Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

اجرت قرآن یا ہدیہ امام

اجرت قرآن یا ہدیۂ امام

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
رمضان میں حافظ کے ہدیہ کو لیکر چہ میگوئیوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے، وہ لوگ حافظ کے ہدیہ کو ناجائز کہتے ہیں جو پورے سال کبھی حافظ اور امام کی خبر گیری نہیں کرتے جو کبھی امام وحافظ کے حالات نہیں پوچھتے وہ لوگ کہتے ہیں کہ امام اور حافظ کو تراویح پر ہدیہ دینا جائز نہیں، میں کہتا ہوں کہ کیا امام کا خون چوسنا جائز ہے؟ جتنی تنخواہ تم امام کو دیتے ہو کیا اتنے میں کسی ادنی درجہ کے شہری کا بھی گزارا ہوجاتا ہے؟ سارا سال امام کا خون چوستے ہیں برائے نام تنخواہ دیکر اور رمضان میں ہدیہ کو ناجائز کہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکو امام سے علماء سے اہل دین سے نام کو بھی محبت نہیں ہوتی،
ہدیہ حافظ کو اجرت اور معاوضہ کا نام دیدیا جاتا ہے نامعلوم یہ نام کہاں سے لیا ہے حالانکہ دینے اور لینے والوں میں سے کسی کی اجرت ومعاوضہ کی نیت نہیں ہوتی،
اگر ہدیہ بھی اجرت ہے تو
قراء حضرات تلاوت قرآن کرکے ہزاروں کے لفافے بٹورتے ہیں نعت خوانوں کو نعت پر انعام ملتا ہے مفسر قرآن مقرر شعلہ بیاں حضرات جلسوں میں تقاریر کرتے ہیں اور ہدیہ کے نام پر ہزاروں بٹورتے ہیں مفتی حضرات دارالافتاء میں فتوی دینے کی تنخواہ لیتے ہیں محدث اعظم حدیث پڑھانے کی تنخواہ لیتا ہے لیکن وہاں کسی کو اجرت کا مسئلہ یاد نہیں رہتا حالانکہ یہ سارے امور بالواسطہ یا بلاواسطہ قرآن سے ہی جڑے ہیں تو آخر کیا قصور ہے اس حافظ کا کہ جس نے سارا ماہ قرآن کریم حفظ آپکو سنایا ہے اپنا آرام سکون اور ضرورتوں کو وقت کو قربان کیا ہے آخر اسکو کیوں ہدیہ لینے کا حق نہیں ہے؟ یہیں پر کیوں اجرت قرآن کا مسئلہ یاد آتا ہے؟ کیا اجرت ایسی ہی ہوتی ہے؟ اجرت میں تو پہلے طے پائی ہوتی ہے جبکہ یہاں کچھ نہیں ہوتا، نیز کسی ہدیہ دینے والے کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ ہم اجرت قرآن دے رہے ہیں، اگر یہ حافظ مجرم ہے تو اس سے زیادہ تو مجرم وہ ہیں جو قرآن کو حقیقتا روپیوں کے عوض بیچتے ہیں ،دو سوکا نسخہ پانچسو کا نسخہ ،وہاں یہ مسئلہ فٹ نہیں کیا جاتا،

کوئی المعروف کالمشروط کے قاعدہ کی رو سے اسکو اجرت مانتا ہے کیا المعروف کالمشروط کا قاعدہ خاص طور سے تراویح کے امام کیلئے بنا ہے؟ کیا مفسر قرآن محدث اعظم مقرر شعلہ بیان قاری بے مثال حضرات کے ہدایا اس سے مستثنی ہیں؟ اگر ہیں تو کیوں ہیں کیا وہ قرآن کریم کے سبب سے ہی بالواسطہ یا بلاواسطہ ہدیہ نہیں لے رہے؟ جبکہ عرف بھی یہی ہے کہ جو قاری کسی جلسہ میں قرات کریگا یا کوئی مقرر بیان کریگا تو اسکو بعد میں ہدیہ دیا جاتا ہے، یا کوئی محدث درس دیگا تو اسکو تنخواہ دیجاتی ہے تو پھر یہاں بھی المعروف کالمشروط کی رو سے سب کچھ ناجائز ہونا چاہئے، اگر کہا جائے کہ یہ لوگ اپنے وقت کی تنخواہ لیتے ہیں تو حافظ قرآن بھی تو تراویح میں وقت لگاتا ہے وہ تو بلکہ زیادہ وقت لگاتا ہے دن بھر کے اپنے کام کاج چھوڑ کر قران یاد کرتا ہے وہ اپنا معاش کمانا دھمانا چھوڑتا ہے اور آپکے لئے تراویح کی تیار کرتا ہے کوئی شخص دور دراز علاقے میں قرآن سناتا ہے اب وہ گھر بار سے دور رہا اپنے کام کاج کو چھوڑا کمانے کو چھوڑا اب جب اسکا قرآن پورا ہوا تو ہدیہ بھی ناجائز ہوگیا، اسکے بیوی بچے انتظار میں ہیں کہ ہماری دیکھ ریکھ کرنیوالا باپ اور شوہر ہمارے لئے فلاں شہر سے کپڑے لائیگا عید کی تیاری ہوگی لیکن ظالموں نے اس مظلوم کو خالی ہاتھ واپس کردیا اس بیچارے نے کرایہ بھی اپنا لگایا وقت بھی دماغ بھی لگایا اور بدلہ یہ ملا، حالانکہ اللہ بھی نیک کام کا بدلہ دیتا ہے “ہل جزاء الاحسان الا الاحسان” نیکی کا بدلہ نیکی ہے ، کوئی یہ دلیل دیتا ہے عدم جواز کی کہ جب قرآن پورا ہوتا ہے تبھی کیوں دیتے ہیں اس سے آگے پیچھے کیوں نہیں دیتے؟ اسی طرح اگر یہ حافظ قرآن نہ سناتا تو تب اسکو کیوں نہیں دیتے تب بھی تو یہ قابل احترام تھا؟ جواب یہ ہیکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تب اسکو ہدیہ دیا جاتا ہے جب نکاح ہوتا ہے اسکے بعد تحائف کی برسات ہوتی ہے، جب کوئی خوشی کا موقع ہوتا ہے تب تحفہ دیا جاتا ہے، نیز جو ہدیہ کا مستحق ہوتا ہے اسکو دیا جاتاہے، امتحان میں پاس تو خالد آیا اور انعام حامد کو دیا جائے، نیکی کا کام بکر نے کیا اور انعام عمرو کو دیا جائے ایسا نہیں ہوتا، نیز پھر جو قاری جلسے میں تلاوت کرتا ہے اسکے بارے میں یہی اصول ہونا چاہئے، مدرسے میں جو استاذ پڑھاتا ہے قرآن یا حدیث یا فقہ اور علوم آلیہ قرآن سب پر یہی اصول فٹ ہونا چاہئے، آخر دوہرا رویہ کیوں ہے؟ وہاں کوئی اجرت کا لفظ نہیں بولتا اور یہاں کوئی نہیں چوکتا کیا قصور ہے اس حافظ کا؟
اپنے حفاظ کی حوصلہ افزائی کیجئے تاکہ آنیوالی نسلیں اور موجودہ امت اپنی اولاد کو حافظ قرآن بنانے پر فخر کرے، مفتی سعید احمد پالنپوری فرمایا کرتے تھے کہ” ہدیہ امام تراویح کے جواز وعدم جواز کے مسائل وہی معلوم کرتے ہیں جنکو ہدیہ دینا نہیں ہوتا”

البتہ ایک بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اگر مسجد کا امام تراویح پڑھارہا ہے یا چاہے نہ بھی پڑھارہا ہو بہر صورت اسکو چندہ کرکے دینا یا بنا چندہ کے فردا فردا ہر شخص مصافحہ میں دے دونوں طرح جائز ہے، اسلئے کہ وہ امام ہے جسطرح ہر ماہ کی تنخواہ اسکو چندہ کرکے دینا جائز ہے اسی طرح رمضان میں چندہ کرکے دینا جائز ہے اسکو یو کہا جائیگا کہ رمضان کی تنخواہ گویا کہ بڑھا کر دی ہے جیسا کہ بہت سے مدارس میں رمضان میں ڈبل تنخواہ دیجاتی ہے،

اور اگر کوئی محض تراویح پڑھارہا ہے مستقل امام نہیں ہے مسجد میں ہویا کسی گھر وغیرہ میں تراویح پڑھارہا ہو تو اسکو چندہ کرکے نہ دیا جائے بلکہ ہر شخص الگ الگ مصافحہ میں ہدیہ دے ، اسلئے کہ ہدیہ خوشی سے دیا جاتاہے اور خوشی کا علم تبھی ہوگا جب اپنے طور سے اپنی مرضی سے خود دیگا، اور چندہ میں آدمی شرماحضوری میں بادل ناخواستہ بھی دیتا ہے، نیز ہدیہ چندہ کرکے نہیں دیا جاتا، بھلا بتائیے جب آپ کسی کے یہاں شادی میں جاتے ہیں اور اسکے یہاں ہدیہ دیتے ہیں تو کیا پہلے چندہ کرتے ہیں اپنے رشتے داروں میں کہ بھئی فلاں کو ہدیہ دیناہے؟ معلوم ہوا کہ ہدیہ خوشی سے ہوتا ہے، لہذا محض تراویح پڑھانیوالے کو چندہ کرکے نہ دیا جائے بلکہ ہر شخص فردا فردا دے، مسئلہ وہی پوچھتے ہیں جنکو کچھ دینا نہیں ہوتا، جسکو دینا ہوتا ہے جسکو حافظ سے محبت ہوتی ہے جسکو اللہ کا کلام سننے سے لطف آتاہے جسکو قرآن سے محبت ہوتی ہے وہ خوش ہوکر ازخود ہی حافظ کو ہدیہ دیتا ہے، وہ چندے کا انتظار نہیں کرتا،

مفتی سعید پالنپوری رحمہ اللہ مولانا الیاس گھمن دامت برکاتہم مفتی زرولی خان رحمہ اللہ نے ہدیہ امام تراویح کو جائز ہی نہیں کہا بلکہ مفتی زرولی خان نے تو واجب قرار دیا ہے ویڈیو درج ذیل ہیں

مفتی سعید پالنپوری رحمہ اللہ

مفتی زرولی خان

مفتی زرولی خان (۲)

مفتی زرولی خان (۳)

مولانا الیاس گھمن

میں ایک بات بار بار کہتا ہوں کہ “آفات کا آنا دین علم دین اہل دین کی ناقدری کی وجہ سے ہے

Comments: 3

  • ولی اللہ

    Reply April 17, 20229:20 am

    ماشاءاللہ زبردست اللہ آپ کی عمر میں برکت عطاء فرمائے
    آپ کی ہر تحریر منفرد ہوتی ہے

  • atasamiee

    Reply April 17, 20222:15 pm

    جزاک اللہ خیرا

  • وجاہت اللہ سٹھلہ

    Reply February 22, 20253:22 pm

    ماشاء اللہ بہت خوب اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں مزید اضافہ فرمائے آمین ثم آمین

Post a Reply to ولی اللہ Cancel Reply