اگر ایک ڈاکٹر سے مریض کا کیس نہیں سنبھلتا یا ایک ڈاکٹر کسی مرض کا ماہر نہ ہو تو وہ دوسرے ماہر ڈاکٹر کے پاس ریفر کردیتا ہے اور اپنی ایگو اسکے آڑے نہیں آتی جس سے مریض کی جان بسا اوقات بچ جاتی ہے، لیکن دین کے معاملہ میں ہر شخص ماہر فن بنا رہتا ہے، یہاں پر نیم حکیم جہلا ماہرین کے پاس ریفر کرنے بلکہ ماہرین کے پاس جانے کو اپنے لئے معیوب سمجھتے ہیں ۔ یہی جہالت ہے، اسی سے مرض بڑھتا جاتا ہے اور فتنے پرورش پاتے ہیں
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
No Comments