Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا ہندوستان میں صرف مسلمان کے نام پر الیکشن جیتے جاسکتے ہیں ؟ مسلمان اپنا وجود کیسےمنواسکتے ہیں؟

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا ہندوستان میں صرف مسلمان کے نام پر الیکشن جیتے جاسکتے ہیں ؟ مسلمان اپنا وجود کیسےمنواسکتے ہیں؟

کیا ہندوستان میں صرف مسلمان کے نام پر الیکشن جیتے جاسکتے ہیں ؟ مسلمان اپنا وجود کیسےمنواسکتے ہیں؟

کیا ہندوستان میں صرف مسلمان کے نام پر الیکشن جیتے جاسکتے ہیں ؟
مسلمان اپنا وجود کیسےمنواسکتے ہیں؟

تحریر✍️ مفتی عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

ہندوستان میں الیکشن صرف مسلمان کی بات کرکے جیتنا مشکل ہے، بلکہ تمام لوگوں کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کرنی ہوگی، سب کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا، تبھی مسلمان الیکشن میں کامیاب ہوسکتا ہے، اور یہ اسلام کا حکم ہے کہ سب کے کام آنا ہے سب کے نفع کا کام کرنا ہے ، مذہبی قومی علاقائی لسانی لونی ہر طرح کے تعصب سے اوپر اٹھ کر انصاف کے ساتھ سب کے فائدہ کو سوچنا ہے،
جن علاقوں میں یا جن آبادیوں میں مسلمان زیادہ ہیں وہاں بیٹھ کر مسلم ووٹ کی بات کرنا بہت آسان ہے لیکن جہاں مسلمان کم ہیں انکی بات کرنا اور انکا بھی سوچنا یہ اسلامی اخوت کیلئے ضروری ہے،
جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں کی مسلم ووٹ حاصل کرنا اور مسلمان کی ہی بات کرنا بڑا آسان ہے، اگر انہوں نے صرف اپنی بات کرکے الیکشن جیت بھی لیا تو جہاں مسلمان کم ہیں ان سے متعصبانہ رویہ اختیار کیا جائیگا، پھر وہاں کی فرقہ ہرست طاقتیں ہندو مسلم کے نام پر ووٹ حاصل کرینگی اور وہاں کے مسلمان اچھوت بن کر رہ جائینگے ، اسلئے پورے ملک میں ہر جگہ سب کی بات کرکے ہی الیکشن جیتا جاسکتا ہے

آپ دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ صرف مسلمانوں کی بات کرکے اور انکو ہی ساتھ لیکر کیا مسلمان الیکشن میں کامیاب ہوسکتا ہے؟

2024 میں ہندوستان کی کل آبادی تقریباً 1.456 بلین (1,456,360,442) ہے۔ یہ دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 17.77 فیصد بنتی ہے، جس سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے، چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے۔ اس وقت ملک کی سالانہ آبادی میں اضافہ کی شرح تقریباً 0.896% ہے  ۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد اور فیصد 2024 کے تخمینے کے مطابق قریبا ۲۲ کروڑ بنتی ہے جو پوری آبادی کا ۱۵.۵ فیصد ہے

1. اتر پردیش (Uttar Pradesh):

• تعداد: 3.84 کروڑ
• جو پورے اترپردیش کی آبادی کا فیصد: 19.26% ہے

2. مغربی بنگال (West Bengal):

• تعداد: 2.46 کروڑ
• فیصد: 27.01%

3. بہار (Bihar):

• تعداد: 1.75 کروڑ
• فیصد: 16.87%

4. مہاراشٹر (Maharashtra):

• تعداد: 1.29 کروڑ
• فیصد: 11.54%

5. آسام (Assam):

• تعداد: 1.06 کروڑ
• فیصد: 34.22%

6. کیرالہ (Kerala):

• تعداد: 89 لاکھ
• فیصد: 26.56%

7. جموں و کشمیر (Jammu & Kashmir):

• تعداد: 85 لاکھ
• فیصد: 68.31%

8. کرناٹک (Karnataka):

• تعداد: 78 لاکھ
• فیصد: 12.92%

9. راجستھان (Rajasthan):

• تعداد: 62 لاکھ
• فیصد: 9.07%

10. گجرات (Gujarat):

• تعداد: 58 لاکھ
• فیصد: 9.67%

مسلم اکثریتی ریاستیں:

• لکشدیپ: 96.58%
• جموں و کشمیر: 68.31%
• آسام: 34.22%
• مغربی بنگال: 27.01%
• کیرالہ: 26.56%

خلاصہ:

پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں سے سب سے زیادہ مسلمان اتر پردیش میں ہیں، جبکہ لکشدیپ اور جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مغربی بنگال، بہار، اور آسام بھی اہم ریاستیں ہیں،
پھر یاد رکھیں جن علاقوں میں مثلا یوپی میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں وہاں بھی ایسے علاقے بہت کم ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو، اکثر مسلمان ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں غیروں کی اکثریت ہے،  
اس کو دیکھ کر آپکو کیا لگتا ہے کہ مسلمان اپنے بل بوتے پر الیکشن جیت سکتے ہیں؟ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہوسکتا ہے صرف وہاں سے بعض کنڈیڈیٹ صرف مسلمانوں کی بات کرکے جیت جائیں لیکن پورے ملک میں یہ نہیں چل سکتا، اسی طرح بعض ریاستوں میں ایسا ہوجائے مثلا کشمیر میں، لیکن ہمیں تو پورے ملک کا سوچنا چاہئے،ہر علاقے کا سوچنا چاہئے جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں کا بھی اور جہاں کم ہیں وہاں کا بھی،
اگر مسلمانوں کو اقلیت کے باوجود اپنا وجود منوانا ہے تو یہ کام کرنے ہونگے
(۱) اللہ سے تعلق جوڑنا، صرف نماز روزے کی حد تک نہیں بلکہ اخلاق معاملات معاشرت زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنا
(۲) وسائل و تدابیر اختیار کرنا، یعنی تجارت، صنعت، حرفت، تعلیم میں آگے بڑھنا،
(۳) فضول خرچی سے بچنا، یعنی شادی بیاہ اور ریاکاری میں جو بیجا پیسہ برباد کیا جاتا ہے اس سے رکنا، اس بیسے کو بچا کر ملک وملت کے نفع کیلئے کام کرنا مثلا مسجد مدرسہ سکول کالج ہسپتال قائم کرنا،
(۴) اپنا لیڈر کسی کو ماننا، حقیقت میں لیڈر ماننا ایسا نہ ہو کہ اسکی خطاؤں پر اسکی توہین کیجائے، اسپر طنز کئے جائیں
اسکی برائیوں کو سرعام ظاہر کیا جائے، بلکہ اگر اسمیں غلطی ہو تو خیر خواہانہ تنبیہ کیجائے، اسکو مفید مشورے دئیے جائیں، اگر مشورہ وہ نہ قبول کرے تو اسکی مخالفت نہ کیجائے، اسکے لئے بازاری زبان استعمال نہ کیجائے،
اس سے لوگوں کو بدظن نہ کیا جائے، اسکے اچھے کاموں کی تعریف کھلے عام کیجائے، خطاؤں کو تنہائی میں اس سے بیان کیا جائے
(۵) سبھی مذاہب کا احترام انکے مذہبی پیشواؤں کا احترام، انکی مذہبی رسومات کو کچھ نہ کہا جائے، سبھی کے نفع کے سوشل کام کئے جائیں، سب کی پریشانیوں میں کام آیا جائے،
(حدیث میں ہے خیرالناس من ینفع الناس بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے)
(۶) آپسی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا، چاہے وہ برادری واد کی سطح پر ہو یا امیروغریب، علاقائی، رنگ، نسل، یا ذاتی یا خاندانی سطح پر ہو ہر طرح کے اختلاف کو ختم کرنا ہوگا اور صرف ملک وملت کے فائدہ کو سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا کہ کیا صحیح کیا غلط ہے؟ اسلام ہمیں کس بات کا پابند کرتا ہے؟

No Comments

Leave a Reply