Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

“یوم اساتذہ “کچھ حقائق

مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ ضلع میرٹھ یوپی الہند

اساتذہ کسی بھی قوم و ملت کا وہ عظیم سرمایہ ہیں جو ہر مشکل, ہر آفت, اور کٹھن سے کٹھن گھڑی میں نسل نو کو نکھارنے اور انہیں صیقل کرنے میں اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیتے ہیں, ملک و ملت کا روشن مستقبل انہیں کے ہاتھوں پروان چڑھتا ہے اور ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے،
لیکن اس مرتبہ اور قدرومنزلت کا یہ مطلب نہیں کہ انکی محبت میں اور احترام میں ہر کام کیاجائے چاہے وہ ناجائز یا غیراسلامی ہی کیوں نہ ہو، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کسی غیرشرعی عمل کو انجام دینا درست نہیں ہے تو دیگر لوگوں کی کیا اوقات ہے؟
اسلام نے حدود طے کی ہیں “تلک حدود اللہ ومن یتعد حدوداللہ فاولئک ھم الظلمون” یہ اللہ کی حدود ہیں جو ان سے آگے بڑھے گا تو وہ لوگ ظالم ہونگے،

یوم اساتذہ کی تحقیق

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بے مہار اور آزاد نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر موقع پر انکی راہنمائی کی ہے، یہ اسلام کا کمال ہے کہ دنیا کے ہر سوال کا جواب ہر مسئلہ کا حل اسکے پاس موجود ہے،
کسی بھی عمل پر حکم لگانے سے پہلے اسکے سیاق وسباق سے آگاہی ضروری ہے تبھی ہم اسکا شرعی حکم جان سکتے ہیں،
اسلئے ضروری ہے کہ پہلے ہم یہ جان لیں آخر یوم اساتذہ محض اساتذہ کی قدرومنزلت اور انکی اہمیت کو بتانے کیلئے ہی منایا جاتا ہے یا اسکے اندر چور دروازے سے دوسرا مقصد بھی شامل ہے؟
چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اسکا لیبل بڑا شاندار ہے “یوم اساتذہ استاذوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے منایا جاتا ہے” لیکن جب ہم اسکی تحقیق کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یوم اساتذہ درحقیقت یوم اساتذہ نہیں ہے بلکہ یہ تو “جنم دن” یعنی سالگرہ منائی جاتی ہے،
جنم دن یا سالگرہ ایک فرد ، خیالی کردار یا تنظیم کی پیدائش کی تاریخ کے موقع پر ایک روایت ہے۔ سالگرہ وہ دن ہوتا ہے جب انسان پہلی بار زندہ دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ یا کوئی تحریک یا تنظیم وجود میں آتی ہے سالگرہ پوری دنیا میں مختلف طریقوں سے منائی جاتی ہے۔
کچھ لوگ اپنی یا اپنے قریبی احباب کی یا کچھ مشہور شخصیات کی یا اپنے مذہب کے بانیوں کی سالگرہ بھی
مناتے ہیں،
تو ہم نے نظر دوڑائی تو پتہ چلا کہ یوم اساتذہ در اصل ایک سالگرہ ہے

تاریخ انسانی کے مختلف ادوار میں بہت سے اساتذہ فلاسفہ اور مصلحین معاشرہ نے جنم لیا جنہوں نے آگے چل کر متعلمین اور علم کے تشنگان کی کھیپ کی کھیپ تیار کیں, انہیں ماہر فن اساتذہ میں استاد سروپلی رادھا کرشنن ہیں جن کے یوم پیدائش پر ہندوستان میں یوم اساتذہ منایا جاتا ہے,
ہندوستان میں ہر سال 5ستمبرکو یوم اساتذہ آزاد ہندستان کے دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھاکرشنن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی استاد رہ چکے ہیں۔ جب وہ صدر بنے تو ان کے کچھ شاگردوں اور دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہم لوگ آپ کا یوم پیدائش منانا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ خوش ہوئے اور ان لوگوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ میرا یوم پیدائش منانا چاہتے ہیں تو انہیں فخر ہوگا اگر بچے ان کی پیدائش کے دن کو اساتذہ کی تعظیم کے طور پہ منائیں اسی دن سے ہندوستان میں 5/ ستمبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جانے لگا۔ اسی کو کہتے ہیں “ایک تیر دوشکار” سانپ بھی مرگیا لاٹھی بھی نہ ٹوٹی،

عالمی یوم اساتذہ 5 / اکتوبر کو منایا جاتاہے ، 1994 میں یونیسکونے اس رسم کی ایجاد کی۔ اس کے علاوہ بہت سارے ممالک ہیں جو مختلف تاریخوں میں یوم اساتذہ منایا کرتے ہیں۔

لیکن ہندوستان میں یوم اساتذہ ملکی سطح پر 5 ستمبر کو ہی منایا جاتا ہے جو صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کا یوم پیدائش ہے

ڈاکٹر ایس یو خان لکھتے ہیں
“سچ بات یہ ہے کہ اس عظیم ٹیچر کی یاد میں ہی ہم ہر سال 5ستمبر کو یوم اساتذہ مناتے ہیں۔
یہ بات خود ڈاکٹر سرو پلّی رادھا کرشنن کے لئے بھی باعث اعجاز ہے کہ ان کے جنم دن کو پورا ملک یوم اساتذہ کے طور پر مناتا ہے۔ یہ تو اب طے ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک چاہے جس دن یوم اساتذہ مناتے ہوں لیکن ہندوستان میں یوم اساتذہ 5ستمبر ہی ہے”

چوردروازہ

اس سے آپکو معلوم ہوگیا ہوگا کہ چور دروازے سے سب مسلمانوں کو ایک غیرشرعی عمل پر لگادیا ہے،
اور ہم ٹھیرے نرے بھیڑ چال چلنے والے غلام نہ ہم تحقیق کرنا پسند کرتے ہیں نہ کسی کی تحقیق کو خاطر میں لاتے ہیں بس جسطرف دنیا جارہی ہے ہم بھی اسی سمت چل پڑتے ہیں،
غیروں کو معلوم ہے کہ خاص طور پر مسلمان کوئی ایسا کام نہیں کریگا جو شریعت کے خلاف ہو اسلئے انہوں نے سالگرہ نام نہ رکھ کر یوم اساتذہ رکھدیا، جیسے کہ مختلف مشروبات جنمیں نشہ ہوتا ہے لیکن انکا نام شراب نہ رکھ کر جوس نام رکھدیا جاتا ہے تاکہ لوگ اسکو جوس سمجھ کر پی جائیں لیکن حقیقت تبدیل نہیں ہوتی،
ہر مسلمان جانتا ہے کہ جنم دن منانا جائز نہیں ہے اسی وجہ سے عید میلادالنبی منانا یا کسی اور بزرگ کا یوم پیدائش منانا جائز نہیں ہے اور کوئی مناتا بھی نہیں ہے، شراب کو سرکہ کہدینے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی،
یوم پیدائش منانا چاہے کسی بھی طریقہ سے ہو چاہے کیک کاٹ کر ہو یا کوئی خاص اہتمام کرکے ہو یہ ناجائز ہے، اور آپ جانتے ہیں ہیں کہ یوم اساتذہ پر طلباء اپنے اساتذہ کو تحائف دیتے ہیں سوشل میڈیا پر اساتذہ سے اظہار عقیدت کرتے ہیں اسی عنون سے ڈی پی لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ خاص اہتمام کرنا جنم دن پر یہ ناجائز ہے، اب تو بہت سے فارغین مدارس بھی اپنے کسی بزرگ کے جنم دن یا یوم وفات پر انکا تذکرہ کرنا اگرچہ ضروری نہ سمجھیں لیکن کرتے ہیں ، یہ تذکروں کیلئے سالانہ متعینہ تواریخ کا اہتمام یہ غیروں سے مرعوبیت کی دلیل ہے، وہیں سے آہستہ آہستہ یہ چیزیں مسلمانوں میں آرہی ہیں ،

جنم دن پر اہتمام کرنے کاشرعی حکم

یوم پیدائش منانے کے متعلق بنوری ٹاؤن کے فتوی کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں
“اور اگر کسی نیک یا بزرگ شخصیت کا یومِ پیدائش دین کا حصہ یا عبادت سمجھ کر منایا جائے تو یہ بدعت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔ اور اگر کسی دنیاوی شخصیت کا یومِ پیدائش دنیاوی رسم کے طور پر منایا جائے تو رسم ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144108201528

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن”

دارالعلوم دیوبند کا فتوی ملاحظہ فرمائیں
کسی نے سال گرہ منانے کے متعلق سوال کیا

“جواب نمبر: 55394

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 130-130/Sn=1/1436-U87 جنم دن منانا یا شادی سالگرہ منانا اہلِ مغرب کی طرف سے آئی ہوئی رسمیں ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کے یہاں بچے پیدا ہوئے ان کی شادیاں ہوئیں؛ لیکن کسی بھی روایت میں نہیں آتا کہ ان حضرات نے سال پورا ہونے کے موقع پر کوئی خاص اہتمام کیا ہو یا باقاعدہ جنم دن وغیرہ منایا ہو، غریبوں کو کھانا کھلانا، صدقہ دینا،نفل عبادات، دعا واستغفار اور دوستوں کو ہدایا تحائف دینا اپنی جگہ پر سب باعث ثواب اور شرعاً مطلوب ہے؛ لیکن کیا ضروری ہے کہ یہ کام کسی متعین تاریخ ہی میں کیے جائیں ؟ ایک دو دن آگے پیچھے کردیں؛ تاکہ مغربی رسموں کی تقلید لازم نہ آئے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

یوم اساتذہ سے متعلق فتوی

ٹیچر ڈے منانے کا حکم


سوال

 

ٹیچر ڈے منانا کیسا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ استاذ کے احترام کا دن ہے۔

 

جواب

 

واضح ہو کہ  اساتذہ کا احترام ایک فطری عمل ہے اور اس احترام کا اظہار اور اہتمام کسی وقت کی تعیین کے بغیرعمومی حالات میں بھی ہونا  چاہیے۔ تاہم اس احترام کے اظہار یا اہتمام کے لیے کسی ایک دن کو خاص کر لینا، یہ غیر مسلم قوموں کا طریقہ اور ان کی ثقافت ہے اور مسلمانوں کے لیےغیر مسلم قوموں کی ثقافت اور طریقوں کی پیروی کرنا ممنوع ہے لہذا صورت مسئولہ میں ٹیچر ڈے منانے سے احتراز کرنا چاہیے۔

امداد الاحکام میں ہے :

“عادات میں مشابہت مثلاً جس ہیئت سے وہ کھانا کھاتے ہیں اسی ہیئت سے کھانا یا لباس ان کی وضع پر پہننا، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر ہماری کوئی خاص وضع پہلے سے ہو اور کفار نے بھی اس کو اختیار کرلیا ہو، خواہ ہمارا اتباع کرتے ہوئے  یا ویسے ہی، اس صورت میں یہ مشابہت اتفاقیہ ہے، اور اگر ہماری وضع پہلے سے جدا ہو اور اس کو چھوڑ کر ہم کفار کی وضع اختیار کریں، یہ ناجائز ہے۔ اگر ان کی مشابہت کا قصد بھی ہے تب تو کراہت تحریمی ہے اور اگر مشابہت کا قصد نہیں ہے بلکہ اس لباس و وضع کو کسی اور مصلحت سے اختیار کیا گیا ہے تو اس صورت میں تشبہ کا گناہ نہ ہوگا، مگر چونکہ تشبہ کی صورت ہے اس لیے کراہت تنزیہی سے خالی نہیں۔۔۔۔

مگر چونکہ آج کل عوام جواز کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں، ان کا قصد تشبہ ہی کا ہوتا ہے اس لیے اکثر احتیاط کے لیے عادات میں بھی تشبہ سے منع کیا جاتا ہے، خواہ تشبہ کا قصد ہو یا نہ ہو۔”

(ج۱ ؍ ص ۲۸۶، مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم

 

فتوی نمبر : 144402100575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

مسلمانوں کے اندر مادر ڈے، فادر ڈے، چلڈرن ڈے، برتھ ڈے ، ٹیچر ڈے کا رواج مرعوبیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام میں اس طرح کے چونچلے نہیں پائے جاتے۔ اسلام تو ہر دن، ہر لمحہ ہر فرد کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔ جو عین انسانیت ہے۔
میرے نزدیک اس کے نامعقول اور فضول ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے پاس چودہ صدیوں سے ماں ، باپ ، بھائی ، بہنیں ، استاد شاگرد ، سب کچھ ہیں ، ہم نے کبھی یہ منانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ لیکن جب سے ہم غلام ہوئے ہیں ، یہ تہوار یا ڈیز ہمارے اندر عجیب و غریب دلائل اور منطقوں سے رائج ہوگئے ہیں ۔
قرآن وسنت نے ہمیں جو تعلیمات دی ہیں ، جو اخلاقیات سکھائی ہیں ، اگر ہم ان پر عمل پیرا ہوں ، تو یہ ان سب تہواروں اور ڈیز سے ہزار درجہ بہتر ہیں ، تہوار اور ڈیز منانے کی حاجت انہیں ہوئی ہے ، جن کے پاس یہ تعلیمات اور اخلاقیات موجود نہیں تھیں ۔

No Comments

Leave a Reply