مفتئ اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ رحمة اللہ علیہ کی مرقد مبارک پر حاضری
مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمة اللہ علیہ کی مرقد مبارک (طاب اللہ ثراہ وجعل الجنة مثواہ) پر والد صاحب کی معیت میں اور مختلف اشخاص کے ساتھ متعدد مرتبہ حاضری ہوچکی ہے، اس مرتبہ ۱۸ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ مطابق ۱۹جنوری ۲۰۲۵ء کو میری اہلیہ کے بھائی مفتی محمد عارش قاسمی حفظہ اللہ کے ہمراہ حاضری ہوئی،
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ کا تعارف
مفتی اعظم ہند، حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1875ء – 1952ء) برصغیر کے جلیل القدر علما میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ایک بلند پایہ فقیہ، محدث، مصنف، مدرس، اور سیاسی رہنما تھے، جنہوں نے دینی، علمی، اور قومی خدمات انجام دے کر ہمیشہ کے لیے اپنا نام تاریخ میں ثبت کر دیا۔ آپ کی زندگی علم، تقویٰ، حق گوئی، اور خدمتِ خلق کا ایک حسین نمونہ تھی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ 1875ء میں ضلع سہارنپور، اتر پردیش کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور بعد ازاں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہما اللہ جیسے اکابرین شامل تھے، جن سے آپ نے فقہ، حدیث، اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔
علمی خدمات
1. تدریس:
حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تدریس میں صرف کیا۔ آپ نے دہلی سمیت مختلف مدارس میں تدریس کی ذمہ داریاں نبھائیں اور ہزاروں طلبہ کو علم دین سے آراستہ کیا۔ آپ کی تدریس کا انداز منفرد اور دلنشین تھا، جس سے طلبہ پر گہرا اثر پڑتا۔
2. تصنیفات:
آپ کی تصنیفی خدمات میں سب سے نمایاں کتاب “کفایت المفتی” ہے، جو فقہی مسائل پر ایک شاہکار اور علما کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف دینی اور علمی موضوعات پر کتب تحریر کیں، جن سے امت آج بھی استفادہ کر رہی ہے۔
3. فتویٰ نویسی:
آپ ایک عظیم مفتی تھے جن کے فتاویٰ کو علمی دنیا میں خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کے فتاویٰ جامعیت، اختصار، اور دلائل سے بھرپور ہوتے تھے، جو آج بھی علما اور دارالافتاء کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
سیاسی خدمات
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف جرات مندانہ موقف اختیار کیا اور کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
1. جمعیت علمائے ہند:
آپ جمعیت علمائے ہند کے بانیوں میں شامل تھے اور اس کے صدر کے طور پر مسلمانوں کے دینی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے شاندار خدمات انجام دیں۔
2. تحریک خلافت اور تحریک آزادی:
آپ نے تحریک خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مہاتما گاندھی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف تحریک چلائی۔ آپ کی قیادت میں مسلمان سیاسی میدان میں مضبوط اور منظم ہوئے۔
اخلاقی اوصاف اور مقام
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت علم و عمل، سادگی و تقویٰ، اور حق گوئی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے فیصلے نہایت منصفانہ اور امت کے مسائل کے حل میں مشعلِ راہ ہوتے تھے۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
وفات
حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے 31 دسمبر 1952ء کو دہلی میں وفات پائی۔ مہرولی میں ظفر محل کی دیوار کے سائے میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ کے مزار کے قریب آپ آسودۂ خواب ہیں، آپ کی وفات علمی، دینی، اور سیاسی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھی۔
آپ کی خدمات ہمیشہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ حضرت مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام تاریخ کے ان عظیم علما میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے علم و عمل کی شمع روشن کی اور اپنی زندگی دین و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
No Comments