سعودی عرب کے تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کے بعد ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی سخت ضرورت ہے
تبلیغی جماعت کو دہشت گرد کہنا یا بدعتی کہنا درست نہیں ہے، یہ ہمارا اور ہمارے اکابر کا سرمایہ ہے، یہ جماعت کا کام اس طریقے پر جو مولانا الیاس نے ترتیب دیا تھا مجموعی اعتبار سے درست ہے، یہ جماعت بے طلب لوگوں میں بھی دین کی طلب پیدا کرنے کی کوشش میں رہتی ہے،
لیکن ہمیں تنہائی میں بیٹھکر اپنا محاسبہ کرنا ہوگا؟ کیا ہم بالکل صحیح جارہے ہیں؟
بعض امور میں تبلیغی احباب سے قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کو اختلاف ہے،
جیسا کہ بہت سارے امور میں غلو کرنا،( جنکو بیان کرنیکا موقع نہیں ہے، اگر کوئی طلب صادق رکھنے والا اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو علماء ربانیین سے رابطہ کرے)
جماعت میں جانے کو فرض سمجھنا ،
اس کام کو جہاد کا درجہ دینا،
علماء کیلئے سال کی شرط لگانا،
دوسرے گروپ کی جماعت کو بالکل برداشت نہ کرنا حتی کہ مارپٹائی تک نوبت پہنچ جانا،انکو مسجدوں سے نکال باہر کرنا،
بہت سی جگہوں پر علماء ائمہ حفاظ کرام کیساتھ بدسلوکی کرنا،
بعض جگہوں پر قرآن کی تفسیر پر دوسری کتب کو مقدم رکھنا اور تفسیر بند کرادینا،
چلہ چار مہینہ یعنی جماعت میں نکلنے کو ہجرت سے تعبیر کرنا
جہاد کی تمام آیات واحادیث کو اپنے مروجہ کام پر چسپاں کرلینا
تبلیغی مسجد اور غیر تبلیغی مسجد کی نئی تعبیر جاری کرنا
مسائل کے بیان کو تفرقہ اور جھگڑے کا سبب بتانا
خیر امت “امت محمدیہ” کو جھگڑالو امت بتانا
تفسیر اور درس مسائل کیلئے دوسری جگہ اختیار کرنے پر زور دینا
مدارس وخوانق کو کمتر سمجھنا
مروجہ تبلیغی جماعت کو ہی اصل تبلیغ سمجھنا اور دیگر تبلیغی کاموں مثلا تقریر تفسیر تصنیف تزکیہ تعلیم قرآن تعلیم فقہ کو نبی والی تبلیغ نہ سمجھنا
جو سمجھانے کی کوشش کرے اسکو اپنا دشمن سمجھ لینا جماعت کا مخالف سمجھنا اور اسکی مخالفت کرنا،
نکیر کرنیوالے کو یہ کہنا کہ نماز میں غیرنمازی کا لقمہ جائز نہیں ہے، گویا کہ اس کام کو نماز پر قیاس کرنا،
تبلیغی احباب کو چاہئے کہ اپنے اندر موجود خامیوں پر نظر دوڑائیں، جب کام بڑا ہوجاتا ہے تو کچھ کمی آجانا یقینی ہے، درخت پر بھی سوکھے پتے ہوجاتے ہیں لیکن درخت کی سلامتی کیلئے ان پتوں کو اور سوکھی شاخوں کو صاف کرنا ضروری ہے، اسی طرح کمیوں کو دور کرنا ضروری ہے، ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ کیا صحیح کیا غلط ہے؟ علماء ربانیین سے رابطہ مضبوط کریں، قرآن وسنت کی روشنی میں فیصلہ کریں، حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھیں، اور ان خامیوں کو دور کرنیکی کوشش کریں، جو مولوی حضرات اس کام میں لگے ہوئے ہیں انکو چاہئے کہ لوگوں کو سمجھائیں انکو صحیح بات پہنچائیں، خامیوں کو دور کریں، منکر پر کھل کر نکیر کریں اچھائیوں کو اجاگر کریں ، مقتدا بنیں مقتدی نہ بنیں، اللہ تعالی ہم سب کو اپنے دین کی خدمت کی کیلئے ہمیشہ کیلئے قبول فرمائے،
وماتوفیقی الاباللہ
محمدعطاءاللہ سمیعی
تبلیغی جماعت کی حمایت میں عربی شیخ کی تقریر
اردو ترجمہ کے ساتھ👆🏻
No Comments