مسلم شریف کی ایک روایت سے میلاد النبی پر استدلال اور اسکا جواب
(مجیب: مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند )
www.atasamiee.in
سوال
حضرت مفتی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
آپ سے ایک سوال ہے کہ میرے پاس ایک ویڈیو آئی ہے جسمیں ایک مولوی صاحب مسلم شریف کی طرف نسبت کرتے ہوئے ایک روایت بیان کررہے اور اس سے یہ ثابت کررہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میلاد کا ثبوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میلاد منانیوالوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، اور وہ یہ الفاظ ذکر کررہے ہیں
وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: ” مَا أَجْلَسَكُمْ؟ ” قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ (١) ، قَالَ: ” آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ ” قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: ” أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ “
ترجمہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حلقے کے قریب پہنچے اور پوچھا:
“تم یہاں کس مقصد سے بیٹھے ہو؟”
صحابہ نے عرض کیا:
“ہم اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس پر حمد بجا لا رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور
آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سوال کیا:
“کیا واقعی تمہیں اسی مقصد نے بٹھایا ہے؟”
انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر اس کی تصدیق کی۔
اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں لی، بلکہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہا ہے۔”
اس روایت میں محل استدلال “ومن علینا بک” ہے
تو کیا انکا استدلال اور یہ روایت درست ہے؟
براہ کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں
محمد یونس مدینہ منورہ
الجواب بتوفیق الملک الوھاب
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
ہمیں مسلم شریف کے اندر حدیث کے یہ الفاظ نہیں ملے ہیں
مسلم شریف کے اندر حدیث کے الفاظ یہ ہیں
كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَى تِلاَوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ:
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز ، عن ابي نعامة السعدي ، عن ابي عثمان ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: خرج معاوية على حلقة في المسجد، فقال: ما اجلسكم؟، قالوا: جلسنا نذكر الله، قال: آلله ما اجلسكم إلا ذاك؟، قالوا: والله ما اجلسنا إلا ذاك، قال: اما إني لم استحلفكم تهمة لكم، وما كان احد بمنزلتي من رسول الله صلى الله عليه وسلم اقل عنه حديثا مني، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على حلقة من اصحابه، فقال: ” ما اجلسكم “، قالوا: جلسنا نذكر الله ونحمده على ما هدانا للإسلام، ومن به علينا، قال: ” آلله ما اجلسكم إلا ذاك؟ “، قالوا: والله ما اجلسنا إلا ذاك؟ قال: ” اما إني لم استحلفكم تهمة لكم، ولكنه اتاني جبريل فاخبرني ان الله عز وجل يباهي بكم الملائكة “.
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں ایک حلقے (والوں) کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے، انہوں نے کہا؛ دیکھو، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو، (اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا: “تم کس غرض سے بیٹھے ہو؟” انہوں نے کہا: ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟” انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے۔”
مذکورہ حدیث میں میلادیوں کے استدلال کی بنیاد یہ الفاظ ہیں:
وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ جو مسند احمد کے ایک نسخے میں ہیں
یعنی اللہ نے آپ کے ذریعہ ہم پر احسان کیا ہے۔
عرض ہے کہ اس حدیث میں (بک ) مخاطب کی ضمیر کا ذکر کسی راوی کی غلطی ہے اور صحیح ’’به‘‘ غائب کی ضمیر ہے جو ’’اسلام ‘‘ کی طرف لوٹ رہی ہے نہ کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چنانچہ مسند احمد کے محققین نے اس مقام پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا ہے:
(١) في هامش (س) : به.
یعنی دارالکتب المصریہ والے نسخہ کے حاشیہ پر یہ وضاحت ہے اور اس نسخہ پر جو وضاحتیں ہیں ان میں نسخوں کا اختلاف وغیرہ بتلایا گیا ہے ، معلوم ہوا کہ مسند احمد کے دیگر نسخوں میں مذکورہ مقام پر ’’به‘‘ غائب کی ضمیر ہی ہے ۔
یہی بات صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کے اکثرطرق میں یہی الفاظ ہیں ۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ مسلم ابن حبان وغیرہ میں “بک” کی بجائے “بہ” ہے
تو نسخوں کی غلطی کی وجہ سے آپ نے ایک نسخے کے الفاظ تو اچک لئے لیکن دوسرے نسخوں اور دیگر طرق میں جو الفاظ آئے ہیں ان سے نظریں چرالیں ایسا کیوں؟
نیز آپ نے جس کتاب کا حوالہ دیا اس کتاب میں آپکے پیش کردہ الفاظ ہیں ہی نہیں تو ایسی خیانت کیوں کی گئی؟ دیانت کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ اسی کتاب کا نام ذکر کرتے جسمیں یہ الفاظ ہیں نیز ان نسخوں کا بھی ذکر کرتے جنمیں یہ الفاظ نہیں ہیں نیز ان طرق کا تذکرتے جنمیں یہ الفاظ نہیں ہیں
ثانیا
اگر پیش کردہ حدیث میں مذکورہ الفاظ تسلیم کرلیں تب بھی اس سے میلاد کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ :
حدیث میں ذکر نبوی نہیں بلکہ ذکر الہی کی بات ہے یادرہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر بھی اللہ ہی کی تحمید کاتذکرہ ہے ۔
اگریہ بھی مان لیں کہ صحابہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی موقع پر ذکر کیا تو اس سے میلاد کا کیا تعلق؟؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ایک الگ چیز اور محفل میلاد ایک الگ چیز ہے۔
کیونکہ میلاد نام ہے ہر سال تاریخ پیدائش آنے پر اور یوم ولادت پر تذکرہ اور مخصوص اعمال کرنے کا ، جبکہ اس روایت سے وہ ثابت نہیں ہورہا ہے کہ
مذکورہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت پر یا جیسا کہ مشہور ہے کہ آپکی ولادت ربیع الاول میں ہوئی تھی تو ربیع الاول میں انجام دیا گیا، پھر اسمیں یہ کہاں ذکر ہے کہ بارہ ربیع الاول کو یہ کام انجام دیا گیاجیسا کہ آپ ہر سال بارہ ربیع الاول کو میلاد مناتے ہو؟
اگر یہ سب ثابت نہیں تو پھر اس کا میلاد سے کیا تعلق؟
نیز اگر اسکا تعلق میلاد سے ہے تو کیا بعد میں صحابہ نے اس عمل کو جاری رکھا؟
اگر جاری رکھا تو اسکا ثبوت کیا ہے؟ اور اگر جاری نہیں رکھا تو پھر آپ کیوں ہر سال میلاد مناتے ہو؟
“اس روایت کے دیگر طرق”
ہم افادۂ عام کی خاطر اس روایت کے دیگر طرق کو بھی ذکر کرتے ہیں
تاکہ معلوم ہوجائے کہ حدیث کے الفاظ صحیح کیا ہیں؟
ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ، قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟» قَالُوا: وَاللهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ» [صحيح مسلم (4/ 2075)].
محمد بن بشار
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ العَطَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ، إِلَى المَسْجِدِ فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ. قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ. قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ لِمَا هَدَانَا لِلإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَقَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟» قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ. قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ لِتُهْمَةٍ لَكُمْ، إِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»: ” هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ ” [سنن الترمذي ت شاكر (5/ 460)].
الحسين بن الحسن المروزي
يعقوب بن إبراهيم
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ,
قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , – وَاللَّفْظُ لِلْحُسَيْنِ – قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ . قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؛ قَالَ: اللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ؟ . قَالُوا: اللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ؛ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ , وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي , خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» . قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا مِنَ الْإِسْلَامِ , فَقَالَ: «اللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟» . قَالُوا: اللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ؛ قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ , وَلَكِنْ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»[الشريعة للآجري (5/ 2460)].
أحمد بن إبراهيم الدورقي
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟ » قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ » قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ».[صحيح ابن حبان – مخرجا (3/ 95)].
واللہ اعلم
محمدعطاءاللہ سمیعی
No Comments