Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا ایک کی غلطی سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف ہے؟ طبقہ علماء اور مدارس کے ساتھ دوہرا رویہ

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

  • Home
  • تحریرات
  • تجزیات
  • کیا ایک کی غلطی سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف ہے؟ طبقہ علماء اور مدارس کے ساتھ دوہرا رویہ

کیا ایک کی غلطی سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف ہے؟ طبقہ علماء اور مدارس کے ساتھ دوہرا رویہ

کیا ایک کی غلطی سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف ہے؟
طبقہ علماء اور مدارس کے ساتھ دوہرا رویہ

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

دنیا میں ہر نظام، ہر پیشہ، اور ہر طبقہ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔
کسی بھی سسٹم کے ادارہ یا کسی طبقہ کے کسی شخص کا اگر کردار خراب ہو یا کوئی غلطی ہوجائے تو عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ اس سسٹم کو یا اس سسٹم سے منسلک اداروں کو یا اس طبقہ کو یا اس سے منسلک تمام اشخاص کو برا کوئی نہیں کہتا مثلا کسی ڈاکٹر نے جان بوجھ کر پیسہ بنانے کیلئے غلط دوائی دی تاکہ اسکو ری ایکشن ہو اور مرض طول پکڑ جائے تاکہ زیادہ دن تک علاج چلے، یا کسی سرکاری افسر نے رشوت لی وغیرہ وغیرہ تو کوئی بھی شخص پورے ڈاکٹری طبقہ کو یا پورے سرکاری سسٹم کو برا نہیں کہتا بلکہ لوگ اپنے بچوں کر پھر بھی ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں اور سرکاری نوکریاں دلانے کیلئے جوتیاں گھستے ہیں، یعنی انکے ذہن میں یہ برائی صرف ایک مخصوص فرد یا مخصوص ادارے تک منحصر رہتی ہے،
لیکن اگر بات آجائے مذہبی طبقہ کی یا مدارس کے سسٹم کی تو اگر کسی ایک ادارہ کا رویہ خراب ہو یا کسی ایک شخص کا کردار خراب ہو تو لوگ پورے مذہبی طبقے کو نشانہ بناتے ہیں اسی طرح مدارس کے پورے سسٹم کو نشانہ بناتے ہیں وہاں انکا ذہن ایک ادارے یا ایک شخص تک انحصار کو بھول جاتا ہے، مثلا کسی ادارے میں اساتذہ کا استحصال ہو طلبا کے ساتھ ظلم ہو یا زکوة کا صحیح مصرف نہ ہو یا کسی ایک مولوی نے چندے کا غلط استعمال کرلیا یا کسی اور گناہ میں ملوث ہوگیا تو اب لوگ صرف اسکو برا نہیں کہتے بلکہ ساری مولوی برادری کو اور پورے مدارس کے سسٹم کو تختۂ مشق بنا لیا جاتا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟
یہ تو سیدھا اسلام اور اسلام پسندوں سے بدظنی اور اسلام بیزاری کو بیان کرنیوالا عمل ہے اس سے بچنا چاہئے، آدمی اسلام کو برا کہنا چاہتا ہے لیکن وہ براہ راست برا نہیں کہہ سکتا تو جو اسلام کے حقیقی محافظ ہیں انکو برا کہنا شروع کردیتا ہے اور یہ اسکے ایمان کو سلب کرنیوالی چیز ہے
یہ درست ہے کہ بہت سے مولوی یا اداروں سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن آپ ذرا کسی دن کسی تھانے میں جائیں اور ایک لسٹ بنائیں مثلا آپ چور اچکوں کی لسٹ بنائیں اور اسمیں لکھیں کتنے مولوی ہیں کتنے غیر مولوی ہیں
آپ زانی شرابی رشوت خور قاتلیں غرض ہر ایک قسم کے مجرمین کی لسٹ بنائیں اور نوٹ کرتے جائیں کتنے مولوی ہیں کتنے غیرمولوی ہیں، ان میں کتنے مدارس کرپٹ ہیں کتنے دیگر ادارے؟
پھر انصاف سے بتائیں آپکا یہ دوہرا طرز عمل کیا انصاف پر مبنی ہے؟
یہ رویہ نہ عقلی لحاظ سے درست ہے، نہ اخلاقی لحاظ سے، اور نہ ہی اسلامی اصولوں کے مطابق۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی شعبے میں غلطیاں ہوسکتی ہیں، لیکن انفرادی غلطی کو اجتماعی الزام میں بدل دینا سراسر زیادتی ہے۔ کسی بھی معاملے میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کی خطا کو اس کی ذات تک محدود رکھا جائے، جیسا کہ قرآن و حدیث ہمیں سکھاتے ہیں۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں انفرادی گناہ کی ذمہ داری

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ”
(ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔) (الأنعام: 164)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر ایک مولوی، ایک مدرسہ یا کوئی اور دینی شخص غلطی کرے، تو اس کا گناہ صرف اسی پر ہے، نہ کہ پورے دینی طبقے پر۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی اصول کو بیان فرمایا:

“مَن أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ”
(ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں تھی، تو وہ مردود ہے۔) (مسلم، حدیث: 1718)

یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ جو شخص غلط کرے، وہی اس کا ذمہ دار ہے، دین یا اس سے جڑے تمام افراد نہیں۔

ایک کی غلطی کو پوری جماعت پر تھوپنے کی ناانصافی

تاریخ میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں، جہاں کسی فرد کی غلطی کے باوجود پوری جماعت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ مثال کے طور پر، جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر غلطی سے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری فوج کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ فرمایا:

“اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ”
(ترجمہ: اے اللہ! میں اس فعل سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔) (بخاری، حدیث: 4339)

یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی کو فرد تک محدود رکھا، نہ کہ پوری اسلامی فوج یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر الزام لگایا۔

علماء کے خلاف بدظنی کا نقصان

علماء دین کے وارث ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا:

“الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ”
(ترجمہ: علماء انبیاء کے وارث ہیں۔) (ابو داؤد، حدیث: 3641)

جب کوئی شخص علماء کے بارے میں بدظنی رکھتا ہے، ان سے نفرت کرتا ہے، یا ان پر بلاوجہ الزامات لگاتا ہے، تو درحقیقت وہ دین کے خلاف محاذ کھول رہا ہوتا ہے۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“اگر علماء کرام کی عزت عوام کے دلوں سے نکال دی جائے تو ان کے دین میں خرابی پیدا ہوجائے گی۔”

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
“علماء کی بے ادبی کرنے والے کا انجام دنیا و آخرت میں برا ہوتا ہے۔”

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
“جو علماء کو برا کہتا ہے، وہ حقیقت میں دین کو نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ دین انہی کے ذریعے محفوظ ہے۔”

اگر علماء اور مدارس کو ہی نشانہ بنایا جائے تو؟

اگر علماء اور مدارس کو بدنام کرنے کا یہ رویہ برقرار رہا، تو اس کا نقصان پوری امت مسلمہ کو ہوگا۔ کیونکہ دین کی حفاظت انہی مدارس اور علماء کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اگر انہیں ہی ختم کرنے کی کوشش کی جائے، تو دینی تعلیم، فتویٰ نویسی، حدیث کی روایت، اور شرعی رہنمائی کہاں سے ملے گی؟

یہ ضروری ہے کہ لوگ یہ دوہرا معیار ختم کریں۔ اگر کسی مدرسے یا عالم سے کوئی غلطی ہوجائے، تو اس پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر اس کی بنیاد پر پورے دینی طبقے کو برا کہنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ خود اپنے ایمان کے لیے بھی خطرناک ہے۔

خلاصۂ بحث

یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم انصاف کو اپنا اصول بنائیں اور دینی طبقے کے ساتھ وہی رویہ رکھیں جو ہم دوسرے پیشوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر، انجینئر، یا سیاستدان کی غلطی پوری برادری پر لاگو نہیں ہوتی، تو پھر ایک عالم یا مدرسے کے فرد کی غلطی پر پورے دینی طبقے کو کیوں برا کہا جائے؟

ہر ایک اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:

“وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ” (الأنعام: 164)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم علماء کی عزت کریں، انصاف کے تقاضے پورے کریں، اور دین کے خادموں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرنے والوں کے دھوکے میں نہ آئیں۔ کیونکہ علماء کا وجود دین کے استحکام کے لیے ضروری ہے، اور اگر یہی لوگ بدنام ہوں گے تو دین کی روشنی بھی مدھم پڑ جائے گی۔

اللہ ہمیں عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

No Comments

Leave a Reply