Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جب وحی الہی ہے تو آپ سے بھول چوک کا صدورکیسے ہوا؟

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جب وحی الہی ہے تو آپ سے بھول چوک کا صدورکیسے ہوا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جب وحی الہی ہے تو آپ سے بھول چوک کا صدورکیسے ہوا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جب وحی الہی ہے تو آپ سے بھول چوک کا صدور کیسے ہوا؟

تحقیقی جواب
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

سوال: حضرت میرا ایک سوال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپ جو بھی بولتے ہیں وحی ہوتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ “میں بھی انسان ہوں بھول چوک مجھ سے بھی ہوتی ہےجیسے تم بھولتے ہو”
تو سوال یہ ہیکہ ان دونوں میں تو تعارض ہے اگر آپکا ہر کلام وحی ہے تو بھول چوک کا کیا مطلب؟ براہ کرم تشفی بخش جواب سے نوازیں

ابوطلحہ مدینہ منورہ

جواب
آپکے کلام کے وحی الہی ہونے اور آپکی بھول کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، پہلے آپکو وہ نص دکھا دیں جنمیں آپکے کلام کا وحی ہونا بیان کیا گیا ہے، اسکے بعد آپکی بھول چوک اور آپکے کلام کے وحی الہی ہونے کے تعارض کو دور کیا جائیگا
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:

“وما ینطق عن الهوى، إن هو إلا وحی یوحى”
(سورۃ النجم: 3-4)
ترجمہ: “اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو محض وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔”

یہ آیت مبارکہ دین کے احکام اور شریعت کے مسائل کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومیت اور عصمت کو واضح کرتی ہے کہ آپ کا ہر دینی کلام وحی الٰہی کے تحت ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا، اور بعض بشری تقاضوں کے تحت بھول جانا، اس وحی کے منافی نہیں ہے۔ اس بات کو علماء کرام نے واضح کیا ہے۔

1. وحی کی اقسام: علماء کے نزدیک تقسیم

علماء کرام نے “وحی” کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے:

(1) وحی متلو (قرآن مجید):

یہ وہ وحی ہے جو قرآن کی شکل میں نازل ہوئی، اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر اللہ کی حفاظت میں ہے:

“إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون”
(سورۃ الحجر: 9)
ترجمہ: “بیشک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”

(2) وحی غیر متلو (حدیث شریف):

یہ وہ وحی ہے جو قرآن کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، اور آپ نے اسے قول یا عمل کے ذریعے بیان کیا۔ اس وحی کو حدیث یا سنت کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے متعلق تمام فرامین بھی وحی پر مبنی ہیں، جیسا کہ فرمایا:

“ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه”
(سنن أبو داود: 4604، مسند أحمد: 16546)
ترجمہ: “خبردار! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی دی گئی ہے۔”

ان دونوں چیزوں یعنی وحی متلو اور غیر متلو میں آپ سے کوئی بھول چوک ممکن نہیں
2. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا اور بھول چوک

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے:

“قل إنما أنا بشر مثلكم یوحى إلي أنما إلهكم إله واحد”
(سورۃ الکہف: 110)
ترجمہ: “کہہ دیجیے کہ میں تمہارے جیسا ایک بشر ہوں، البتہ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔”

حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“إنما أنا بشر، أنسى كما تنسون، فإذا نسيت فذكروني”
(صحیح بخاری: 401، صحیح مسلم: 572)
ترجمہ: “میں ایک انسان ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو ویسے میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلایا کرو۔”

3. بھول چوک اور عصمت میں ترک تعارض
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیت ہیں ایک تو رسول ہونے کی دوسرے انسان ہونے کی ، رسول ہونے کی حیثیت دینی ہے ، دینی حیثیت سے یعنی باعتباررسول ہونے کی دینی امور میں آپکا کلام وحی ہوتا ہے، اسمیں آپ سے بھول چوک ممکن نہیں، مثلا نماز کا طریقہ حج کا طریقہ قرآن کی آیات وغیرہ کا علم دینے میں آپ سے کبھی بھول ممکن نہیں، اور انسان ہونے کی حیثیت سے آپکو وہ تمام امور پیش آتے ہیں جو کسی بھی انسان کو پیش آتے ہیں جیسا بھول لگنا سونا قضائے حاجت وغیرہ وغیرہ، اسی ضمن میں دنیاوی امور میں بھول چوک ہونا انسانی حثیت سے آپکو پیش آئے ہیں ، پھر اس بھول چوک میں بھی مصلحتیں تھیں جنکا بیان آگے آرہا ہے،
(1) شریعت کے احکام میں حفاظت:

دینی معاملات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل حفاظت کی گئی۔ اگر کبھی بشری تقاضے کے تحت کوئی بھول ہوئی، تو اللہ تعالیٰ نے فوراً اصلاح کا اہتمام کیا، تاکہ امت کے لیے رہنمائی ہو۔

مثال:
• ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تین رکعت پر سلام پھیر دیا۔ صحابہ کرام نے اس کی نشاندہی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً سجدۂ سہو کیا اور وضاحت فرمائی۔
(صحیح بخاری: 482، صحیح مسلم: 573)
یہ واقعہ امت کو نماز میں بھول ہونے پر “سجدۂ سہو” کا حکم سکھانے کے لیے تھا۔

(2) دنیاوی معاملات میں بشری حیثیت:

دنیاوی امور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بشری حیثیت کا اعتراف کیا، جیسا کہ زراعت کے معاملے میں فرمایا:

“أنتم أعلم بأمر دنياكم”
(صحیح مسلم: 2363)
ترجمہ: “تم اپنی دنیا کے معاملات کو مجھ سے بہتر جانتے ہو۔”

4. علماء دیوبند اور سلف صالحین کی وضاحت

(1) امام ابن حجر عسقلانی (فتح الباری):

امام ابن حجر لکھتے ہیں:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھول چوک صرف بشری تقاضے کے تحت ہوتی ہے، اور یہ امت کو احکام سکھانے کے لیے حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ دین میں جو کچھ آپ نے بیان فرمایا وہ مکمل طور پر وحی پر مبنی اور محفوظ ہے۔”
(فتح الباری، کتاب السهو)

(2) مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ:

مولانا تھانوی لکھتے ہیں:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھول جانا امت کے لیے رحمت ہے، کیونکہ اس سے سجدۂ سہو اور دیگر مسائل کا علم ہوا۔ یہ بھول چوک دین کے بنیادی پیغام یا وحی کے منافی نہیں ہے۔”
(نشر الطیب، صفحہ 144)

(3) امداد الفتاویٰ (دارالعلوم دیوبند):

علماء دیوبند کی کتاب “امداد الفتاویٰ” میں وضاحت ہے:

“نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کا مطلب یہ ہے کہ دین میں آپ سے کسی قسم کی خطا یا بھول ممکن نہیں، اور بشری تقاضے کے تحت جو بھول ہوئی، وہ بھی اللہ کی حکمت کے تحت امت کی رہنمائی کے لیے تھی۔”

خلاصہ
1. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دینی کلام (وحی متلو اور غیر متلو) محفوظ اور معصوم ہے، اور اس میں کسی قسم کی بھول چوک ممکن نہیں۔
2. بشری تقاضوں کے تحت بھول چوک یا دنیاوی معاملات میں فیصلے امت کے لیے آسانی اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تھے۔
3. دونوں امور میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے اور رسول ہونے کا کامل امتزاج ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

محمدعطاءاللہ سمیعی

No Comments

Leave a Reply