ویلنٹائن ڈے: ایک تباہ کن فتنہ
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
یہ دن ہر سال ۱۴ فرووری کو منایا جاتا ہے، لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اظہار محبت کرتے ہیں ،
آج کی دنیا میں مغربی تہذیب نے مسلمانوں کے گھروں تک اپنے باطل رسم و رواج پہنچا دیے ہیں۔ انہی میں سے ایک “ویلنٹائن ڈے” ہے، جسے محبت کا دن کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بے حیائی، فحاشی، اور اخلاقی بگاڑ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نادان ماں باپ بھی اپنی اولاد کو اس فتنے میں پڑتے دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ دن کیوں برا ہے اور ہمیں اس سے کیوں بچنا چاہیے۔
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور تاریخی پس منظر
ویلنٹائن ڈے: حقیقت یا فسانہ؟
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں، جن میں کچھ تاریخی حقائق بھی شامل ہیں اور کچھ روایات وقت کے ساتھ گھڑ لی گئی ہیں۔ یہ دن دراصل ایک عیسائی پادری “ویلنٹائن” سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کی زندگی اور موت کے بارے میں مختلف قصے بیان کیے جاتے ہیں۔ آئیے قدیم رومن دور سے لے کر وکٹورین دور تک ان کہانیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
1. شادیوں پر پابندی اور ویلنٹائن کی نافرمانی
تیسری صدی عیسوی میں روم کا بادشاہ کلاودیوس دوم اپنی فوج کو مضبوط بنانا چاہتا تھا، لیکن اسے ایک مسئلہ درپیش تھا: شادی شدہ مرد جنگ میں جانے کے بجائے اپنے خاندان کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ بادشاہ نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ شادیوں پر پابندی لگا دی، تاکہ نوجوان مرد فوج میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائیں۔
لیکن ایک مسیحی پادری ویلنٹائن نے اس شاہی فرمان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ خفیہ طور پر شادیوں کا بندوبست کرتا اور جوڑوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیتا۔ جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کر لیا اور 14 فروری کو اسے سزائے موت دے دی۔ بعد میں، عیسائیوں نے اسے “محبت کا ہیرو” بنا دیا اور اس کے نام پر ایک دن مخصوص کر دیا۔
2. قیدیوں کی مدد اور ویلنٹائن کی سزا
ایک اور کہانی کے مطابق، ویلنٹائن صرف شادیوں کے معاملے میں مداخلت نہیں کر رہا تھا، بلکہ وہ رومی جیلوں میں قید مسیحیوں کو فرار کروانے کی بھی کوشش کر رہا تھا۔ ان قیدیوں پر تشدد کیا جاتا اور انہیں اذیتیں دی جاتیں، کیونکہ اس دور میں مسیحیت کو ایک ناپسندیدہ مذہب سمجھا جاتا تھا۔
جب رومی حکام کو معلوم ہوا کہ ویلنٹائن قیدیوں کو آزاد کروا رہا ہے، تو اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں سزائے موت دے دی گئی۔ عیسائی برادری نے اسے اپنا شہید مان لیا اور اس کے نام پر محبت کا دن مخصوص کر دیا۔
3. جیلر کی بیٹی اور “تمہارا ویلنٹائن”
تیسری کہانی ویلنٹائن کے ایک محبت بھرے خط سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے جیل میں ڈالا گیا تو وہاں کے جیلر کی ایک کم عمر بیٹی اس سے ملنے آیا کرتی تھی۔ وہ نابینا تھی اور ویلنٹائن نے مبینہ طور پر دعا کرکے اس کی بینائی بحال کر دی تھی، جس کی وجہ سے وہ اس سے متاثر ہو گئی۔
پھانسی سے قبل ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا، جس کے آخر میں اس نے “تمہارا ویلنٹائن” (Your Valentine) کے الفاظ لکھے۔ یہی جملہ بعد میں محبت کرنے والوں کے درمیان رواج پا گیا، اور لوگ 14 فروری کو کارڈز اور خطوط کے ذریعے محبت کا اظہار کرنے لگے۔
ان تمام کہانیوں کے باوجود ویلنٹائن ڈے کی اصل حقیقت اب بھی پراسرار ہے۔
یہ دن وقت کے ساتھ ایک عالمی کاروباری موقع بن گیا، جہاں تحائف، کارڈز، پھول، اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت بڑھا دی گئی۔ آج ویلینٹائن ڈے ایک تجارتی تہوار بن چکا ہے، جس کا اصل مقصد محبت سے زیادہ منافع کمانا ہے۔
ایک مسلمان کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا ہمیں کسی عیسائی راہب کے غلط عقائد اور افعال کو اپنانا چاہیے؟
عقلی دلائل: ویلینٹائن ڈے کے نقصانات
1. یہ نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے
ویلینٹائن ڈے کے بہانے لڑکے اور لڑکیاں ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں، جو بالآخر بدکاری، بے حیائی اور حرام کاری تک جا پہنچتے ہیں۔ کتنے ہی ماں باپ اپنی عزت گنوا بیٹھتے ہیں، کتنی ہی لڑکیاں دھوکہ کھا کر زندگی برباد کر بیٹھتی ہیں!
2. خاندانی نظام کی تباہی
شادی شدہ لوگ بھی اس دن کو منانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے ناجائز تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ بیویاں اپنے شوہروں سے شکوہ کرتی ہیں، شوہر باہر محبت ڈھونڈتے ہیں، اور اس طرح خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے۔
3. فضول خرچی اور دکھاوا
پھول، تحفے، کارڈز، ہوٹلوں میں ڈنر—یہ سب شیطانی چالیں ہیں جو لوگوں کی جیب سے پیسہ نکالنے کے لیے رچی گئی ہیں۔ نوجوان اپنا قیمتی پیسہ محبت کے دھوکے میں ضائع کرتے ہیں، جبکہ ان کے ماں باپ دو وقت کی روٹی کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں۔
4. تعلیمی نقصان
جو طلبہ و طالبات علم حاصل کرنے آئے تھے، وہ ویلینٹائن ڈے کے چکر میں اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو کر اپنا مستقبل تباہ کر بیٹھتے ہیں۔ کتنے ہی اسکینڈلز، بلیک میلنگ اور خودکشی کے واقعات اسی فحاشی کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔
نقلی دلائل: ویلینٹائن ڈے کی شرعی حیثیت
1. یہ غیر مسلموں کی نقالی ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔” (ابو داؤد: 4031)
کیا ہم ایک عیسائی بدعت کو اپنا کر قیامت کے دن انہی کے ساتھ اٹھنا چاہتے ہیں؟
2. بے حیائی کے قریب بھی نہ جاؤ
قرآن میں ہے:
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔” (سورۃ الإسراء: 32)
ویلینٹائن ڈے نوجوانوں کو اسی راستے پر لے جاتا ہے۔
3. اصل محبت تو اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔” (بخاری: 15)
ہمیں اپنی محبت کو اس فضول دن کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں لگانا چاہیے۔
ماں باپ کے لیے پیغام: آنکھیں کھولیں!
اے ماں باپ! اگر آپ نے اپنی اولاد کو اس فتنے سے نہ بچایا، تو کل یہی اولاد آپ کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب کا سبب بنے گی۔ اپنی بیٹیوں کو فحاشی سے بچائیں، اپنے بیٹوں کو بے حیائی کے دلدل میں گرنے سے روکیں۔ گھر میں دینی ماحول پیدا کریں، اور انہیں اصل محبت یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سکھائیں۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
• ویلینٹائن ڈے کی حقیقت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
• اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور انہیں اسلامی تعلیمات دیں۔
• اسلامی تہذیب کو اپنائیں اور غیر مسلموں کی نقالی سے بچیں۔
• محبت کا مطلب صرف ناجائز تعلقات نہیں، بلکہ اصل محبت والدین، بہن بھائی، بیوی اور اہل و عیال سے حلال اور پاکیزہ طریقے سے کرنا ہے۔
یہ جاننے کے بعد کہ ویلنٹائن ڈے کی بنیادیں کتنی کمزور، غیر یقینی اور غیر اسلامی ہیں، کیا ایک مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس مغربی روایت کو اپنائے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکیزہ اور حلال محبت کے اصول دیے ہیں، جو نکاح کے خوبصورت بندھن کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ کہ کسی عیسائی راہب کے خود ساختہ قصے کے ذریعے!
اللہ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے اور اپنی محبت عطا فرمائے۔ آمین!
No Comments