آدابِ معاشرت یعنی زندگی گزارنے کے آداب
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور فہم و فراست عطا فرمائی ہے، تاکہ وہ اپنی زندگی کو مہذب اور باوقار طریقے سے گزارے۔ اسلام صرف عبادات کا مذہب نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ دینِ اسلام نے جہاں حلال و حرام کے اصول متعین کیے ہیں، وہیں بعض امور کو پسندیدہ اور بعض کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ ان میں سے کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو براہِ راست جائز و ناجائز کے دائرے میں نہیں آتیں، بلکہ ان کا تعلق اخلاقیات اور آداب سے ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ آداب سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سلجھے ہوئے افراد کی نظروں میں غیر مہذب شمار ہوتے ہیں۔ آدابِ معاشرت درحقیقت وہ اصول ہیں جن کی پیروی کرنے سے نہ صرف زندگی آسان ہوتی ہے بلکہ معاشرتی تعلقات بھی خوشگوار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند اہم آداب کو ترتیب وار بیان کیا جا رہا ہے:
1. کسی کے گھر یا ادارے میں داخل ہونے کے آداب
• اگر کسی کے گھر میں جائیں تو اجازت لے کر اسی طرح کسی ادارے میں داخل ہوں تو اگر وہاں داخلہ کیلئے کچھ قانونی اور اصولی کاروائی ضروری ہو تو اسکا خیال رکھیں، بغیر اجازت گھر میں داخل ہونایا اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ادارہ میں داخل ہونا ناپسندیدہ ہے۔
• دروازہ کھول کر اسی حالت میں چھوڑ دینا بد تہذیبی ہے، اگر دروازہ کھول کر داخل ہوئے تو اسے بند بھی کریں تاکہ کوئی جانور یا اجنبی اندر نہ آسکے۔
• کسی کے گھر یا دفتر میں بلااجازت گھس جانا اور اپنی مرضی سے چیزیں استعمال کرنا غیر اخلاقی ہے۔
• دروازہ کھٹکھٹانے یا گھنٹی بجانے کے بعد تین بار انتظار کریں، اگر جواب نہ ملے تو واپس چلے جائیں، زبردستی دروازہ پیٹنا یا بار بار گھنٹی بجانا آداب کے خلاف ہے۔
2. مسجد اور مدرسے کے آداب
• مسجد میں جاکر بلند آواز میں بات چیت کرنا، خاص طور پر ایسے مدارس میں جہاں طلبہ خاموشی سے مطالعہ کر رہے ہوں، شریعت اور اصول دونوں کے خلاف ہے۔
بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ کسی ادارے میں گئے وہاں کے اصول کے خلاف حرکات کرنے لگے
مثلا مسجد میں جاکر محلے کی مسجد کی طرح بات چیت کرنی شروع کردی جبکہ مدرسے کا اصول ہے کہ طلبا خاموش بیٹھیں اب یہ شخص وہاں بات کررہا ہے جس سے مدرسے کا اصول بھی ٹوٹ رہا ہے ، بچوں پر غلط اثر پڑ رہا ہے اور شریعت کے خلاف بھی ہورہا ہے،
• وضو خانے پر چپل یا جوتے پہن کر چڑھ جانا مناسب نہیں، چاہے آپ بڑے آدمی ہوں یا موزے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، ہر کسی کو صفائی اور ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
• مسجد میں کسی اور کی چپل بلا اجازت پہن لینا اور وضو کر کے اسے بھگو دینا بد اخلاقی ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص موزے پہن کر آیا ہو اور اب اسے تکلیف ہوگی، نیز دوسرے کے مال کو بلااسکی اجازت کے استعمال کرنا لازم آتا ہے جس سے حدیث میں منع کیا گیا ہے۔
• مدرسے کے بچوں کو حکم دینا کہ پانی لاؤ، چپل لاؤ، یا کوئی اور کام کرو، درست نہیں۔ یہ بچے مہمانِ رسول ہیں، آپ کے نوکر نہیں۔
• نماز کے دوران موبائل فون بجنے سے دوسروں کی عبادت میں خلل پڑتا ہے، لہٰذا مسجد میں داخل ہونے سے پہلے موبائل خاموش کر دینا چاہیے۔
3. کھانے پینے کے آداب
• کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا سنت ہے، اس کا اہتمام کریں۔
• کھانے میں چپڑ چپڑ کی آواز نکالنا، ہونٹوں کو چوسنا یا بے ترتیبی سے کھانا آداب کے خلاف ہے۔
• کھانے کے دوران زیادہ باتیں کرنے، کھانے کو برا بھلا کہنے یا دوسروں کے کھانے کو گھورنے سے گریز کریں۔
• پلیٹ میں اتنا ہی کھائیں جتنا کھایا جا سکے، کھانے کا ضیاع ممنوع ہے۔
• پانی یا مشروب پینے کے دوران گلاس یا بوتل کو منہ سے لگا کر پینے کے بجائے گلاس میں انڈیل کر پیا جائے۔
•بھوک سے کم کھانا چاہئے اس سے صحت بھی درست رہتی ہے
4. مجلس اور ملاقات کے آداب
• جب کسی مجلس میں داخل ہوں تو سلام کریں، اور اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دیں۔
• گفتگو کے دوران دوسروں کی بات کاٹنا، تیز بولنا، یا بدتمیزی کرنا غیر مہذب رویہ ہے۔
• اگر دو افراد آہستہ آواز میں بات کر رہے ہوں تو ان کے قریب جاکر سننے کی کوشش کرنا غیر مناسب ہے۔
• اگر کسی محفل میں بیٹھے ہوں تو بے مقصد موبائل استعمال نہ کریں، بلکہ شرکائے مجلس کی باتوں کو غور سے سنیں۔
• دوسروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، کسی کا مذاق اڑانا، اس کی کمزوریوں پر ہنسنا یا دوسروں کو حقیر سمجھنا غیر اسلامی عمل ہے۔
• کسی کی ذاتی چیزیں بلا اجازت استعمال کرنا، مثلاً موبائل، قلم، یا کوئی بھی سامان، بے ادبی میں شمار ہوتا ہے۔
•اگر کوئی آپکے کام آتا ہے تو اسکا شکریہ ضرور ادا کریں بعض لوگ دوسروں کے تعاون کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور شکریہ ادا نہیں کرتے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ جو انسان دوسرے انسان کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکرگزار نہیں ہوسکتا
5. قرض اور لین دین کے آداب
• اگر کسی سے قرض لیا تو وقت پر واپس کرنا ضروری ہے۔
• قرض دینے والے کا فون اٹھانا بند کر دینا اور اس سے نظریں چرانا غیر اخلاقی اور غیر شرعی عمل ہے۔
• لوگ اپنی ضرورت کے تحت قرض مانگتے ہیں، مگر واپسی کے وقت قرض دینے والے کی ضرورت کا احساس کرنا بھی ضروری ہے۔
6. راستے کے آداب
•راستہ چلتے ہوئے جو شخص مسلمان دکھائی دے اسکو سلام کریں سامنے والے کے سلام کا انتظار نہ کریں حدیث میں آتا ہے کہ جو سلام میں پہل کرتا ہے وہ تکبر سے بری ہے یعنی اسکے اندر تکبر نہیں ہوتا، یااللہ اس کے بار بار سلام کرنے کی برکت سے اسکے اندر سے تکبر نکال دینگے،
بعض لوگ منہ تکتے رہتے ہیں کہ یہ سامنے والا مجھے سلام کرے پھر میں اسکے سلام کا جواب دوں، بھلا میں تو بڑا ہوں میں کیوں سلام کروں ؟ یہ سوچ غلط ہے،
• غلط سمت میں چلنا یا گاڑی چلانا دوسروں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔
بعض لوگ غلط سمت میں چلتے ہیں اور اگر صحیح سمت میں آنیوالے سے گاڑی وغیر لگ گئی جو کہ اسی غلط چلنے کی وجہ سے لگی ہوتی ہے تو یہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے، جھگڑنا شروع کر دیتا ہے جو ظلم اور انتہائی غیر مہذب حرکت ہے۔
• دوکان کے باہر راستہ گھیر کر کام کرنا یا سامان رکھنا سبھی راہگیروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے، اس سے گریز کرنا چاہیے۔
جو لوگ اپنی دوکانوں کے سامنے راستے گھیر کر کام کرتے ہیں جس سے ہر راہ گیر کو پریشانی ہوتی ہے یہ ناجائز ہے، ایسے لوگ اپنی جائز آمدنی کو اپنے اس عمل کی وجہ سے ناجائز کے شبہ میں ڈال دیتے ہیں
• گھروں کے باہر چارپائیاں ڈال کر بیٹھ جانا اور راستے کو تنگ کر دینا دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔
• دوکانوں یا گھروں کے باہر غیر ضروری ریمپ اور چھجے نکالنا، یا راستے میں جانور باندھنا، عام گزرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے، جو کہ غیر شرعی ہے۔
7. گاڑی پارک کرنے کے آداب
• گاڑی اس طرح پارک کرنا کہ دوسروں کے لیے راستہ بند ہو جائے، یا دوسری گاڑی جی جگہ ہی باقی نہ رہے جبکہ درست طریقہ پر گاڑی پارک کرنے سے دوسری گاڑیوں کیلئے جگہ نکل سکتی تھی یہ سب غیر اخلاقی اور غیر شرعی حرکت ہے۔
• کسی اور کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر دینا یا دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب بننا درست نہیں۔
• اگر پارکنگ میں جگہ نہ ہو تو ایسا مقام تلاش کریں جہاں دوسروں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
8. گفتگو اور سوشل میڈیا کے آداب
• گفتگو میں نرمی اور شائستگی اختیار کریں، سخت یا تلخ لہجہ دوسروں کو تکلیف دیتا ہے۔
• کسی کی غیبت کرنا، بہتان لگانا یا جھوٹی خبریں پھیلانا حرام ہے۔
• سوشل میڈیا پر کسی کے خلاف جھوٹی خبریں یا نفرت انگیز باتیں پھیلانا بھی غیر اسلامی رویہ ہے۔
• فضول اور بے مقصد بحث میں الجھنے کے بجائے اچھے الفاظ میں بات مکمل کریں۔
• موبائل فون یا سوشل میڈیا پر فحش یا گندی گفتگو اور پسوسٹس کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ساتھ بے حیائی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
مختصرا
آدابِ معاشرت کا تعلق صرف ظاہری اخلاقیات سے نہیں بلکہ یہ دینِ اسلام کا ایک اہم جز ہے۔ معاشرتی زندگی میں انہی آداب کو اپنانے سے ایک خوبصورت، منظم اور مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ جو لوگ ان آداب کا لحاظ نہیں رکھتے، وہ دوسروں کے لیے تکلیف اور پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “کامل مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔” اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ ہمارے کسی بھی عمل سے کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم ان آداب کو اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کریں اور دوسروں کو بھی ان کی ترغیب دیں، تاکہ ہمارا معاشرہ اسلامی اصولوں کے مطابق منظم اور خوشگوار بن سکے۔
No Comments