مذہبی آزادی، مساوات اور نماز کے اوقات میں تبدیلی: ایک سنجیدہ مسئلہ
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں ہر مذہب کو اپنی عبادات کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مواقع پر مسلمانوں کی نمازوں کے اوقات میں تبدیلی حکومت کی جانب سے اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کسی دوسرے مذہب کا تہوار منعقد ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ مساوات اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں پر بھی ضرب لگاتا ہے۔
کیا نمازوں کے اوقات کسی کے تہوار کی وجہ سے تبدیل کیے جا سکتے ہیں؟
یہ ایک انتہائی اہم اور بنیادی سوال ہے کہ آیا کسی دوسرے مذہب کے تہوار کی وجہ سے مسلمانوں کی نماز کے اوقات میں تبدیلی کی جا سکتی ہے؟ نماز اسلام کی بنیادی عبادت ہے، جس کے اوقات شریعتِ اسلامیہ نے مقرر کیے ہیں۔ یہ اوقات اللہ کے حکم اور نظامِ کائنات کے مطابق متعین ہوتے ہیں، جنہیں کسی بھی انسانی فیصلے یا حکومتی پالیسی کے تحت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اگر نمازوں کے اوقات تبدیل کیے جا سکتے ہیں، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تہواروں کے اوقات اور مقامات میں تبدیلی ممکن نہیں؟ اگر ہندو اپنے تہوار منانے کے لیے آزاد ہیں، تو مسلمان اپنی عبادات اپنے مقررہ وقت پر کیوں ادا نہیں کر سکتے؟
کیا مسلمان کسی کو اپنے تہوار کی وجہ سے مجبور کرتے ہیں؟
مسلمانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کسی بھی دور میں انہوں نے اپنے مذہبی تہوار کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر زبردستی نہیں تھوپے۔ رمضان، عید، قربانی، اور دیگر اسلامی مواقع ہمیشہ ایک پرامن دائرے میں منائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہندو اپنے دیوالی کے پٹاخے نہ چلائیں، ہولی کے رنگ محدود کریں، یا کسی اور طرح کے مذہبی امور میں کوئی پابندی قبول کریں۔
پھر سوال یہ ہے کہ جب مسلمان کسی کو اپنے تہواروں کی وجہ سے مجبور نہیں کرتے، تو انہیں کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دینی معمولات کو کسی اور کے تہوار کے مطابق بدلیں؟ کیا یہی انصاف اور مساوات ہے؟
کیا ہم اپنے تہوار کی وجہ سے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں؟
مسلمانوں کے تمام تہوار شریعت کے اصولوں کے مطابق منائے جاتے ہیں، جن میں دوسروں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جاتی۔ عید کے دن مسلمان اجتماعی نماز ادا کرتے ہیں، مگر سڑکوں پر بے ہنگم شور شرابہ نہیں کرتے۔ قربانی کے موقع پر بھی تمام احتیاط برتی جاتی ہے تاکہ دوسروں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
اس کے برعکس، دیوالی میں پٹاخے اور شور سے بیمار اور بوڑھے افراد پریشان ہوتے ہیں، بہت سی جگہوں پر جانی ومالی نقصان بھی ہوتا ہے، اسکے باوجود ہم کسی کے تہوار میں دخل نہیں دیتے اسی طرح ہولی میں رنگوں سے کئی لوگ متاثر ہوتے ہیں، مگر کبھی کسی حکومت نے یہ نہیں کہا کہ ہندو اپنے تہوار محدود کریں یا مخصوص جگہوں پر منائیں۔ پھر مسلمانوں سے یہ مطالبہ کیوں؟
کیا مسلمان اپنے تہوار زبردستی دوسروں پر تھوپتے ہیں؟
کیا مسلمانوں نے کبھی کسی غیر مسلم کو عید منانے پر مجبور کیا؟ کیا کسی نے کسی پر زبردستی روزہ رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا؟ کیا کسی مسجد سے اعلان ہوا کہ تمام شہریوں کو عید کی نماز پڑھنی ہوگی؟ نہیں!
پھر مسلمانوں کو ہی کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسروں کے تہواروں کی وجہ سے اپنی عبادات میں تبدیلی کریں؟ کیا یہ جمہوریت اور سیکولرازم کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ اگر ہر مذہب کو اپنے اصولوں پر عمل کرنے کی آزادی ہے، تو پھر مسلمانوں کو اپنے دین پر چلنے کی مکمل آزادی کیوں نہیں دی جا رہی؟
کیا مسلمان مذہب کی آڑ لے کر دوسروں کا جینا حرام کرتے ہیں؟
مسلمانوں نے کبھی مذہب کی آڑ لے کر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو تکلیف نہیں دی۔ اگر مسلمان اذان دیتے ہیں، تو اس میں کسی پر جبر نہیں ہوتا۔ اگر مسلمان نماز پڑھتے ہیں، تو اس میں کسی کو زبردستی شامل نہیں کیا جاتا۔
البتہ، دوسری طرف کچھ عناصر مذہب کے نام پر مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جمعہ کی نماز کے اوقات تبدیل کرنا بھی اسی مہم کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا دروازہ کھلنے کے بعد مستقبل میں نہ معلوم کتنی عبادات اور مذہبی روایات اس کی زد میں آ جائیں گی۔
کیا یہی مذہب سکھاتا ہے جیسا کہ مذہب کے نام پر دوسرے مذہب والوں کے ساتھ معاملہ کیا جا رہا ہے؟
اگر کوئی ملک مذہبی آزادی اور سیکولرازم کا دعویدار ہو، تو اس کی پالیسی تمام مذاہب کے ساتھ یکساں ہونی چاہیے۔ لیکن اگر ایک مذہب کے پیروکاروں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے دینی معمولات میں تبدیلی کریں، تو یہ کس قسم کی مساوات ہے؟
کیا یہی تعلیمات دوسرے مذاہب میں دی گئی ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے؟ کیا یہی انسانیت اور مساوات ہے کہ مسلمانوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہو؟ اگر مذہب کے نام پر انصاف نہیں کیا جا سکتا، تو پھر کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
کیا یہی مساوات ہے؟
اگر واقعی مساوات اور برابری کا اصول ہے، تو پھر:
• کیا ہندوؤں کو بھی پابند کیا گیا کہ وہ اپنے تہوار مخصوص جگہوں پر منائیں؟
• کیا کبھی حکومت نے کہا کہ دیوالی کی رات 10 بجے کے بعد پٹاخے نہ چلائے جائیں؟
• کیا ہولی میں رنگ پھینکنے کے مقامات مقرر کیے گئے تاکہ دوسروں کو پریشانی نہ ہو؟
اگر ان سب چیزوں پر کوئی پابندی نہیں، تو مسلمانوں کی نمازوں کے اوقات کیوں تبدیل کیے جا رہے ہیں؟ یہ دوہرا معیار کیوں؟
کیا اسی دن کے لیے مسلمانوں نے ہندوستان کو آزاد کرایا تھا؟
ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں دیں، جیلیں کاٹیں، اور اپنی زمینیں چھوڑیں، تاکہ ایک آزاد ملک میں سبھی کو برابری کے حقوق حاصل ہوں۔
لیکن آج ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان قربانیوں کا کوئی اعتراف نہیں کیا جا رہا۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو مسلمانوں کے دینی اور سماجی حقوق مزید محدود کیے جا سکتے ہیں۔
مسئلے کا حل کیا ہے؟
1. مسلمانوں کو متحد ہو کر اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
2. مسلم قیادت کو چاہیے کہ حکومت سے بات کرے اور اس طرح کے غیر منصفانہ فیصلے کو واپس لینے کی کوشش کرے۔
3. بات چیت اور مفاہمت کی جائے تاکہ یہ مسئلہ آئندہ کے لیے ختم ہو جائے۔
4.دوسرے مذاہب کے معتدل اور انصاف پسند افراد کو بھی اس مسئلے پر بیدار کیا جائے تاکہ وہ بھی حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔
نتیجہ
آج جمعہ کی نماز کے وقت کو تبدیل کیا گیا، کل کو عید کی نماز، تراویح، اور دیگر اسلامی عبادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر مسلمانوں نے ابھی خاموشی اختیار کر لی، تو یہ ایک خطرناک نظیر بن جائے گی اور بار بار اسی طرح کے فیصلے مسلط کیے جائیں گے۔
“لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی”— یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، اور اگر مسلمانوں نے اس وقت اس ناانصافی کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو آنے والی نسلیں اس کی بھاری قیمت چکائیں گی۔
No Comments