Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • ہم عصروں اور قریبی لوگوں و رشتہ داروں کی طرف سے حسد اور منفی روئیے ایک عقلی و نفسیاتی تجزیہ

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • ہم عصروں اور قریبی لوگوں و رشتہ داروں کی طرف سے حسد اور منفی روئیے ایک عقلی و نفسیاتی تجزیہ

ہم عصروں اور قریبی لوگوں و رشتہ داروں کی طرف سے حسد اور منفی روئیے ایک عقلی و نفسیاتی تجزیہ

ہم عصروں اور قریبی لوگوں و رشتہ داروں کی طرف سے حسد اور منفی روئیے
ایک عقلی و نفسیاتی تجزیہ

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات وہ لوگ جو ہمارے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں خونی رشتہ دار، دوست، یا جاننے والے ، ہم عصر قریبی ساتھی ہماری یا ہماری اولاد کی کامیابی، ترقی، عزت، یا خوشحالی کو دل سے قبول نہیں کر پاتے۔ وہ نہ تو کھل کر ہماری تعریف کرتے ہیں، نہ ہماری کامیابی پر خوش ہوتے ہیں، اور نہ ہی حوصلہ افزائی کا کوئی جملہ ادا کرتے ہیں۔ بلکہ، بعض اوقات وہ تنقید، طنز، یا نظرانداز کرنے کے رویے اختیار کرتے ہیں۔

یہ رویہ عام ہے اور اکثر لوگ اس کا تجربہ کرتے ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے؟ یا اس کے پیچھے کچھ نفسیاتی، سماجی، اور مذہبی وجوہات کارفرما ہیں؟
ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور اس رویے کی حقیقی وجوہات کوسمجھنے کی کوشش کریں گے۔

حسد اور رشتہ دار:
کیا واقعی قریبی لوگ ہماری ترقی سے جلتے ہیں؟

یہ تصور کہ رشتہ دار یا قریبی لوگ ہماری کامیابی پر حسد کرتے ہیں، صرف ایک عام خیال نہیں بلکہ تجربہ شدہ حقیقت ہے۔
ہابیل قابیل کا واقعہ اور حضرت یوسف اور انکے بھائیوں کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قریبی لوگ حاسد بن جاتے ہیں
اسی لیے قرآن مجید میں حسد کے شر سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے:

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق: 5)
“اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے، میں پناہ مانگتا ہوں۔”

حسد کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کی ترقی یا خوشحالی کو برداشت نہ کرسکے اور اس بات کی خواہش کرے کہ وہ کامیابی اس کے پاس نہ ہوتی۔ رشتہ داروں کے درمیان حسد اس لیے زیادہ شدید ہوتا ہے کیونکہ ان کے درمیان زیادہ قربت، مشترکہ پس منظر، اور مسابقت پائی جاتی ہے۔
اسی طرح دوستوں کے درمیان یہ رویہ اس لئے پروان چڑھتا ہے کیونکہ وہ سب عام طور پر ایک ماحول ایک عمر اور ایک زمانے کے ہوتے ہیں تو ایک کا آگے بڑھنا دوسرے کو احساس کمتری میں مبتلا کردیتا ہے وہ سوچتا ہے کہ یہ میرے ہی پائیدان پر رہے یا کم از کم نیچے رہے، ہم سے اوپر نہ ہوسکے ایسے دوست اور رشتہ دار منافق کہلائے جانے کے حقدار ہیں ،

یہ رویہ کیوں پیدا ہوتا ہے؟

(۱) فطری مقابلہ اوربرادرانہ تعصب

انسانی فطرت میں ایک خاص درجہ کی مسابقت (Competition) رکھی گئی ہے۔ جب دو لوگ ایک جیسے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسروں سے آگے نکل جاتا ہے تو دوسرا لاشعوری طور پر یہ سوچنے لگتا ہے:
“اگر وہ کامیاب ہو سکتا ہے تو میں کیوں نہیں؟”
یہی سوچ حسد اور جلن کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر جب دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان، برادری، یا سماجی سطح سے ہو۔
بعض لوگ برادرانہ تعصب کی وجہ سے بھی یہ رویہ اختیار کرتے ہیں کہ فلاں برادری کا بندہ آگے کیوں بڑھے؟ اسکی عزت کیوں ہو؟ یا اسکو وہ مقام کیوں ملے؟ اسکی شہرت کیوں ہو؟ وغیرہ وغیرہ

(۲) احساسِ کمتری اور خود کو ناکام محسوس کرنا

جو لوگ اپنی ناکامیوں کو قبول نہیں کر پاتے، وہ دوسروں کی کامیابی کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں کی ترقی ان کی اپنی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔ یہ احساسِ کمتری حسد کو مزید بھڑکاتا ہے۔

(۳) خودغرضی اور دنیا پرستی

کچھ لوگ صرف اپنی کامیابی کو اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صرف وہی ترقی کریں۔ اگر کسی اور کو خوشحالی یا عزت ملے تو وہ اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں اور اس کے خلاف منفی جذبات پیدا کر لیتے ہیں۔

(۴) محبت کی کمی اور مفاد پرستی

حقیقی محبت میں خلوص اور بے غرضی ہوتی ہے، لیکن جب رشتے صرف مطلب کے لیے ہوں تو لوگ ایک دوسرے کی ترقی پر حسد کرنے لگتے ہیں۔ وہ کامیاب شخص کی تعریف کرنے کے بجائے اس کی کامیابی کو نظر انداز کرتے ہیں یا اس میں خامیاں نکالنے لگتے ہیں۔

(۵) محدود ذہنیت اور چھوٹا ظرف

کچھ لوگ بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں، وہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اتنے تنگ نظر ہوتے ہیں کہ کسی کی ترقی کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی کامیابی کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس میں نقص نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(۶) والدین کی تربیت اور خاندانی ماحول

کچھ لوگ ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں ہمیشہ مقابلہ، حسد، اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کی کامیابی پر حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان کی تضحیک کرتے ہیں یا ان کی قدر کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسے رویے کا نقصان کس کو ہوتا ہے؟

حسد اور منفی سوچ صرف دوسروں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی، بلکہ حسد کرنے والے شخص کے لیے بھی زہر کی مانند ہوتی ہے۔ اس کے اثرات درج ذیل ہیں:
دلی سکون ختم ہو جاتا ہے – حسد کرنے والا ہمیشہ جلتا کڑھتا رہتا ہے اور کبھی حقیقی خوشی محسوس نہیں کر پاتا۔
رشتے خراب ہو جاتے ہیں – حسد اور جلن کی وجہ سے قریبی رشتے بگڑ جاتے ہیں، محبت کی جگہ نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
سماجی بگاڑ پیدا ہوتا ہے – خاندان اور برادری میں ٹوٹ پھوٹ اور دشمنی جنم لیتی ہے۔
منفی طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے – حسد کرنے والا شخص دوسروں کی برائی، غیبت، اور سازشوں میں ملوث ہو جاتا ہے، جو اسے دنیا و آخرت میں نقصان پہنچاتی ہے۔

اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

اللہ کی تقسیم کو تسلیم کرنا

ہر شخص کی کامیابی اور ترقی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں وہ دوسروں کی کامیابی پر حسد کے بجائے صبر اور دعا کو اختیار کرتے ہیں۔

قناعت اور شکر گزاری

اگر ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں پر غور کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے۔ حسد کا بہترین علاج یہ ہے کہ ہم دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر توجہ دیں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔

مثبت سوچ اپنانا

حسد کے بجائے اگر ہم دوسروں کی ترقی کو اپنی حوصلہ افزائی سمجھیں اور خود بھی محنت کریں تو یہ رویہ ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔

حوصلہ افزائی کی عادت ڈالنا

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے بھی ہمیں سپورٹ کریں تو ہمیں خود بھی دوسروں کی تعریف کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔

دعا اور استغفار

حسد ایک روحانی بیماری ہے، جس سے بچنے کے لیے دعا اور استغفار ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے دل کو صاف کرے اور ہمیں دوسروں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ عطا کرے۔
اسی طرح جس شخص کیلئے دل میں حسد ہے اسکے لئے بھی دعا کرے کہ اللہ اسکی نعمت برقرار رکھے اور مزید ترقیات سے نوازے

ایک بہتر اور محبت بھرا معاشرہ کیسے بنایا جائے؟

حسد اور منافقت ایک مہلک بیماری ہے جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ محبت، خیرخواہی، اور ترقی کا گہوارہ بنے تو ہمیں حسد کے بجائے دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، ان کی تعریف کرنی چاہیے، اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ یہی رویہ ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حسد اور جلن سے بچائے اور ہمارے دلوں کو محبت اور خیرخواہی سے بھر دے۔ آمین!

No Comments

Leave a Reply