مسلمانوں کے لیے معیاری عصری تعلیمی ادارے قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی
www.atasamiee.in
اسلام دینِ فطرت ہے، اور اس کی بنیاد ہی تعلیم و تعلم پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی ’’اقْرَأْ‘‘ یعنی ’’پڑھ‘‘ سے شروع ہوتی ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنے کی کتنی اہمیت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔‘‘ یہ دونوں نصوص اگرچہ علم دین سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ انسان کا تہذیب یافتہ ہونا اور نور علوم وفنون سے آراستہ ہونا بہر حال جہالت کے اندھیروں سے لاکھ درجہ بہتر ہے،
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو تعلیم و تعلم کی ترغیب دی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں عزت اسکی ہوتی ہے جو اندر سے جانوروں سے ممتاز ہو،
اور انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنیوالی شے یہ علم وفن ہی ہیں،
لیکن افسوس کہ آج مسلمان تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہماری قوم کے نوجوانوں کے پاس اعلیٰ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ ہمارے پاس اپنے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے ہماری نئی نسل کو غیر مسلموں کے تعلیمی اداروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں وہ نہ صرف دینی تعلیم سے محروم ہوجاتے ہیں بلکہ ان کا ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ارتداد اور الحاد کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعلیمی بنیاد مضبوط نہیں ہے، اور ہماری اولاد ایسی جگہ تعلیم حاصل کر رہی ہے جہاں ان کے عقائد پر حملے کیے جاتے ہیں۔
فضول خرچیوں کی جگہ تعلیمی اداروں پر سرمایہ لگائیں
ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مال و دولت کو غلط جگہوں پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کے غیر ضروری رسومات، فضول دعوتیں، مہنگے مکان، عالیشان گاڑیاں، اور نمود و نمائش پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن جب بات دینی و عصری تعلیم کے لیے اسکول یا کالج بنانے کی آتی ہے تو ہمیں پیسہ خرچ کرنا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ تعریف کریں، لیکن یہ دولت چند گھنٹوں کی خوشی کے بعد ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر یہی پیسہ کسی تعلیمی ادارے کے قیام پر لگایا جائے تو نہ صرف ہماری نسلیں تعلیم یافتہ ہوں گی بلکہ اس کا ثواب بھی ہمیشہ جاری رہے گا۔ شادیوں میں سادگی اپنانے اور فضول رسومات کو ترک کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سب سے سادہ ہوا کرتا تھا، اور ہمیں بھی اسی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کا اہتمام
اگر ہم اپنی نسلوں کو دینی و دنیاوی لحاظ سے مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہر علاقے میں اپنے اسلامی اسکول اور کالجز قائم کریں۔ ایسے ادارے ہوں جہاں مسلمان بچے اور بچیاں الگ الگ، مکمل اسلامی ماحول میں تعلیم حاصل کریں۔ جہاں دینی اور عصری علوم کو یکجا کرکے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو دنیا میں بھی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی سرخرو ہو۔
اسلام میں طاقتور مؤمن کو پسند کیا گیا ہے، اور طاقت کسی بھی طرح کی ہو سکتی ہے۔ علم کی طاقت، قلم کی طاقت، دنیوی فنون کی مہارت، معیشت کی مضبوطی، حکومت کی طاقت— یہ سب اسلام کی نظر میں اہم ہیں۔ اگر ہم صرف دینی مدارس پر انحصار کریں اور عصری تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جائیں، تو ہم ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہیں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے ادارے قائم کریں جو ہماری تعلیمی ضروریات کو پورا کریں۔
مدارس پر عصری علوم کا بوجھ نہ ڈالیں
اکثر لوگ دینی مدارس سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے نصاب میں عصری علوم کو بھی شامل کریں۔ یہ مطالبہ غلط ہے۔ مدارس کو اپنی اصل حالت میں رہنے دیں، تاکہ وہ دین کے ماہرین تیار کر سکیں۔ ہمیں خود عصری تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں اور ان میں اسلامی ماحول کو یقینی بنانا چاہیے۔ پھر ہم اپنے فارغین کو مدارس میں دینی تعلیم کے لیے بھیجیں، اور دینی مدارس کے فضلاء کو عصری علوم کے اداروں میں بھیج کر انہیں جدید علوم سے روشناس کرائیں۔ اس طرح دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں ماہرین پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی تعمیر: ایک صدقہ جاریہ
یاد رکھیے! اگر ہم اپنی دولت کو صرف شادی بیاہ کی فضول رسومات، مہنگے مکانوں اور بے جا خرچوں میں ضائع کریں گے، تو ہماری نسلیں تعلیم کے میدان میں مزید پیچھے چلی جائیں گی۔ اس کے برعکس، اگر ہم اپنی دولت کو تعلیمی اداروں کے قیام میں خرچ کریں تو یہ نہ صرف ہمارے بچوں کے لیے مفید ہوگا بلکہ ہمارے لیے بھی صدقۂ جاریہ بنے گا۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب انسان کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں:
1. وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں
2. نیک اولاد جو دعا کرے
3. ایسا رفاہی عمل جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں، جیسے کنواں کھدوانا، پل بنوانا، یا تعلیمی ادارہ قائم کرنا
تعلیمی اداروں کا قیام ایک ایسا نیک عمل ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق ان کوششوں میں حصہ لینا چاہیے۔ اگر خود ادارہ قائم نہیں کر سکتے تو جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں، ان کا ساتھ دیں، ان کی مدد کریں، اور اس کارِ خیر میں شریک ہو کر اپنی آخرت سنواریں۔
جو لوگ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں انکا ساتھ دیں انکا تعاون کریں آپ جس لیول پر بھی ہیں اپنی طاقت انکے مشن کو آگے بڑھانے میں صرف کریں ،
اگر آج ہم اس مشن کو اپنا لیں اور ہر علاقے میں معیاری اسلامی تعلیمی ادارے قائم کریں، تو آنے والی نسلیں ہمیں نیک نامی سے یاد کریں گی۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور اپنی قوم کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ شادی بیاہ اور دیگر غیر ضروری اخراجات پر لاکھوں روپے ضائع کرنے کے بجائے اگر ہم یہ رقم اپنے بچوں کے تعلیمی مستقبل پر خرچ کریں تو نہ صرف ہماری نسلیں دین و دنیا میں ترقی کریں گی بلکہ یہ صدقۂ جاریہ بھی ہوگا، جو ہماری آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے گا۔ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور اسی میں ہماری کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔
No Comments