کام اور سامان کی عمدگی اور زبان کی سچائی پر دھیان دیں نہ کہ کام کی زیادتی پر
بقلم محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
اگر آپ کوئی سروس مہیا کرتے ہیں یا تجارت کرتے ہیں تو دو باتوں پر خاص توجہ دیں
(۱) سروس اور سامان کی عمدگی پر : مثلا آپ مکینک ہیں یا کپڑے دھونے کا کام ہے، یا موبائل ریپئر کرتے ہیں، یا گاڑیاں دھوتے ہیں یا اے سی ، واشنگ مشین، کولر مکینک ہیں، یا پانی کے موٹر درست کرتے ہیں یا، گھروں میں رنگ وروغن کا کام کرتے ہیں ، یا بڑھئی ہیں،
غرض کسی بھی طرح کی خدمات آپ مہیا کرتے ہیں،
اسی طرح آپ کوئی کاروبار کرتے ہوں، مثلا کپڑا بیچتے ہیں،
جوتے کی دوکان ہے
جیکٹ بیچتے ہیں
الیکٹرانک سامان بیچتے ہیں
کھانے پینے کی اشیاء بیچتے ہیں
غرض کچھ بھی فروخت کرتے ہیں
تو آج اس بات کو گرہ سے باندھ لیجئے کہ اپنی سروس اور اپنے کاروبار میں عمدگی اور بیسٹ کوالیٹی مہیا ( پرووائڈ ) کریں ، نہ کہ صرف اپنے کام کی زیادتی پر توجہ دیں، کہ بس زیادہ سے زیادہ مجھ کو کام ملجائے،
سستے کے چکر میں زیادہ مال بک جائے
اسلئے کہ اگر آپ کسٹمر کو اچھی سروس اور اچھا سامان دینگے تو وہ بار بار آپکے پاس آئیگا اور دس بندوں کو مزید کھینچ کا لائیگا،
اور اگر آپ نے عمدگی پر دھیان نہ دیا بلکہ بس کمائی کے چکر میں لگے رہے اور یہ دماغ میں ہے کہ مجھے ایک کے بجائے دو لوگوں کا کام ملے،
میرے پاس زیادہ گاہک آئیں
میرے پاس زیادہ کام آئے اور اس چکر میں کسٹمر کو لی دی سی سروس دی ، یا اچھا بتا کر خراب سامان دے دیا تو اس سے چندنقصان ہونگے
(۱) آپکا نام خراب ہوگا
(۲) آپکی پہچان ڈنڈی مار کے طور پر بنے گی
(۳) آپ سے لوگوں کا بھروسہ اور اعتماد اٹھ جائیگا
(۴) آپکا دھندہ چوپٹ ہوجائیگا
(۵) دوبارہ آپ پر اعتماد نہ ہوگا پھر چاہے آپ جتنا مرضی کوشش کرلیں
اسلئے اپنے کاروبار میں اور سروس مہیا کرنے میں عمدگی پر توجہ دیں پھر اپنا سروس چارج یا سامان کی قیمت اپنی کوالیٹی کے اعتبار سے رکھیں،
ہوسکتا ہے لوگوں کو شروع میں مہنگا لگے لیکن سروس اور سامان کی کوالیٹی دیکھ کر کسٹمر مطمئن ہوگا اور بار بار آپکے پاس آئیگا
اسکی مثال “آئی فون “ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ، کمپنی مالک غیر مسلم ہوکر بھی بیسٹ کوالیٹی پر دھیان دیتے ہیں اور لوگ دو دولاکھ کے آئی فون خوشی سے خریدتے ہیں،
(۲) دوسری بات جسپر توجہ کی ضرورت ہے وہ ہے سچ بولنا ۔
آپ اپنی سروس دیتے ہوئے اور سامان فروخت کرنے میں سچائی سے کام لیں، جس کام کی جس طرح کی کوالیٹی کا جتنا چارج ہو یا جس قسم کے سامان کی جتنی قیمت ہو وہی بتائیں،
نیز جو سامان لوکل ہو اسکو لوکل ہی بتائیں
سامان میں کوئی عیب ہو اسکو واضح کردیں
ایسا نہ ہو کہ کم کوالیٹی والی سروس کا زیادہ چارج بتائیں
یا اچھی سروس کے پیسے لیکر اسکے معیار کے مطابق سروس نہیں دی،
یا لوکل سامان کو اصلی بتاکر کسٹمر کو دھوکہ دیدیا
یا مقدار میں کمی کردی
یا عیب چھپاکر بیچ دیا
یا پرانے سامان کو نیا بتاکر بیچدیا
وغیرہ وغیرہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ “من غشنا فلیس منا”
جو ہم کو یعنی مسلمانوں کو خاصة اور تمام انسانوں کو عامة دھوکہ دے تو وہ پکا مومن نہیں ہے،
اگر آپ یہ دو باتیں اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں تو پھر آپ پر لوگوں کا بھروسہ قائم ہوگا اور مارکیٹ آپکو آپکی قیمت پر خرید لیگی
No Comments