مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
اگر کسی گاڑی کا انجن سیز (معطل) ہوجائے تو کتنا بھی ماہر ڈرائیور ہو اسکو چلا نہیں سکتا۔
اسی طرح چاہے کتنا بھی ماہر لوہار کیوں نہ ہو اگر اسکو کلہاڑی بنانے کیلئے کنستر کا ٹین دیا جائیگا تو وہ اسکو کلہاڑی کے قابل نہیں بناسکتا، ہاں اس کنستر سے کنستر کے لائق خدمات تو حاصل کیجاسکتی ہیں لیکن اس سے کلہاڑی والی خدمات کی امید کرنا بیوقوفی ہوگی۔
اسی طرح کوئی جوہری کتنا بھی ماہر ہو اسکو ہیروں کو پرکھنے کی چاہے جتنی مہارت ہو لیکن ایک پتھر کو ہیرا وہ بھی نہیں بنا سکتا، اسکی مہارت آپکو ہیرے کی تراش خراش میں نظر آئیگی،
ایک سنار چاہے جتنا بڑا ہوجائے لیکن لوہے کو سونا وہ بھی نہیں بناسکتا،
یہ دنیا کے معاملات ہیں لیکن دین کے معاملے میں ہمارے نظریات بالکل بدل جاتے ہیں،
ہم اپنے بچے کو مدرسے میں داخل کرتے ہیں بڑے افسوس کی بات ہے اور یہی حقیقت ہے کہ اول تو ایسے بچے مدرسوں میں داخل کئے جاتے ہیں جو گھر میں کسی مصرف کے نہ ہوں یعنی انمیں کسی قسم کی تخلیقی صلاحیت نہ ہو، (الاماشاءاللہ بعض گھرانے ایسے ہیں جنکو اللہ نے قبول کرلیا ہے اور جنکے دلوں میں علم دین کی قدر ہے وہ اپنے ہونہار بچوں کو مدرسہ میں داخل کرتے ہیں پھر یہی بچے آگے چل کر علم کے آفتاب وماہتاب اور نجوم بن کر فلک علم پر جگمگاتے ہیں ، اور قوم کی درست راہنمائی کرتے ہیں) یاصلاحیت تو ہے لیکن وہ صلاحیت اس لائن کیلئے نہیں ہے، بس زبردستی بچے کو داخل کررکھاہے ، وقت برباد کئے جارہے ہیں،
بہر حال مثلا گھر میں دو بچے ہیں ایک بچہ تھوڑا تیز ہے ذہین ہے حاضر جواب ہے باتوں کو جلدی جذب کرتا ہے تو اسکو اسکول میں بھیج دینگے،
اور جو بچہ سست ہے سمجھاؤ کچھ تو سمجھے کچھ، دماغی اعتبار سے تیز نہیں ہے اسکو مدرسہ میں مولوی صاحب کے پاس بھیجینگے کہ اسکو اللہ کے دین کیلئے چھانٹ لیا ہے ہم نے،
تو بھلا بتائیے جب پتھر کا ہیرا نہیں بنایا جاسکتا لوہے کا سونا نہیں بن سکتا کنستر سے بھاری اوزار نہیں بن سکتے بنا انجن گاڑی نہیں چل سکتی ہاں یہ سب اشیاء اپنے اپنے لائق مطلوبہ نتائج بہترین دے سکتی ہیں جو دوسری چیزیں نہیں دے سکتیں،
مثلا پتھر سے جو کام لیا جاسکتا ہے وہ ہیرے سے نہیں لیا جاسکتا ،
لوہا جو کام کرسکتا ہے بڑی بڑی چٹانوں کو کاٹ سکتا ہے اس سے بڑی مشینیں بن سکتی ہیں وہ کام سونا نہیں کرسکتا وغیرہ وغیرہ ، بہر حال جب مذکورہ اشیاء اپنی صلاحیتوں کے برخلاف نتائج نہیں دکھا سکتی تو جو بچہ مطلوبہ صلاحیتوں کا حامل نہ ہو وہ کیسے مطلوبہ نتائج دکھا سکتا ہے،
دیکھئے ہر کوئی پڑھ لے ضروری نہیں نہ ہر کوئی پڑھنے کیلئے پیدا ہوا ہے،
اور نہ ہی ہر شخص سب کچھ پڑھنے کیلئے پیدا ہوا ہے
“لکل فن رجال” ہر میدان کیلئے الگ الگ لوگ پیدا کئے گئے ہیں،
جو بچہ دینی پڑھائی میں کمزور ہو ہوسکتا ہے وہ بزنس میں چھکے چھڑا دے،
جو بچہ مدرسہ میں سست ہو ہوسکتا ہے وہی بچہ اسکول میں زیادہ اچھے نتائج دکھائے،
جس بچہ کو پڑھائی میں سست کہا جاتا ہے ہوسکتا ہے مزدوری میں اس سے زیادہ کام کوئی نہ کرسکے،
جو بچہ تعلیم میں صفر ہو ہوسکتا ہے اسکا یہ میدان ہی نہ ہو ہوسکتا ہے وہی بچہ کسی دوسرے میدان کا شہسوار ہوجائے،
اسلئے اگر بچے سے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے ہوں تو مطلوبہ صلاحیتوں کے حامل بچوں کو مدارس میں داخل کریں ، انکی صلاحیتوں کو انکے مزاج کو پہچانیں کس قسم کا بچے کا مزاج ہے؟
یا کونسی تعلیم میں یا کس کام وہنر میں بہتر طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے؟
ان سب کو جانے بنا اہل مدارس پر اعتراض بیجا ہے،
اوپر جو مثالیں گزریں انکا مقصد صرف بات کو سمجھانا ہے بچے کی بے عزتی کرنا مقصد نہیں ہے، مقصد یہ ہیکہ جسطرح دنیا کے اندر مختلف اشیاء مختلف مقاصد کیلئے بنائی گئی ہیں وہ اسکے خلاف استعمال کرنے میں فائدہ نہیں دیتی اسی طرح انسان ہیں مختلف انسانوں کو مختلف مقاصد کیلئے اللہ نے پیدا کیا ہے،
لہذا ان کی صلاحیتوں کو انکے مزاج کو جاننا بیحد ضروری ہے تبھی ہمیں کماحقہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں ورنہ تو تیلی کے بیل کی طرح لگے رہینگے،
یہ عجیب بات ہے مدرسہ میں بچہ اگر نہ چلے تو کہتے ہیں کہ مدرسہ کا استاذ اچھا نہیں ہے یا مدرسہ ہی اچھا نہیں ہے، یعنی قصور بچے کا یا اسکے والدین کا نہیں ہے بلکہ مدرسہ یا استاذ کاہے،
اور اگر اسکول میں بچہ نہ چلے تو کہتے ہیں کہ ہمارے بچہ کا ذہن نہیں چل رہا ہے اسکول میں، اب اسکول یا اسکے ٹیچر کو دوش نہیں دینگے بلکہ بچہ کا اور اسکی فہم کا قصور ہے،
ہے نا دوہرا رویہ؟
جبکہ سارا مسئلہ مزاج کو نہ پہچاننے کا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا،
اسکول میں فیس بھی دینگے ڈریس بھی بنوائینگے جو خرچ ہوگا وہ کرینگے ٹیوشن بھی لگوائینگے اور پھر بھی اگر بچہ نہ پڑھ سکے تو اسکول کا کوئی قصور نہیں، اور مدرسہ میں کوئی خرچ نہیں نہ ٹیوشن کی ٹینشن پھر بھی قصور مدرسہ کا ہی ہے، میں تو اسکو “وقار کی کمی” سمجھتا ہوں ،
اس مادی دور میں پیسوں سے قدرومنزلت کا معیار ناپا جاتا ہے، جتنی مہنگی جو چیز اتنا اسکا وقار، چونکہ مدرسہ کی تعلیم کا کوئی خرچ نہیں اسلئے بے وقعت ہے، سارا قصور اسی کے سر ڈال دیا جاتا ہے،
اور یہ بے وقعتی ہماری مرعوبیت کی مرہون منت ہے، مسلمان مغرب سے مرعوب ہے اسلئے اسلام اسکو غیر مرغوب ہے، اسی لئے دینی تعلیم بے وقار ہے۔
میری باتوں کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ بچے کے نہ پڑھنے میں قصور صرف بچے کا ہے استاذ کیلئے کوئی ضروری نہیں کہ وہ قابل بھی ہو یا نہیں ! دیکھئے استاذ کا کام نکھارنے کا ہوتا ہے اور بچے کا کام اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ،
جو استاذ اپنے فن میں ماہر نہ ہو تو وہ کیسے طالب علم کی صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے؟ اسکو پڑھانے کا بھی کوئی حق نہیں، ایسے اساتذہ حدیث “انزلوا الناس منازلھم” (لوگوں کو انکے درجہ میں رکھو) کے قاعدہ کے مطابق اس میدان میں شہسواری کے حقدار نہیں ہیں، جیسا کہ اوپر ایک مقولہ گزرا “لکل فن رجال” (ہر فن کیلئے ماہرین ہوتے ہیں) اسکی رو سے بھی ایسے اساتذہ اساتذہ کہلانے کی فہرست سے نکل جاتے ہیں،
اسلئے بچے کو اگر قابل بنانا ہے تو اسکی فطری صلاحیتوں کو پہچاننا بہت ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ ماہر استاذ بن سکیں ،
جسطرح سونے سے زیور بنانے کیلئے ماہر سنار کی ضرورت ہے
ہیرے کی تراش خراش کیلئے ماہر جوہری کی ضرورت ہے،
گاڑیاں دوڑانے کیلئے ماہر ڈرائیور کی ضرورت ہے اسی طرح طلبہ کی
استعداد کو نکھارنے کیلئے بھی لائق اور قابل اساتذہ کی ضرورت ہے۔
اور طالب علم کیلئے بھی ضروری ہے کہ اسمیں نکھرنے کی صلاحیت ہو۔

No Comments