یہ دور آپکو معلوم ہے کس کا ہے؟
(بقلم : محمد عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند)
••••••••••••••••••••••••••••••
دور حاضر کے پھاڑ کھانے والے فتنے
••••••••••••••••••••••••••••••
یہ دور ہے عیاری کا ، مکاری کا، فحاشی کا ، ریاکاری کا،
، خود غرضی کا، خودپسندی کا،حسد کرنے کا،
بدظنی کا، بدعہدی کا، بدمعاملگی کا، طوفان بدتمیزی کا، بدسلوکی کا، بداخلاقی کا،
چغلیوں کا، غیبتوں کا، تہمتوں کا ، تمسخر کا، تضحیک کا، تنقیص کا، حاسدانہ تنقید کا،
نفس پرستی کا، حسن پرستی کا، مال پرستی کا، جاہ پرستی کا، شخصیت پرستی کا، ہوس پوری کرنے کا،
مقابلے بازی کا، چال بازی کا، فتینوں کا، عہدوں کی طلب کا، چکاچوند کا، جھوٹی شان وشوکت کا ،
بڑے بننے کی خواہش کا، عدم اخلاص کا، دین سے دنیا کمانے کا، صلح کل بننے کا،
سجادہ نشینی کا، حلقہ بڑھانے کا، ناموری کا، ریاکاری سے پر پیری مریدی کا،دینی مناصب سے نفع خوری کا،
منافقت کا، مداہنت کا، شرارت کا، خباثت کا، شماتت کا، پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا، چالیں چلنے کا،
گرانے کا، برادرانہ تعصب کا، خاندانی تعصب کا، علاقائی تعصب کا، زبان کے تعصب کا، رنگ ونسل کے تعصب کا،
مال ودولت کی پوجا کا، زناکاری کا، موسیقی کا رسیا بننے کا، منہ دیکھی باتیں کرنے کا، دجل کا ، فریب کا،
مفاد کیلئے کسی بھی حد تک گرجانےکا، عزت نفس بیچ دینے کا، دینی حمیت کے مرجانے کا،
تصلب فی الدین ختم ہوجانے کا،برائی کا احساس مرجانے کا، ہر گناہ میں پڑجانے کا،
غیر مستحق کو عہدے دینے اور ملنے کا،چاپلوسی کا، نااہل کو ذمہ داری ملنے کا ،عالم کی بے حرمتی کا،
شریف کو رذیل سمجھنے کا، عزتیں تار تار کرنے کا، بڑے چھوٹے کی تمیز کے ختم ہوجانے کا،
احسان فراموشی کا، قطع رحمیوں کا، تعلق جوڑنے والے کو ذلیل سمجھنے کا،
سنتوں کے عامل کو حقیر سمجھنے کا، دین اسلام کی غربت کا، رذیلوں کی وقعت کا، شریفوں کی ذلت کا،
علم کے اٹھ جانے کا، علم کی لاچاری کا، علمی انحطاط کا، علم دین کے شوق کے ختم ہوجانے کا،
علم دین کی بے وقعتی کا، اساتذہ اور انکے خاندان کو ستانے کا، علم سے محرومی کا،
پگڑیاں اچھالنے کا،ٹانگیں کھینچنے کا، گروہ بندیوں کا، دجالوں اور کذابوں کا، بھیڑ کی کھال میں بھیڑیوں کا،
علماء کے عوام کا مقتدی بن جانے کا ، جاہلوں کی سرداری کا، دنیا کمانے کیلئے مصلحت اختیار کرنے کا،
دین میں تحریف کا، غلو فی االدین کا، اپنے راہبوں کی تحریفات میں تاویل کرنے کا،
تفسیر بالرائے کا، جمہور سے الگ راہ اختیار کرنے کا، صحابہ پر طعن وتشنیع کا، صحابہ سے بدظنی کا،
دین میں شکوک پیدا کرنے کا، اپنی سمجھ کو دین وفقہ کا نام دینے کا، جماعت اہل السنہ والجماعت سے کٹ جانے کا،
اپنی اصلاح بھول کر دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنے کا،ابن الوقتی کا،
دین کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کا، گمراہ کرنے کا، دین میں بدعتیں ایجاد کرنے کا،
حق گو علماء سے دوری کا،علماء سے بدظنی پیدا کرنے کا، اہل حق علماء سے کاٹنے کا،
سنتوں کی پامالی کا، فیشن کو اپنانے کا،
تلبیس حق بالباطل کا، کتمان حق کا،
ظلم وستم کا، خون خرابے کا، ظلم پر خاموش رہنے کا، قلم کے عام ہوجانے کا، عمل کے ختم ہوجانے کا،
اہل حق علماء کی رخصت کا، علماء سوء کی بڑھت کا، بے علم مفتیوں کی کثرت کا،
غرض ہر قسم کے فتنوں کا، آزمائشوں کا، آسائشوں کا، مادیت کا، انسانیت کے فقدان کا،
ان فتنوں سے بچنے کیلئے ماانا علیہ واصحابی کو لازم پکڑنے والے یعنی علماء اہل السنت والجماعت علماء حق ، جمہور کی راہ پر چلنے والے علماء سے رابطے مضبوط رکھیں
No Comments