اصول ہشت گانہ
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
اصول ہشت گانہ مدارس کی ترقی کے وہ اصول ہیں جو صاحب بصیرت دور اندیش اور دور بیں عالم ربانی حجة اللہ فی الارض کے مرتب کردہ ہیں، جن کا پاس ولحاظ رکھکر دارالعلوم دیوبند نے دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل کی اور جو دیگر تمام مدارس کی ترقی کے بنیادی اصول ہیں، آدمی ان اصول کو تنہائی میں غورفکر کے ساتھ یکسو ہو کر پڑھے تو انکی گہرائی اور انکی معنی خیزی سے عقل دنگ رہ جاتی ہے، آج تمام اہل مدارس کو ان اصول کے ساتھ اپنے مدرسہ کو آگے بڑھانا چاہئے، اور ناظم مدرسہ کے ساتھ تمام کارکنان مدرسہ کو کسی اللہ والے سے اپنا اصلاحی تعلق قائم رکھنا چاہئے تاکہ مدرسہ کے تئیں آخرت کا خیال رہے، اور دین اسلام کی ترقی کیلئے امت کی زبوں حالی جہالت بے دینی کم فہمی اور کج فہمی کو ختم کرنے کے جذبہ کے ساتھ دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے پوری جانفشانی کے ساتھ سب مل جل کر کام کرسکیں،
اصولِ ہشت گانہ:
(۱) تا بمقدور کارکنانِ مدرسہ کو ہمیشہ تکثیرِ چندہ پر نظر رہے، آپ کوشش کریں، اوروں سے کوشش کروائیں؛ خیراندیشانِ مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہے۔
(۲) ابقائے طعامِ طلبا، بلکہ افزائش طلبا میں جس طرح ہو سکے خیر اندیشانِ مدرسہ ہمیشہ ساعی رہیں۔
(۳) مشیرانِ مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مدرسہ کی خوبی اور خوش اسلوبی ہو، اپنی بات کی پچ نہ کی جائے، خدا نہ خواستہ جب اس طرح کی نوبت آئے گی کہ اہلِ مشورہ کو اپنی مخالفتِ رائے اور اوروں کی رائیوں کے موافق ہونا ناگوار ہو تو پھراس کی بنیاد میں تزلزل آجائے گا، القصہ تہ دل سے بروقت مشورہ اور نیز اس کے پس وپیش میں اسلوبیِ مدرسہ ملحوظ رہے، سخن پروری نہ ہو اور اس لیے ضروری ہے کہ اہلِ مشورہ اظہارِ رائے میں کسی وجہ سے شامل نہ ہوں اور سامعین بہ نیت نیک اس کو سینبغی یہ خیال رہے کہ اگر دوسرے کی بات سمجھ میں آجائے گی تو اگرچہ ہمارے مخالف ہی کیوں نہ ہو، بہ دل وجان قبول کریں گے اور نیز اسی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ مہتمم امور مشورہ طلب میں اہل مشورہ سے ضرور مشورہ کیا کرے ، خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمیشہ مشیر مدرسہ رہتے ہیں، یا کوئی واردوصادر جو علم وعقل رکھتا ہو اور مدرسوں کا خیر اندیش ہو۔ اور نیز اس وجہ سے ضروری ہے کہ اگر اتفاقاکسی وجہ سے اہلِ مشورہ سے مشورہ کی نوبت نہ آئے اور بقدرِ ضرورت اہل مشورہ کی مقدارِ معتد سے مشورہ کیا گیا ہو، تو پھر اس وجہ سے ناخوش نہ ہو کہ مجھ سے کیوں نہ پوچھا، ہاں اگر مہتمم نے کسی سے نہ پوچھا تو پھر اہلِ مشورہ معترض ہوسکتا ہے ۔
(۴) یہ بات بہت ضروری ہے کہ مدرسین باہم متفق المشرب ہوں اور مثل روزگار خود بیں اور دوسروں کے درپہ نہ ہوں، خدا نہ خواستہ جب اس کی نوبت آئے گی پھر اس مدرسہ کی خیرنہیں۔
(۵) خواندگیِ مقررہ اس انداز سے جو پہلے تجویز ہو چکی ہے یا بعد میں کوئی اور انداز سے مشورہ سے تجویز ہو پوری ہوجایا کرے ، ورنہ یہ مدرسہ اول تو خوب آباد نہ ہوگا اور اگر ہوگا تو بے فائدہ ہوگا
(۶) اس مدرسہ میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں ہوتی جب تک یہ مدرسہ ان شاء اللہ بشرطہ توجہ الیٰ اللہ اسی طرح چلے گا اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی جیسے جاگیر یا کارخانہ ، تجارت یا کسی امیر محکم القول کا وعدہ ، تو پھر یہ خوف ورجا جو سرمایہ رجوع الیٰ اللہ ہے ہاتھ سے جاتا رہے گا اورامدادِ غیبی موقوف ہوجائے گی اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا، القصہ آمدنی اور تعمیر وغیرہ میں ایک نوع کی بے سرو سامانی ملحوظ رہے
(۷) سرکار کی شرکت اور امراء کی شرکت بھی زیادہ مضر معلوم ہوتی ہے ۔
(۸) تا مقدور ایسے لوگوں کا چندہ زیادہ موجب برکت معلوم ہوتا ہے، جن کو اپنے چندہ سے امید ناموری نہ ہو، بالجملہ حسنِ نیت اہل چندہ زیادہ پائیداری کا سامان معلوم ہوتا ہے۔

No Comments