Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

کیا کوئی بیماری متعدی ہے؟

کیا بیماری ایک سے دوسرے کو لگ سکتی ہے؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صقر وفر المجذوم كما تفر من الأسد . رواه البخاري .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا بد شگونی ہامہ، اور صفریہ سب چیزیں بے حقیقت ہیں (البتہ ) تم جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ۔” (بخاری )
تشریح
یہ خیال کہ ایک شخص کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے، زمانہ جاہلیت کی یادگار ہے، چنانچہ اہل عرب کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص بیمار کے پہلو میں بیٹھ جائے یا اس کے ساتھ کھائے پئے تو وہ بیماری اس میں بھی سرایت کر جائے گی ، علماء لکھتے ہیں کہ عام طور پر اطباء کے نزدیک سات بیماریاں ایسی ہیں جو ایک دوسرے کو لگتی ہیں (١) جذام (٢) خارش (٣) چیچک (٤) آبلے جو بدن پر پڑ جاتے ہیں (٥) گندہ دہنی (٧) وبائی امراض ۔
لہذا شارع علیہ السلام نے اس اعتقاد خیال کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرض کا ایک سے دوسرے میں سرایت کرنا اور اڑ کر لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق نظام قدرت اور قادر مطلق کی مشیت سے ہے کہ جس طرح پہلا شخص بیمار ہوا ہے اسی طرح دوسرا شخص بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى ولا هامة ولا صفر . فقال أعرابي يا رسول فما بال الإبل تكون في الرمل لكأنها الظباء فيخالها البعير الأجرب فيجر بها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فمن أعدى الأول . رواه البخاري .
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی بیماری کا ایک دوسرے کو اڑ کر لگنا ‘ہامہ ” اور صفر، اس سب کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ (ایک دیہاتی نے کہ جو اپنے ناقص مشاہدے و تجربہ کی بنا پر خارش کو متعدی بیماری سمجھتا تھا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! تو پھر ان اونٹوں کے بارے میں کہا جائے گا (جو اپنی تندرستی اور اپنی کھال کی صفائی ستھرائی کے اعتبار سے) ہرن کی مانند ریگستان میں دوڑے پھرتے ہیں، لیکن جب کوئی خارشی اونٹ ان میں مل جاتا ہے تو وہ دوسروں کو بھی خارش زدہ بنا دیتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اچھا تو یہ بتاؤ ) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ بنایا ؟ یعنی خارش پیدا ہونے کے لئے یہی ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی سے اڑ کر لگے لہٰذا جس طرح ان تندرست اونٹوں میں آملنے والے خارش زدہ اونٹ میں خارش کا پیدا ہونا بتقدیر الہٰی ہوتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے اونٹوں کا خارش زدہ ہو جانا بھی حکم الٰہی کے تحت اور نظام قدرت کے مطابق ہوتا ہے ( مسلم )

ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی کو اپنی مجلس نیں آنے سے منع فرمادیا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری متعدی ہوتی ہے
عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فأرسل إليه النبي صلى الله عليه وسلم إنا قد بايعناك فارجع . رواه مسلم .
حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگوں کا جو وفد (دربار رسالت میں) آیا تھا اس میں ایک جذامی تھا ( جب اس نے بیعت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس ایک آدمی بھیج کر کہلا دیا کہ ہم نے (تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بغیر ) تم سے (زبانی ) بیعت لے لی ہے تم لوٹ جاؤ (گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سامنے نہیں بلایا تاکہ حاضرین مجلس کو کراہت محسوس نہ ہو ) ” (مسلم ) ۔
تشریح
جذامی سے ملنے جلنے میں اجتناب و احتراز کے بارے میں ایک تو یہ حدیث ہے ، دوسری حدیث وہ ہے جو پیچھے گزری ہے اور جس میں فرمایا گیا کہ جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ان دونوں حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جذامی کی صحبت و مجالست سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہئے، جب کہ وہ احادیث ان کے برعکس ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ کسی بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں بالکل متضاد ہیں، اس تضاد کو دور کرنے کے لئے اور ان احادیث کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء کے متعدد اقوال منقول ہیں ، حضرت شیخ ابن عسقلانی نے شرح نخبہ میں لکھا ہے کہ احادیث کے اس باہمی تضاد کو دور کرنے کے لئے سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جن احادیث میں عدویٰ یعنی چھوت کی نفی کی گئی ہے ان کا حکم اپنے عموم و اطلاق کے ساتھ قائم و باقی ہے اور ان لوگوں کی مخالطت و مجالست جو جذام جیسے امراض میں مبتلا ہوں ان کی بیماری لگنے کا سبب ہرگز نہیں ہوتا اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے جو جذامی سے اجتناب و پرہیز کو ظاہر کرتی ہیں تو ان کا مقصد محض ادہام و وساوس کا سد باب ہے کہ کوئی شخص شرک کے گرداب میں نہ پھنس جائے ۔ اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے جذامی کے ساتھ مخالطت و مجالست اختیار کی، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا اٹھا اور اس کے ساتھ ملنا جلنا جاری رکھا ، اور پھر اسی دوران اللہ کا یہ حکم ہوا کہ وہ شخص بھی جذام میں مبتلا ہو گیا تو بعید نہیں کہ وہ اس وہم و اعتقاد میں مبتلا ہو جائے کہ میں اس جذامی کی مخالطت و مجالست ہی کی وجہ سے اس مرض میں گرفتار ہوا ہوں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس وہم و اعتقاد سے بچانے کے لئے جو کفر و شرک کی حد تک پہنچاتا ہے، جذامی سے اجتناب و پرہیز
کرنے کا حکم دیا،
چنانچہ اگر آپکا مقصد بیماری کے متعدی ہونے کو بتانا ہوتا تو آپ سے یہ عمل منقول نہ ہوتا ملاحظہ فرمائیں
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد مجذوم فوضعها معه في القصعة وقال كل ثقة بالله وتوكلا عليه . رواه ابن ماجه .
اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو کھانے کے پیالہ میں اپنے ساتھ شریک کیا اور فرمایا کہ کھاؤ ، میرا اللہ پر اعتماد و بھروسہ ہے اور میں اسی کی ذات پر توکل کرتا ہوں ۔ ” (ابن ماجہ )
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ توکل و یقین کا مرتبہ حاصل ہو جانے کے بعد جذامی سے بھاگنا اور اس کو اپنے سے الگ رکھنا ضروری نہیں ہے ۔

قائلین تعدیہ کا ایک اور روایت سے استدلال اور اسکا جواب

عن يحيى بن عبد الله بن بحير قال أخبرني من سمع فروة بن مسيك يقول قلت يا رسول الله عندنا أرض يقال لها أبين وهي أرض ريفنا وميرتنا وإن وباءها شديد . فقال دعها عنك فإن من القرف التلف . رواه أبو داود .
اور حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن بحیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا کہ جس نے حضرت فردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسیک سے یہ روایت سنی کہ انہوں نے یعنی فروہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے پاس ایک زمین ہے جس کو ابین کہا جاتا ہے اور وہ ہماری زراعت اور غلے کی زمین ہے یعنی وہ غلہ منڈی ہے، جہاں تجارت کے لئے دوسری جگہوں سے غلہ لا کر جمع کیا جاتا ہے اور دوسرے شہروں میں بھیجا جاتا ہے لیکن اس زمین کی وبا سخت ہے یعنی وہاں وبائی امراض زیادہ رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو (یعنی وہاں رہنا اور آنا جانا ترک کر دو کیونکہ وہ طاعون زدہ آبادی کے حکم میں ہے ) اور وبا (بیماری ) کا قرب ہلاکت اور اتلاف کا باعث ہوتا ہے ۔ ” (ابوداؤد )
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ اس زمین کو چھوڑنے کا حکم عدویٰ یعنی چھوت اور تعدیہ کے نقطہ نظر سے نہیں تھا بلکہ اصول طب اور حفظان صحت کے پیش نظر تھا کیونکہ وہاں کی آب و ہوا غیر موافق تھی اور یہ ظاہر ہے کہ آب و ہوا کا اچھا و صاف اور موافق ہونا حفظان صحت کی بنیاد اور جسم و بدن کی تندرستی و سلامتی کے لئے ضروری اسباب میں سے ہے اس کے برعکس آب و ہوا کا خراب و ناموافق ہونا صحت و تندرستی کے لئے انتہائی مضر اور بیماری و ہلاکت کا سبب ہوتا ہے ۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ وبا کی جگہ سے بھاگ جانا جاہئے وہ شاید اسی حدیث کے مضمون سے استدلال کرتے ہیں، ان حضرات کے مطابق اس شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وبا کی شکایت کی کہ اس زمین میں وبائیں پھیلتی ہیں لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس زمین کو چھوڑ دو اور وہاں سے نکل جاؤ ، کیونکہ وبائی امراض کی قربت و مخالطت ہلاکت کا باعث ہوتی ہے ۔ حالانکہ حقیقت میں اس حدیث سے مذکورہ استدلال قطعا غیر موزوں ہے کیونکہ یہ حدیث اس صورت سے متعلق نہیں ہے کہ وہاں وبا پھیلی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے بھاگ جانے کو جائز رکھا بلکہ اس شخص کی شکایت کا تعلق دراصل اس بات سے تھا کہ وہ زمین ایسی ہے ۔ جہاں وبائیں پھیلتی رہتی ہیں ۔گویا اس شخص نے اس زمین کو منحوس و مکروہ جانا، چنانچہ اس کے باطنی احوال کی کمزوری کی بنا پر اس کو یہ اجازت دینا ہی بہتر سمجھا گیا کہ وہ اس زمین کو چھوڑ دے اور وہاں آنا جانا ترک کر دے تاکہ وہ ان وباؤں کو اس زمین کو نحوست سمجھ کر بے بنیاد عقیدے کا شکار نہ ہو جائے اور شرک خفی کے گرداب میں نہ پھنس جائے ۔
ویسے وبا کی جگہ کی مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال و مباحث ہیں مگر جس صورت کو علماء نے زیادہ بہتر قرار دیا ہے اور جس پر عمل کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ پیش از وقوع تو احتراز و اجتناب کیا جائے اور بعد از وقوع صبر و رضا کی راہ اختیار کرنی چاہئے ۔ اور بیماری کو متعدی نہ سمجھے ،اگر کسی شہر و آبادی میں کوئی وبائی مرض پھیل جائے تو وہاں پہلے سے موجود لوگوں کو اس شہر و آبادی سے بھاگنا ناروا ہے بلکہ وہاں رہتے ہوئے توبہ استغفار کیا جائے اور اس وبا کے دفعیہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا و تضرع کیا جائے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے ، چنانچہ بخاری و مسلم، وغیر ہما میں وہ احادیث موجود ہیں جن میں وبا زدہ آبادی سے نکلنے اور وبا سے ڈر کر بھاگنے کی ممانعت نیز ایسے مواقع پر صبر و اثبات کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب و تعریف منقول ہے ۔
واضح رہے کہ وبا سے بھاگنے کو جائز قرار دینے والے حضرات کا اس حدیث سے استدلال کرنا یوں بھی غیر مناسب ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے جب کہ جو احادیث بھاگنے کی ممانعت کو ثابت کرتی ہیں ان کو بخاری، ومسلم نے نقل کیا ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا لہٰذا یہ حدیث بخاری ، ومسلم ، کی احادیث کے معارض نہیں ہو سکتی علاوہ ازیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ علماء و محققین کے مطابق فروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسیک کوئی کثیر الروایت صحابی نہیں ہیں بلکہ ان سے ایک دو ہی حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے راوی نے روایت کی ہیں جو بالکل مجہول غیر معروف ہیں یہاں تک کہ ان کا نام تک معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔ بلکہ خود یحییٰ ابن عبداللہ ابن بحیر کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ کوئی ثقہ راوی ہیں بھی یا نہیں ؟
حاصل یہ کہ وبا سے ڈر کر بھاگنا بلا شک و شبہ ممنوع اور معصیت ہے اور اگر کوئی اس اعتقاد کے ساتھ بھاگے کہ یہاں موجود رہا اور صبر و اثبات کی راہ اختیار کی تو یقینا وبا کا شکار ہو کر مر جاؤں گا اور اگر یہاں سے نکل بھاگا تو بچ جاؤں گا تو ایسا شخص نہ صرف بھاگنے کی معصیت ہی کا مرتکب ہو گا بلکہ اس فاسد اعتقاد کی بنا پر کافر ہو جائے گا اس اعتقاد کے بغیر بھاگنے والا معاصی ہوگا ۔ وبا سے ڈر کر بھاگنے کو، زلزلہ آ جانے یا آگ لگ جانے کی صورت میں گھر سے نکل بھاگنے پر قیاس کرنا بھی ایک مہمل بات ہے کیونکہ اول تو یہ قیاس نص کے خلاف ہے، دوسرے زلزلہ آ جانے، گھر کے گر پڑنے اور مکان میں آگ لگ جانے کی صورت میں گھر میں موجود رہنا یقینی طور پر ہلاکت و تباہی کا موجب ہے، جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے اس کے برخلاف وباء سے نہ بھاگنے کی صورت میں مر جانا یقینی نہیں ہوتا بلکہ مشکوک و موہوم ہوتا ہے

No Comments

Leave a Reply