اگر آپ کو بہت سی چابیاں ایک ہی صورت کی بنوانی ہوں، تو آپ چابی والے کے پاس جائیں گے،
اسے ایک سیمپل (نمونہ) دیں گے کہ اس طرح کی مجھے سو چابیاں بنا کر دو،
اتنی ہی لمبائی موٹائی ہو، اتنی ہی لمبی ہو اسی طرح کے دندے ہوں، یعنی ہو بہو یہی سیمپل کے مطابق چابی ہو،
اب وہ چابی ساز آپ کے دیے ہوئے سیمپل کے برعکس اس سے دو گنا لمبی اور دو گنا موٹی چابیاں بنا دیے، دندے بھی سیمپل والی چابی سے دو گنا زیادہ ہوں،
تو کیا آپ یہ چابیاں قبول کر لیں گے؟
ہرگز نہیں،
چابی ساز کہے کہ میری محنت اس پر زیادہ ہوئی ہے، میٹیریل زیادہ لگا ہے، وقت زیادہ لگا ہے، میں اسی قیمت پر آپ کو اس سے دو گنا بڑی چابیاں دے رہا ہوں، آپ قبول کیوں نہیں کرتے،
یقیننا آپ سمیت کوئی بھی عقل مند یہی کہے گا چاہے اس پر میٹیریل، وقت اور محنت تمہاری زیادہ لگی ہے، لیکن یہ میرے کسی کام کی نہیں،
کیونکہ میں نے جو تمہیں نمونہ دیا تھا مجھے اسی طرح کی چابیاں چاہیے، اس کے علاوہ باقی تم جیسی بھی بناؤ میرے لیے وہ بے کار ہیں،
اسی طرح رب کائنات نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہستی میں ہمیں نمونہ دیا ہے، کہ لوگوں اس طرح کی زندگی گزار کر آؤ قبول کی جائے گی، اپنی عقل نہ چلانا، اپنے ناقص فہم سے مسئلہ نہ نکالنا، قرآن کو نبی کریم کے طریقے سے سمجھنا،
اس کے برعکس اگر اعمال کے ڈھیر بھی لے کر آؤ گے، چاہے ساری زندگی اپنی مرضی کی اعمال میں کھپا کر آؤ گے،
اللہ کی بارگاہ میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں، نہ ہی اس کا کوئی اجر ملے گا،
عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیہ
سورۃ الغاشیہ
“عمل کر کر کے تھکے ہوں گے اٹھا کر جہنم کی آگ میں پھینکے جائے گے “
کیونکہ تمہیں نمونہ کے مطابق بننا ہے،
ارشاد فرمایا :
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ
تمہارے لیے رسول اللہ کی ہستی میں بہترین نمونہ ہے,,,,,
Comment: 1
Pingback: سنت پر عمل ہو خواہش پر نہیں – atasamiee
November 17, 20201:23 pm