Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

کیا مدینہ منورہ میں کرونا وائرس داخل نہیں ہوسکتا؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم على أنقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الطاعون ولا الدجال( رواہ البخاری ومسلم واحمد وابن ابی حاتم فی الجرح والتعدیل، )

مذکورہ روایت طاعون کے بارے میں قطعی ہے اور دیگر وبائی بیماریوں کے بارے میں ظنی ہے، لہذا اہل مدینہ کی طاعون سے حفاظت تو یقینی ہے اور باقی وباؤں سے حفاظت غیر یقینی ہے اسی میں کرونا وائرس بھی داخل ہے، نیز شراح احادیث نے اس روایت کو طاعون کی حد تک بیان فرمایا ہے عام نہیں بیان فرمایا، چنانچہ امام سیوطی فرماتے ہیں

“ أنقاب الْمَدِينَة طرقها وفجاجها لَا يدخلهَا الطَّاعُون قَالَ الْعلمَاء هَذِه معْجزَة لَهُ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَإِن الْأَطِبَّاء قَدِيما وحديثا عجزوا أَن يدفعوا الطَّاعُون عَن رجل وَاحِد فَمَا اسْتَطَاعُوا فضلا عَن بلد وَالْمَدينَة رفع النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الطَّاعُون عَنْهَا إِلَى يَوْم الْقِيَامَة” مدینہ کا طاعون سے محفوظ رہنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کیونکہ قدیم وجدید تمام ڈاکٹر کسی ایک شخص سے بھی طاعون کو دور کرنے میں عاجز رہے ہیں چہ جائیکہ پورے شہر سے دور کردیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے شہر سے ہی قیامت تک کیلئے طاعون سے محفوظ رہنے کی خبر دیدی، 

امام نووی فرماتے ہیں

“قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ ) أَمَّا الْأَنْقَابُ فَسَبَقَ شَرْحُهَا قَرِيبًا .

وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ فَضِيلَةُ الْمَدِينَةِ ، وَفَضِيلَةُ سُكْنَاهَا ، وَحِمَايَتُهَا مِنَ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ .”

اس روایت میں مدینہ کے طاعون سے محفوظ رہنے کی خبر دی گئی ہے”

معلوم ہوا کہ روایت طاعون کے بارے میں ہے عام نہیں ہے، 

لیکن میں کہتا ہوں کہ کرونا وائرس کی وبا بلکہ کوئی بھی وباء خاص طور سے بخار والی وبا یعنی ایسی بیماری جسمیں بخار خاص طور سے آتا ہو، نہ کہ عام بخار ( جیسا کہ کرونا میں بھی بخار آتا ہے)مدینہ میں داخل نہ ہوگی اسلئے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو وہاں ملیریا بخار کی وبا پھیلی ہوئی تھی جسمیں حضرت ابوبکر صدیق اور بلال اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مبتلا ہوگئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ مدینہ کے بخار کو جحفہ بھیجدے 

“عن عائشة ـ رضي الله عنها ـ عن النبي ـ صلى الله عليه وسلم ـ : ( اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد حبا، وصححها، وبارك في صاعها ومدها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة ) رواه البخاري”

اس روایت سے معلوم ہوا کہ بخار والی وبا مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتی، کیونکہ نبی کی دعا رد نہیں ہوئی تھی، 

واللہ اعلم

No Comments

Leave a Reply