Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا یومِ وفات یا یومِ پیدائش آنے پر مرحوم شخصیت کا تذکرہ کرنا بدعت نہیں؟

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا یومِ وفات یا یومِ پیدائش آنے پر مرحوم شخصیت کا تذکرہ کرنا بدعت نہیں؟

کیا یومِ وفات یا یومِ پیدائش آنے پر مرحوم شخصیت کا تذکرہ کرنا بدعت نہیں؟

کیا یومِ وفات یا یومِ  پیدائش آنے پر مرحوم شخصیت کا تذکرہ کرنا بدعت نہیں؟

محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

آج کے زمانے میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے کہ جب بھی کسی بزرگ، عالمِ دین، یا کسی بڑی شخصیت کی پیدائش یا وفات کا دن آتا ہے، تو سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ گروپس میں ان کے تذکرے شروع ہو جاتے ہیں، کہ آج ہی کے دن فلاں بزرگ کی پیدائش ہوئی تھی یا آج ہی کی تاریخ میں فلاں شخصیت کا انتقال ہوا تھا وغیرہ وغیرہ، ان کی خدمات کو بیان کیا جاتا ہے، مضامین لکھے جاتے ہیں، تصاویر وائرل کی جاتی ہیں، اور یوں ایک پورا ماحول بنایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عمل بدعت کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں؟

یہی کام جب بریلوی حضرات کرتے تھے تو دیوبندی علما اسے بدعت کہتے تھے، لیکن اب جب یہی چیز دیوبند کی صفوں میں بھی عام ہو چکی ہے تو اسے جواز بلکہ استحسان کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
عوام تو عوام جدید علماء اس کام کو انجام دیتے ہیں بلکہ علماء ہی انجام دیتے ہیں اسلئے کہ مضامین لکھنا انکی خدمات کو بیان کرنا کسی عام انسان غیر پڑھے لکھے کا تو کام نہیں ہوسکتا یہ تو کوئی اردو داں اور پڑھا لکھا بندہ ہی کرسکتا ہے ،
اور جب انکو سمجھایا جائے تو اپنے عمل کی تاویالات کرتے ہیں کہ ہم کوئی مجلس منعقد تھوڑے ہی کررہے ہیں، ہم تو انکی تاریخ اور انکے کارناموں کو نئی نسل کے سامنے پیش کررہے ہیں ، ارے بھائی کیا کارنامے بیان کرنے کیلئے انکا یوم پیدائش یا یوم وفات ہی ملا تھا؟ سارا سال آپ کہاں غائب تھے؟ یا انکے کارناموں سے ناواقف تھے؟ یا فرصت آج کے دن کیلئے اٹھا کر رکھدی تھی؟
بات اصل میں یہی ہے کہ ہم نے انکے کام اختیارچکر لئے انداز بدل کر ورنہ اسکی روح وہی ہے، کای کے بھی یوم پیدائش پر کسی بھی قسم کا اہتمام حتی کہ قرآن پڑھنے کا اہتمام بھی برتھ ڈے منانے میں داخل ہے اسی طرح یوم وفات پر کسی بھی قسم کا اہتمام برسی میں داخل ہے، بس فرق یہ ہوگا کہ اغیار اپنے اعتبار سے برتھ ڈے اور برسی مناتے ہیں اور ہم اسلام کا لیبل لگا کر برتھ ڈے اور برسی مناتے ہیں حالانکہ اسلام سے انکا دور دور تک کوئی تعلق نہیں،
جب بریلوی حضرات کسی مرحوم بزرگ کے ایصالِ ثواب کے لیے محافل منعقد کرتے تھے، ان کی خدمات بیان کرتے تھے، ان کی یاد میں مجالس کا انعقاد کرتے تھے۔ تودیوبندی حضرات نے اس عمل کی شدید مذمت کی اور اسے بدعتِ سیئہ قرار دیا۔ لیکن اب ماڈرن دور میں ان محافل کی جگہ سوشل میڈیا پوسٹس، یوٹیوب ویڈیوز، وہاٹس ایپ گروپس، اور تحریری مضامین نے لے لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
• کیا کسی صحابی نے کسی بڑے عالم، بزرگ، یا شہید کی برسی منائی؟
• کیا نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے کسی بھی شخصیت کے یومِ پیدائش یا یومِ وفات پر اس طرح کا یا کسی بھی طرح کا کوئی اہتمام کیا؟
• کیا تابعین، تبع تابعین، یا محدثین نے کسی بزرگ کے انتقال کے دن ان کے لیے خاص طور پر مضامین لکھے یا مجالس منعقد کیں؟
• اگر یہ سب کچھ دین کا حصہ ہوتا تو کیا صحابہ اور تابعین اس سے بے خبر رہتے؟

بدعت کی تعریف اور یہ عمل

رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے:
“من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد”
(صحیح البخاری صحیح مسلم )
“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔”

فقہاء اور محدثین نے بدعت کی جو تعریف بیان کی ہے، اس کے مطابق دین میں کسی نئے عمل کا اضافہ بدعت کہلاتا ہے۔

اگر یہی معیار ہے تو پھر کسی بھی عالم یا بزرگ کی وفات کے دن ان کے تذکرے کا خاص اہتمام کرنا، ان پر مقالات لکھنا، سوشل میڈیا پر ان کے تذکرے کو عام کرنا، ان کی تصاویر پھیلانا، اور ان کی یاد میں مجالس کا انعقاد کرنا کیا بدعت کے زمرے میں نہیں آتا؟

بریلوی کرے تو بدعت، دیوبندی کرے تو جائز؟

یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہی عمل بریلوی حضرات کرتے تھے تو اسے ناجائز اور بدعت کہا جاتا تھا، لیکن اب دیوبندی حلقوں میں یہی چیز عام ہو چکی ہے تو تاویلات کے دروازے کیوں کھول دیے گئے؟ کیا یہی انصاف ہے؟

جب بریلوی حضرات کسی بزرگ کی برسی مناتے ہیں، ان کے لیے خاص محافل منعقد کرتے ہیں، ان کی یاد میں پروگرام کرتے ہیں، تو ہم اسے بدعت کہتے ہیں۔ لیکن جب ہم وہی کام جدید انداز میں کریں، یعنی سوشل میڈیا پر ان کے یومِ وفات پر خاص تذکرے کریں، ان کی خدمات پر مضامین لکھیں، ان کی تصاویر وائرل کریں، تو کیا یہ بھی بدعت نہیں؟
• اگر بریلوی حضرات کا کسی بزرگ کی یاد میں محفل کرنا بدعت ہے تو پھر ہمارا سوشل میڈیا پر کسی بزرگ کی وفات یا پیدائش کے دن اسے خاص طور پر نمایاں کرنا کیا ہے؟
• اگر بریلوی حضرات کا کسی عالم کے لیے مخصوص ایصالِ ثواب کرنا بدعت ہے، تو پھر کسی بزرگ کی وفات پر پورا دن ان کے تذکرے کرنا، مضامین لکھنا، کیا یہ بھی اسی زمرے میں نہیں آتا؟
جبکہ اب ہمارے کام میں قباحت زیادہ ہے کیونکہ پہلے جب بریلوی حضرات محافل میلاد وبرسی منعقد کرتے تھے تو صرف چند لوگ ہی اسمیں شرکت کرتے تھے لیکن اب انٹرنیٹ کی بدولت اور سوشل میڈیا کے ذریعہ سارا عالم اسکی زد میں آتا ہے تو ہمارا عمل زیادہ قبیح ہوا
• کیا کسی کام کا طریقہ بدلنے سے اس کی حقیقت بدل جاتی ہے؟

علمائے کرام کی رائے

علامہ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“كل شيء لم يكن في عهد النبي صلى الله عليه وسلم فهو بدعة، ولكن منها ما يكون حسنًا ومنها ما يكون سيئًا.”
(فتح الباري: 13/253)
“ہر وہ چیز جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نہ تھی وہ بدعت ہے، لیکن ان میں کچھ اچھی اور کچھ بری ہوتی ہیں۔”
(یعنی ایسا کام جسکا ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ممکن تھا لیکن پھر بھی نہ نبی نے وہ کام کیا نہ صحابہ نے کیا تو بعد میں وہ کام کرنا بدعت ہوگا)
مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“یہ اصولی بات ہے کہ جو چیز صحابہ کرام کے دور میں موجود نہ تھی اور بعد میں اسے دین میں داخل کیا گیا تو وہ بدعت کے دائرے میں آتی ہے، چاہے اس کا نام کچھ بھی رکھ لیا جائے۔”
(معارف القرآن، جلد 1، صفحہ 135)

خلاصہ

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ کسی بزرگ کے یومِ پیدائش یا یومِ وفات پر اس طرح کے خاص اہتمام دین میں کہیں ثابت نہیں۔ یہ ایک نیا رواج ہے جسے اب دیوبندی حلقوں میں بھی فروغ دیا جا رہا ہے، حالانکہ یہی چیز پہلے بدعت سمجھی جاتی تھی۔

اب ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
1. یا تو ہم دیانت داری کے ساتھ اس عمل کو بدعت مانیں، چاہے یہ کوئی بھی کرے۔
2. یا پھر ہمیں اپنے پہلے فتوے پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

ورنہ یہ دوہرا معیار دین کے اصولوں کے خلاف ہوگا کہ ایک ہی کام اگر دوسرا کرے تو بدعت، اور ہم کریں تو مستحسن!

No Comments

Leave a Reply