سرکاری نوکر اور مدارس اسلامیہ
مفتی عطاءاللہ سمیعی
www.atasamiee.in
ہر شے اپنا ایک اثر رکھتی ہے
چنانچہ سرکاری نوکری اور اسکی آمدنی بھی اپنا ایک اثر رکھتی ہے،
مدارس اسلامیہ عام مسلمانوں کے چندے سے چلنے والے ادارے ہیں مدارس کا تعاون کرنیوالوں میں سے اکثر لوگ غریب مزدور ہوتے ہیں ، بہت سے لوگ تاجر ہوتے ہیں،
سرکاری نوکر کبھی مدرسے میں چندہ نہیں دیتے پھر چاہے کسی آفس میں کام کرنیوالا ہو یا کسی اسکول کا ادھیاپک ہویا فوج میں ہو یا پولیس میں ہو یا کسی جگہ چپراسی ہو یا کسی بھی محکمہ میں ہو ، شاذ مثالیں مستثنی ہوتی ہیں، لیکن اکثر ایسا ہی ہے،
اور یہ سرکاری نوکر اہل مدارس اور انکے عملے کو ان میں علم دین حاصل کررہے مہمانان رسول کو حقارت سے دیکھتے ہیں، اور اپنے چندہ نہ دینے کے جواز کے طور پر اہل مدارس پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں،
اور دوسروں کو بھی اسی پر اکساتے ہیں کہ مدارس میں چندہ دینا بیکار ہے،
چندہ کرنیوالے چور ہوتے ہیں، یہ چندہ کھاجاتے ہیں، مدرسے کے پیسے سے سفر کرتے ہیں، مدرسے کے پیسے سے یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں،
ارے اللہ کے بندو جب انسان دنیا میں ہے تو کیا کھائیگا نہیں؟جہاں کام کریگا وہیں سے کھائیگا، تم کیا چاہتے ہو کہ عالم دین مرجائے؟بھوکا ننگا گھومے؟ دین کا کام نہ کرے؟ دین کا کام چھوڑ کر تمہاری طرح بس لوگوں کی عزتیں اچھالتا رہے؟
کیا تم لوگ سرکار سے پیسے نہیں لیتے اپنی خدمت کے؟
جب کہیں سرکاری کام سے جاتے ہو تو کیا اپنا خرچ کرتے ہو؟
بالکل نہیں بلکہ ایک کا دس لکھایا جاتا ہے ، کھانا پینا پٹرول اپنا گٹکھا تمباکو سب اسی میں جوڑ دیا جاتا ہے ،
یہ سرکاری نوکر یہ تاثر دیتے ہیں کہ مدارس کے مولوی دنیا کے سب سے بڑے کرپٹ لوگ ہیں
عربی کا مقولہ ہے “ المرء یقیس علی نفسہ” انسان جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہے دوسروں کو سمجھتا ہے”
اہل مدارس کو مجرم اعلی سمجھتے ہیں کہ
جیسے خود کرپشن سے رشوت سے، ڈنڈی مارنے سے، جھوٹ سے، بداخلاقی سے، پاک وصاف ہوں، حالانکہ ان میں سے اکثر جو سرکاری نوکر بنتے ہیں انکی بنیاد ہی رشوت پر ہوتی ہے، بھاری رشوتیں دیکر یہ اس مقام ناہنجار تک پہنچتے ہیں، اور پھر اپنا بدلہ لینے کیلئے دوسروں کی گاڑھی کمائی کو رشوت گھوس کے راستے سے ہتھیاتے ہیں،
اپنے کو گویا جنت کا باسی سمجھتے ہیں فرشتہ سمجھتے ہیں باقی اہل مدارس اور وارثین انبیاء انکی نظر میں سب چور اچکے اور مسلمانوں کے مال کو برباد کرنیوالے حرام خور ہیں،
یہ خود کوئی کام نہ دین کیلئے کرتے ہیں نہ قوم کیلئے کرتے ہیں، یہ بس باتیں بنانا جانتے ہیں، لوگ انکی سرکاری نوکری دیکھ کر انکو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں، اور یہ بھی اپنے کو “ہمچوما دیگرے (ڈنگرے) نیست” کا مصداق ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا لگائے رہتے ہیں
یہ ساری شیطنت سرکاری نوکری کی مرہون منت ہے،
سرکار کا خزانہ سب کو معلوم ہے کیسے بھرتا ہے؟ لوگوں کا خون چوس کر اسی مال سے انکو بھتہ دیا جاتا ہے اسی کا اثر ہوتا ہے کہ نہ خود دین کا کام کرو نہ کسی کی بھلائی کا کام کرو نہ کسی کو کرنے دو بلکہ انکے کارکنان کی طرف سے لوگوں کو بدظن کردو تاکہ رہا سہا دین کا کام بھی ختم ہوجائے ، دراصل یہ خود کوئی کام نہیں کرتے بھلائی کا دین کا قوم کے مفاد کا۔ اسلئے اپنی جھینپ اتارنے کیلئے تمام لوگوں کے پیچھے بدظنی کا ڈنڈا اٹھائے گھومتے رہتے ہیں
No Comments