Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

طواف کعبہ سے طواف قبر پر استدلال کا جواب

طواف کعبہ سے طواف قبر پر استدلال اور اسکا جواب

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

پاکستان کے ایک بڑے عالم جو مدینہ منورہ میں رہتے ہیں انہوں نے ایک ویڈیو میرے پاس بھیجی اور اسکا جواب مانگا، ویڈیو میں ایک بندہ طواف کعبہ سے طواف قبر پر استدلال کرتا نظر آرہا ہے
مجھ ناکارہ سے جو جواب بن پڑا انکو لکھ کر ارسال کردیا ، افادۂ عام کی نیت سے آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہے

استدلال
خلاصہ یہ ہے کہ جیسے کعبہ غیراللہ ہے اور غیراللہ کا طواف لوگ کرتے ہیں اسی طرح کسی ولی کی قبر کا طواف بھی جائز ہے اس سے مرادیں مانگنا بھی جائز ہے کیونکہ غیراللہ ہونے میں دونوں برابر ہیں۔

الجواب : جواب یہ ہیکہ بیشک کعبہ غیراللہ ہے اور ولی کی قبر بھی غیراللہ ہے اسکے باوجود کعبہ کا طواف جائز ہی نہیں بلکہ حج میں رکن /سنت ہے اور عمرہ میں رکن ہے عام حالات میں سنت یا نفل ہے،
لیکن ولی کی قبر کا طواف حرام ہے وجہ اسکی یہ ہے طواف کعبہ کا حکم اللہ نے دیا ہے “ولیطوفوا بالبیت العتیق” اور لوگوں کو چاہئے کہ کعبہ کا طواف کریں، اسی طرح حضرت ابراہیم کو اللہ نے حکم دیا وطھر بیتی للطائفین والعاکفین/ والقائمین والرکع السجود، اور میرے گھر کو پاک وصاف رکھو طواف کرنیوالوں، اعتکاف کرنیوالوں/ اور نماز پڑھنے والوں کیلئے، تو طواف کعبہ اللہ کا حکم ہے، لیکن یہ کعبہ چونکہ غیراللہ ہے اسلئے ہم کہتے ہیں کہ اسکے طواف کا حکم خلاف قیاس نص سے ثابت ہے اور یہ اصول ہے ساری مسلم دنیا کے فقہاء مانتے ہیں کہ جو چیز خلاف قیاس نص سے ثابت ہو وہ اپنے مورد تک ہی منحصر رہتی ہے اسپر کسی اور چیز کو قیاس کرنا درست نہیں،
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ “تو صرف ایک پتھر ہے اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں کبھی تیرا بوسہ نہ لیتا” یعنی تیری تعظیم اور یہ اہمیت خلاف قیاس نص سے ثابت ہے جو اپنے مورد تک ہی منحصر رہیگی، اب اگر کوئی اس سے آگے بڑھ کر دوسرے پتھروں کی تعظیم اور انکو چومنا چاٹنا شروع کردے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔
نیز چلو مان لیتے ہیں کہ طواف کعبہ پر طواف قبر کرنا درست ہے تو ہم سوال کرتے ہیں کہ اس قیاس کا علم نبی کو تھا یا نہیں؟ اور نبی الانبیاء محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دیگر انبیاء کو تھا یا نہیں؟
اور صحابہ کرام کو اسکا علم تھا یا نہیں؟ کیا صحابہ نے طواف کعبہ پر قیاس کرکے نبی پاک کی قبر کا طواف کیا ہے؟
کیا نبی نے طواف کعبہ پر قیاس کرکے اپنی قبر کے طواف کا حکم دیا ہے؟
کیا فقہاء نے طواف کعبہ پر قیاس کرکے طواف قبر کے مسئلہ کے جواز پر استنباط کیا ہے؟
کیا محدثین اس طرح کی کوئی روایت لائے ہیں؟
کیا مفسرین نے “ولیطوفوا بالبیت العتیق” آیت کے تحت طواف قبر کے جواز کو بھی بیان کیا ہے؟
اگر یہ سب ثابت نہیں تو گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں ایک ایسی نیکی کا پتہ چل گیا جسکا پتہ اللہ کو بھی نہیں تھا نہ نبی کو علم تھا نہ دیگر انبیاء کو علم تھا نہ صحابہ کو علم تھا نہ فقہاء کو علم تھا نہ محدثین کو نا تابعین وتبع تابعین کو علم تھا، ہمیں چودہ سو سال بعد ایک نئی نیکی کا پتہ چل گیا، نعوذباللہ من ذلک۔
پھر آگے ہم کہتے ہیں کہ آپ صرف طواف قبر پر ہی کیوں رک گئے ؟ اس دلیل کو طواف قبر کی دلیل کے طور پر ہی خاص کیوں کرلیا؟ آپ اس دلیل کو عام کریں نا ! کہیں کہ ہر غیراللہ کا طواف کرنا جائز ہے چاہے قبر ہو زندہ انسان ہو یا کسی کا گھر ہو یا مورتی ہو مندر ہو مسجد ہو جانور ہو غیر جانور ہو پھر استدلال کو کمال تک پہنچائیں۔

نیز جب اللہ کے نیک بندے کعبہ کا طواف کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ کر اور اس عقیدے کے ساتھ طواف نہیں کرتے کہ اللہ اس کمرے میں موجود ہے،
بلکہ اس عقیدے کے ساتھ طواف کرتے ہیں کہ اللہ کا یہی حکم ہے کہ اسکا طواف کرو
لیکن جب بندہ قبر کا طواف کرتا ہے تو اس عقیدے کے ساتھ کرتا ہے اس قبر میں فلاں ولی موجود ہے وہ میرا کام بنائیگا، وہ سب کچھ سنتا ہے اور کام بناتا ہے،
میں سوال کرتا ہوں کیا یہ اللہ کا حکم ہے قبر کا طواف کرنا؟ اگر حکم ہے تو دکھائیے قرآن وحدیث میں کہاں ہے؟
اور اگر اللہ ورسول کا حکم نہیں تو پھر ایسا کام کیوں کرتے ہو جسکا وجود نبی کے زمانے میں ممکن تھا لیکن پھر بھی ثابت نہیں ، اور جسکا حکم قرآن وحدیث میں نہیں،
لہذا آپکا یہ استدلال باطل ہے دھوکے پر مبنی ہے،
واللہ اعلم

No Comments

Leave a Reply