دورنگی سے ناقدری ہوتی ہے
دودھ کو پریشان کرو گے تو دہی بن جائے گا،
دہی کو ستاؤ گے تو مکھن بن جائے گا،
مکھن کو دکھ دو گے تو گھی بن جائے گا.
دودھ سے مہنگا دہی ملتا ہے، دہی سے مہنگا مکھن اور مکھن سے مہنگا گھی ملتا ہے، پر ان چاروں میں ایک چیز مشترک ہے، ان چاروں کا رنگ سفید ہی رہتا ہے.
مطلب سادہ سا ہے، چاہے کتنے بھی دکھ ملیں، کتنی بھی پریشانیاں کیوں نہ جائیں، جو انسان اپنا رنگ نہیں بدلتا زمانہ اُسی کی قدر کرتا ہے، لوگ اُسی کو یاد رکھتے ہیں.
تو اس رنگ بدلتی دنیا میں اپ اپنے اندر کی اچھائی کا رنگ مت بدلنا، کامیاب رہو گے
No Comments