Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

موسم سرما میں بیوی سے گرماہٹ حاصل کرنا کیسا ہے؟

موسم سرما میں بیوی سے گرماہٹ حاصل کرنے کے سلسلے میں سوشل میڈیا پرگردش کررہے ایک مضمون کی تحقیق

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدلشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا سوال یہ ہیکہ سوشل میڈیا پر ایک مضمون گردش کررہا ہے جسکا عنوان ہے “وجود زن موسم سرما کیلئے نعمت” اس مضمون میں سلف صالحین سے ثابت کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ازواج کے جسم سے گرمی حاصل کیا کرتے تھے، مضمون پیش خدمت ہے آپ سے گزارش ہے کہ اس مضمون میں موجود روایات کے متعلق تحقیق پیش فرمادیں کہ انکی کیا حیثیت ہے؟ نوازش ہوگی

مضمون👇🏻

*وجودِ زن موسم سرما کے لیے نعمت …*

سلف صالحین سخت سردیوں میں اپنی بیویوں کی آغوش میں پناہ لیتے تھے، خاص طور پر(عربوں میں) اس وجہ سے کہ، اللہ تعالیٰ نے پر کشش عرب عورتوں کو ایک ایسی چربی کی تہہ سے نوازا ہے ، جو بچوں اور شریک حیات کو حرارت فراہم کرنےمیں مدد دیتی ہے، اور یہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کا کرشمہ ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ،، میں آتا ہے کہ فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، باوجود اپنی بے پناہ طاقت اورقوتِ برداشت کے، سخت سردیوں میں یا غسل کے بعد اپنی بیوی سے گرماہٹ حاصل کرتے تھے۔

اسی طرح کی روایت ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی منقول ہے ،جنہوں نے اپنے والد ماجد کی طرح موٹی تازی قابل حرارت بیوی کے ساتھ جسمانی حرارت حاصل کرنے کا طریقہ اپنایا، خاص طور پر جب اون کا کپڑا کچھ کام نہ آے، اور آگ کی تپش بھی بے اثر ہو جائے۔

اسی طرح حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہما کے بارے میں ذکر کیا ہے، کہ وہ بھی سخت سردیوں میں اپنی بیوی کی آغوش میں پناہ لے کر گرمی حاصل کرتے تھے۔اور موسم گرما کا سا مزہ محسوس کرتے تھے۔

اور اس طرح کی سردیوں میں قدرتی طور پر جسمانی حرارت حاصل کرنے کا طریقہ عربوں ،اورخاص طور پر قریش میں مشہور تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نےبھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ، یہی قریش کا سردیوں میں معمول تھا۔

اسی لیے صلحاء ، دانشمند حضرات، اور فاتحین بھر پور، موٹی تازی اور نرم و ملائم جسم والی دوشیزاؤں سے شادی کرنےکو ترجیح دیتے تھے ، اورکمزور، ہلکی پھکی ،سخت جسم والی خواتین سے گریز کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ ان حضرات سے راضی ہوں، کیوں کہ انہوں نے ہمیں سردی میں گرمی حاصل کرنے کاطریقہ تک سکھایا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سےان کی قبروں کو سرد راتوں میں گرم رکھے۔

ترجمہ: ابوالخیر محمد ساجد قاسمی

مستفتی محمدابوذر دہلی

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
یہ سوال میرے پاس مختلف لوگوں کی طرف سے آچکا ہے، لیکن میں تفصیلا جواب نہ لکھ سکا، بہر حال یہ ذہن میں رہے کہ بیوی سے استمتاع چاہے وہ کسی صورت ہو حلال ہے، چاہے اسکے جسم سے گرماہٹ حاصل کرنا ہو کچھ بھی ہو، لیکن مسئلہ یہاں یہ ہیکہ کیا سلف صالحین سے موسم سرما میں اپنی ازواج کے بدن سے گرماہٹ حاصل کرنے کا ثبوت ہے؟
تو اس بارے میں ہم اس مضمون میں موجود روایات کے بارے میں تحقیق پیش کرینگے کہ انکی کیا حیثیت ہے اور پھر اسکے بعد کچھ مزید صحیح روایات پیش کرینگے
یہ تمام روایات مصنف ابن ابی شیبہ میں “كتاب الطهارات الرجل يستدفئ بامرأته بعد أن يغتسل” کے تحت موجود ہیں

پہلی روایت

قال ابن أبي شيبة: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن بشير، عن إبراهيم التيمي أن عمر كان يستدفئ بامرأته بعد الغسل.
ترجمہ: ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان کے واسطے سے، انہوں نے بشیر سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے روایت کیا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) غسل کے بعد اپنی بیوی کے ذریعے گرم ہوتے تھے۔

حکم: ضعیف؛ کیونکہ (ابراہیم تیمی) اور (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) کے درمیان انقطاع ہے، کیونکہ ابراہیم تیمی عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے تقریباً ستائیس سال بعد پیدا ہوئے۔

دوسری روایت

قال ابن أبي شيبة: حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة ، عن عطاء الخراساني، عن أم الدرداء قالت: كان أبوالدرداء يغتسل ثم يجيء ،وله قرقفة يستدفئ به.
ترجمہ: ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے حماد بن سلمہ کے واسطے سے، انہوں نے عطاء خراسانی سے، انہوں نے ام الدرداء سے روایت کیا کہ وہ کہتی ہیں: ابو الدرداء غسل کر کے آتے تھے اور ان کے پاس ایک کپڑا ہوتا جس سے وہ گرم ہوتے تھے۔

حكمه: ضعيف؛ لأجل (عطاء الخراساني) وهو: عطاء بن أبي مسلم.
قال شعبة: حدثنا عطاء الخراساني وكان نسيا.
اقول (محمدعطاءاللہ سمیعی) شعبة بن الحجاج (رحمه الله)، وهو أحد أئمة علم الحديث المشهورين، قال في عطاء الخراساني بعض الكلمات النقدية. قال شعبة بن الحجاج:

“إنَّ عطاء الخراساني عنده لكل قوم حديث.”

ومعنى هذا القول أن شعبة بن الحجاج انتقد عطاء الخراساني بأنه كان يروي لكل قوم ما يوافق هواهم، مما يثير تساؤلات حول حفظه ودقة أسانيده.

عطاء الخراساني (رحمه الله) كان تابعياً معروفاً في مجال الحديث والفقه، ولكن بعض مروياته تعرضت للنقد من قبل المحدثين، ولذلك كان المحدثون يتعاملون مع رواياته بحذر.
قال الحافظ في التقريب: صدوق يهم كثيرا، ويرسل ويدلس .اه
(تقریب التہذیب ۴۶۱۴)

حکم: ضعیف؛ کیونکہ (عطاء خراسانی)، یعنی عطاء بن ابی مسلم، کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
شعبہ نے کہا: “ہمیں عطاء خراسانی نے حدیث سنائی، اور وہ بھول جانے والے تھے۔”
میں (محمدعطاءاللہ سمیعی) کہتا ہوں شعبہ بن الحجاج (رحمہ اللہ)، جو کہ علم حدیث کے ایک مشہور امام ہیں، نے عطاء خراسانی کے بارے میں کچھ تنقیدی کلمات کہے ہیں۔ شعبہ بن الحجاج نے کہا:

“عطاء خراسانی کے پاس ہر قوم کے لیے ایک حدیث ہے۔”

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ شعبہ بن الحجاج نے عطاء خراسانی پر یہ تنقید کی کہ وہ ہر قوم کو ایسی حدیث بیان کرتے تھے جو ان کی مرضی کے مطابق ہو، جس سے ان کے حافظے اور روایات کی دقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

عطاء خراسانی (رحمہ اللہ) ایک معروف تابعی تھے اور حدیث و فقہ کے میدان میں ان کا نام تھا، لیکن ان کی بعض روایات پر محدثین نے تنقید کی، اس لیے محدثین ان کی روایات کو احتیاط کے ساتھ لیتے تھے۔
حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں کہا: “یہ صدوق ہیں، لیکن بہت زیادہ غلطی کرتے ہیں، اور مرسل و مدلس روایات بیان کرتے ہیں۔”

تیسری روایت

قال ابن أبي شيبة: حدثنا حفص وكيع، عن مسعر، عن جبلة، عن ابن عمر قال: إني ﻷغتسل من الجنابة ثم أتكوى بالمرأة قبل أن تغتسل.
ترجمہ : ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص اور وکیع نے مسعر کے واسطے سے، انہوں نے جبلہ سے، انہوں نے ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا: “میں جنابت کے غسل کے بعد اپنی بیوی سے پہلے گرم ہوتا ہوں۔”

حكم: صحيح، رجاله كلهم ثقات،
حکم: صحیح؛ کیونکہ اس کے تمام رجال ثقہ ہیں:

چوتھی روایت

قال ابن أبي شيبة: حدثنا وكيع، عن إسرائيل، عن إبراهيم بن المهاجر، عن عبدالله بن شداد عن ابن عباس قال: ذاك عيش قريش في الشتاء.
ترجمہ : ابن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے اسرائیل کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم بن مہاجر سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا: “یہ قریش کا طریقہ تھا کہ وہ سردیوں میں ایسا کرتے تھے۔”
.

حکم: حسن؛ کیونکہ اس کے رجال ثقہ ہیں، سوائے ابراہیم بن مہاجر کے، جن کے بارے میں اختلاف ہے:
• ابن سعد، ابن شاہین، اور زہری وغیرہ نے انکی توثیق کی ہے۔
ابن معین، ابن حبان، اور دارقطنی نے انکو ضعیف کہا۔
• اور کچھ نے درمیان کا موقف اپنایا، جیسے سفیان ثوری، احمد بن حنبل، اور نسائی نے ایک روایت میں کہا: “ان میں کوئی حرج نہیں۔
ابو داود نے کہا: “یہ صالح الحدیث ہیں۔”
ـ
وہ روایات جو اس باب میں صحیح ہیں

قال ابن أبي شيبة: حدثنا إسماعيل بن علية، عن حجاج بن أبي عثمان ،حدثنا يحيى بن أبي كثير، قال: حدثني أبو كثير: قال قلت ﻷبي هريرة: الرجل يغتسل من الجنابة ثم يضطجع مع أهله ؟ قال: لا بأس به.

ترجمہ:
ابن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل بن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے روایت کی، اور حجاج نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، یحییٰ نے ابو کثیر سے، کہا: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: “اگر کوئی شخص جنابت سے غسل کرنے کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ بستر پر جائے تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟” تو انہوں نے کہا: “اس میں کوئی حرج نہیں۔”

حکم: یہ روایت صحیح ہے۔

قال ابن أبي شيبة: حدثنا حفص، عن الأعمش، عن إبراهيم قال: كان علقمة يغتسل ثم يستدفئ بالمرأة وهي جنب.

ترجمہ:
ابن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے حفص نے الأعمش سے، اور الأعمش نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: علقمہ غسل کرتے تھے پھر اپنی بیوی کے ساتھ گرمی لینے کے لیے لپٹ جاتے تھے جب کہ وہ جنبی ہوتی۔

حکم: یہ روایت بھی صحیح ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور الأعمش کی عنعنہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ابراہیم سے انکا عنعنہ متصل مانا جاتا ہے، جیسا کہ امام الذہبی رحمہ اللہ نے “میزان الاعتدال” (224/2) میں کہا۔

توضیح:
علقمہ بن قیس نخعی ایک ثقہ اور تابعین میں سے بڑے مقام والے تھے۔

No Comments

Leave a Reply