Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

کیا گائے کا گوشت مضر ہے؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ گائے کا گوشت کھانا شرعی اعتبار سے بھی ناپسندیدہ ہے اسلئے کہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “گائے کے دودھ میں شفا ہے اور اسکے گھی اور گوشت میں بیماری ہے” قرآن حکیم میں سیدنا ابراھیم علیہ السلام کا ذکر بار بار آیا ہے اور انکے ان مقدس مہمانوں کا بھی جو فرشتے تھے لیکن انسانی صورت میں آئے تھے۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام نے انکی ضیافت کیلئے جو چیز پیش کی وہ گائے کے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت ہی تھا، جسے کہیں (فجاء بعجلٍ سمین) (فربہ بچھڑا) اور کہیں (عِجلٍ حنیذ) (بھنا ہوا بچھڑا) کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے۔
اگر گائے کے گوشت میں بیماری ہے تو نبی ایسا بیکار گوشت اپنے مہمان کو کیوں پیش کرتے؟
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
فدخل علینا یوم النحر بلحم البقر فقلت: ما ہذا؟ قال: نحر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن أزواجہ۔ (بخاری ومسلم)
(ہمارے پاس یوم النحر میں گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو لانے والے نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے)
اسی طرح حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی روایت میں ہے:
أمر ببقرۃ فذبحت فأکلوا منہا (صحیح بخاری) (آپؐ نے حکم دیا تو گائے کو ذبح کیا گیا چنانچہ سبھوں نے اسکے گوشت کو کھایا)
حضرت عائشہؓ کا ہی یہ بیان بھی ہے کہ:
أتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بلحم بقر فقیل: ہذا ما تصدق بہ علی بریرۃ فقال: ہو لہا صدقۃ ولنا ہدیۃ۔ (رواہ مسلم)
( حضورؐ کی خدمت میں گائے کا گوشت لایا گیا اور آپؐ سے عرض کیا گیا کہ یہ وہ گوشت ہے جو حضرت بریرہؓ کو صدقہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے تو آپؐ نے فرمایا وہ اس کے لئے تو صدقہ ہے لیکن جب اس نے مجھے دیا تو اسکی حیثیت ہدیہ کی ہے)
اگر گائے کے گوشت میں بیماری ہے تو نبی آخر الزماں (جنکا کوئی کام فائدہ سے خالی نہیں ) کیوں گائے کی قربانی کرتے اور اسکا گوشت کھاتے؟
نیز اگر اسمیں بیماری ہوتی تو اسکی قربانی کیوں جائز ہوتی؟ کیا اللہ ایسا گوشت کھلانا چاہتے ہیں جو مضر ہے؟ نہیں ہرگز نہیں نیز اسکو پھینکنے کا حکم بھی نہیں ہے اسلئے کہ یہ ضیاع مال ہے، معلوم ہوا کہ اسطرح کی روایات جنمیں گائے کے گوشت میں بیماری کا ذکر ہے صحیح نہیں ہیں،
بعض حضرات نے ایک روایت کو پیش کیا ہے جسمیں گائے کے گوشت کو مضر قرار دیا گیا ہے اور اسپر مزید البانی کی تصحیح کا مسالہ لگاکر پیش کیا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ علامہ زرکشی فرماتے ہیں:
قلت: بل ہو منقطع وفی صحتہ نظر فان فی الصحیح ان المصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضحی عن نسائہ بالبقر وہو لا یتقرب بالدائ۔ (فیض القدیر ۴؍۴۵۹)
(میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث منقطع ہے اور اسکی صحت میں کلام ہے کیونکہ صحیح روایتوں میں یہ مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی، اور آپؐ کبھی ایسی چیز کو قربانی کے طور پر پیش نہیں کرسکتے جو بیماری ہو)
امام نسائی فرماتے ہیں کہ:
قد تساہل الحاکم فی تصحیحہ۔ (حاکم نے اسکی تصحیح میں تساہل سے کام لیا ہے)
علامہ ابن الجوزی ایک عام اُصول بیان فرماتے ہیں:
فکل حدیث رأیتہ یخالف المعقول أو یناقض الأصول فاعلم أنہ موضوع فلا تتکلف فی اعتبارہ۔
مشہور فقیہ اور سعودی عالم شیخ محمد بن العثیمین فرماتے ہیں:
أنظر إلی حدیث أن ’’لحوم البقر داء وألبانہا شفائ‘‘
ہذا الحدیث باطل ولا یجوز للإنسان أن یصدقہ لماذا؟ لأن اللّٰہ نص علی حل البقر حل لأکلہا فقال: ومن البقر اثنین واحلہا فکیف یحل اللّٰہ لعبادہ ما یکون داء علیہم الخ۔
(گائے کے گوشت کے بیماری ہونے اور دودھ کے شفا ہونے والی حدیث باطل ہے، اس کو صحیح قرار دینا ہرگز جائز نہیں ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے گائے کا گوشت کھانا حلال قرار دیا ہے، جو چیز بیماری ہو اس کو اللہ تعالیٰ کیسے حلال کرسکتا ہے؟)
بلکہ خود شیخ محمد ناصر الدین البانی حدیث کی تصحیح کے باوجود ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
کل لحم البقر وفیہ العافیۃ لأن آل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأھلہ أکلوا لحم البقر وضحی الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن أہلہ فی حجۃ الوداع بالبقر ولکن أنصحک أن لا تکثر منہ لأن ہذا الإکثار ہو مراد الحدیث۔ (سلسلۃ الھدی والنور ۲۳۶)
(گائے کا گوشت کھایا کرو اسمیں عافیت ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال نے گائے کا گوشت کھایا ہے، اور آپؐ نے اپنے اہل کی طرف سے حجۃ الوداع کے موقع پر گائے کی قربانی کی ہے، البتہ یہ نصیحت بھی کرتا ہوں زیادہ مت کھایا کرو کیونکہ زیادتی سے نقصان ہوتا ہے ، اور حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے)

No Comments

Leave a Reply