Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

نبی کریم ﷺ نے شام کے کن علاقوں کی طرف سفر تجارت فرمایا؟

نبی کریم ﷺ نے شام کے کن علاقوں کی طرف سفر تجارت فرمایا؟

✍️مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو ہمارے لیے رہنمائی کا منبع ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے ابتدائی ایام میں شام کے سفر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ سفر نہ صرف آپ ﷺ کی زندگی کے اہم واقعات میں شامل ہیں بلکہ ان کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت بھی بے مثال ہے۔ اس مضمون میں نبی اکرم ﷺ کے سفر شام کے تمام اقوال، حوالہ جات، اور ان کی تفصیلات کو منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

سفر شام کے تناظر میں قریش کی تجارت

قریش مکہ کی معیشت کا دارومدار تجارت پر تھا۔ وہ سردیوں میں یمن اور گرمیوں میں شام کے سفر کرتے تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا:

لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ ۝ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (سورہ قریش: 1-2)

شام اس وقت نہ صرف رومی سلطنت کا حصہ تھا بلکہ ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا۔ مکہ کے تجارتی قافلے عموماً شام کے جنوبی علاقے بصریٰ تک جاتے تھے، جو رومی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا۔

نبی کریم ﷺ کے شام کے سفر کے اقوال

1. بچپن میں سفر شام (حضرت ابو طالب کے ساتھ)

نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ 12 سال کی عمر میں شام کا پہلا سفر کیا۔
• واقعہ:
اس سفر کے دوران شام کے علاقے بصریٰ میں ایک مسیحی راہب “بحیرا” سے ملاقات ہوئی۔ بحیرا نے آپ ﷺ میں نبوت کی علامات دیکھیں اور ابو طالب کو آپ ﷺ کی حفاظت کی تاکید کی۔
• مقام: بصریٰ (Bosra)، شام کا جنوبی حصہ۔
• حوالہ جات:
1. ابن اسحاق: “سیرت ابن اسحاق” میں اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
2. ابن ہشام: “سیرت ابن ہشام” میں بحیرا راہب کے واقعے کا ذکر موجود ہے۔
3. طبری: امام طبری نے “تاریخ الامم والملوک” میں اس سفر کو درج کیا ہے۔
4. بیہقی: “دلائل النبوۃ” میں بھی یہ واقعہ تفصیل سے موجود ہے۔

2. جوانی میں سفر شام (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تجارتی سامان کے ساتھ)

25 سال کی عمر میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامانِ تجارت لے کر شام کا سفر کیا۔
• واقعہ:
اس سفر میں بھی بصریٰ کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے نبی اکرم ﷺ کے حسنِ اخلاق اور دیانت داری کا مشاہدہ کیا اور واپسی پر حضرت خدیجہ کو ان کی خوبیوں سے آگاہ کیا۔ یہی واقعہ حضرت خدیجہ کے نکاح کا سبب بنا۔
• مقام: بصریٰ۔
• حوالہ جات:
1. ابن ہشام: “سیرت ابن ہشام” میں اس تجارتی سفر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
2. ابن سعد: “الطبقات الکبریٰ” میں اس سفر کی تفصیلات موجود ہیں۔
3. بیہقی: “دلائل النبوۃ” میں بھی اس کا ذکر ہے۔
(دھیان رہے ایک بصرٰی ہے اور ایک بصرہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر بصری کی طرف ہوا تھا جو ایک تاریخی شہر ہے جو شام (سیریا) کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ دارالحکومت دمشق سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ بصرٰی کو اسلامی تاریخ میں اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ایک قدیم تجارتی مرکز اور ثقافتی شہر تھا۔ یہاں پر بہت سی اہم عمارات اور آثار قدیمہ ہیں اور یہ شہر ایک وقت میں رومانی سلطنت کا اہم حصہ تھا۔ آج کل بصرٰی کا محل وقوع اردن کے قریب جنوب شام میں واقع ہے۔ اور دوسرا بصرہ ہے جو عراق میں ہے ، عراق کے شہر بصرہ کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 14 ہجری (635 عیسوی) میں عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے بسایا تھا۔ یہ شہر ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ اسلامی فتوحات کے دوران مسلمانوں کی عسکری ضروریات پوری کی جا سکیں
بصرہ کا محلِ وقوع نہایت اہم تھا کیونکہ یہ شہر دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے قریب تھا، جو تجارت اور رسد کے لیے ایک مثالی مقام تھا۔ جلد ہی یہ شہر ایک بڑی تجارتی اور علمی مرکز بن گیا اور اسلامی تاریخ میں اس کی بہت اہمیت ہے۔)

دیگر مقامات کا ذکر (کمزور اقوال)

نبی اکرم ﷺ کے شام کے سفر کے حوالے سے بصریٰ کے علاوہ چند دیگر مقامات کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن یہ اقوال ضعیف یا قیاسی ہیں:

1. دمشق

• ذکر: بعض روایات میں دمشق کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ مستند نہیں۔
• حوالہ:
1. سبط ابن جوزی: “تذکرة الخواص” میں دمشق کا ذکر کیا گیا ہے۔
2. ابن سعد: “الطبقات الکبریٰ” میں دمشق کو ممکنہ قیاس کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

2. غزہ

• ذکر: بعض مؤرخین کے مطابق قریش کے تجارتی قافلے غزہ جاتے تھے، لہذا امکان ہے کہ نبی اکرم ﷺ وہاں تشریف لے گئے ہوں، لیکن اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں۔
• حوالہ:
1. بلاذری: “فتوح البلدان” میں غزہ کا ذکر تجارتی راستے کے طور پر موجود ہے۔
2. سبط ابن جوزی: غزہ کے سفر کو ممکنہ طور پر بیان کیا گیا ہے۔

3. ایلہ (عقبہ)

• ذکر: ایلہ یا عقبہ (اردن) کا ذکر بعض قیاس آرائیوں میں آیا ہے، لیکن سیرت کی مستند کتب میں اس کا کوئی حوالہ نہیں۔
• حوالہ:
1. یاقوت الحموی: “معجم البلدان” میں ایلہ کا ذکر ممکنہ تجارتی راستے کے طور پر آیا ہے۔

4. حوران

• ذکر: حوران، جو بصریٰ کے قریب واقع ہے، کا ذکر بعض کمزور روایات میں کیا گیا ہے۔
• حوالہ:
1. ابن کثیر: “البدایہ والنہایہ” میں حوران کا ذکر بصریٰ کے قرب و جوار کے حوالے سے ملتا ہے۔

راجح قول

نبی اکرم ﷺ کے شام کے سفر کے حوالے سے بصریٰ کا ذکر تمام مستند کتب میں آیا ہے، جیسے:
1. “سیرت ابن اسحاق”
2. “سیرت ابن ہشام”
3. “تاریخ طبری”
4. “دلائل النبوۃ”

دیگر مقامات، جیسے دمشق، غزہ، ایلہ، اور حوران کا ذکر کمزور روایات یا قیاس آرائیوں پر مبنی ہے، اور ان کا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں۔

خلاصہ

نبی اکرم ﷺ نے شام کے علاقے بصریٰ کا سفر دو مواقع پر فرمایا:
1. بچپن میں، اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ۔
2. جوانی میں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سامانِ تجارت کے ساتھ۔
بصریٰ شام کے جنوبی علاقے کا ایک اہم تجارتی مرکز تھا اور مکہ کے تجارتی قافلوں کے لیے مرکزی مقام تھا۔ آپ ﷺ کے ان سفروں سے آپ کی دیانت داری، حسنِ اخلاق، اور نبوت کی علامات نمایاں ہوئیں، جو بعد میں لوگوں کو آپ ﷺ کی حقانیت تسلیم کرنے کا سبب بنیں۔

No Comments

Leave a Reply