیں، جنمیں  نحو وصرف کی کتب کے ساتھ ساتھ شرح وقایہ، ہدایہ آخرین، نخبة الفکر، دیوان متنبی وغیرہ کتب بھی شامل ہیں،

(۱۰) آپ ایک نرم دل درد مند انسان ہیں، آپ تبلیغ اسلام کی غرض سے  خدمت خلق بھی انجام دیتے ہیں، آپ ضرورت مندوں کی ضرورت میں کام آتے ہیں، 

غریب مریضوں کا علاج کراتے ہیں، 

آپ نے لاک ڈاؤن میں ہزاروں لوگوں کی مدد کی، گھر گھر جاکر راشن پہنچایا، 

آپ ہر ماہ اپنی طاقت کے بقدر بیوہ عورتوں، نادار لوگوں، مریضوں کی مدد کرتے ہیں، 

اس کام کیلئے آپ باقاعدہ قانونی طریقہ پر کام کررہے ہیں، اور اپنے کام کو ایک ٹرسٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ کرالیا ہے، جسکا نام “الخیریہ ٹرسٹ” ہے ، اسکی مکمل معلومات آپ ٹرسٹ کی ویب سائٹ

www.alkhairiyyah.com

پر لے سکتے ہیں،

اللہ تعالی آپکا سایہ تادیر قائم رکھے آپ سے آپکے علم سے مخلوق کو نفع پہنچائے آمین

Comments: 2

  • Zaka Sami

    Reply November 13, 20242:50 am

    الحمدلله على نعمه

  • Wajahat khan Sathla

    Reply January 16, 20251:53 pm

    Masha allah Mere Aziz Sathi ki Umar me Barkat Ata Frmaye. Aur Mazed Taraqqi se Nawaze. Aameen.

Post a Reply to Zaka Sami Cancel Reply