مولویت بیچنے کی چیز نہیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله اپنے کسی استاد یا شیخ کا واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی دوکان پر کوئی، چیز خریدنے گئے او رانہوں نے اس چیز کی قیمت پوچھی، دکان دار نے قیمت بتا دی ،جس وقت قیمت ادا کرنے لگے تو اس وقت ایک اور صاحب وہاں پہنچ گئے، جوان کے جاننے والے تھے ، وہ دکان دار ان کو نہیں جانتا تھا کہ یہ فلاں مولانا صاحب ہیں ، چناں چہ ان صاحب نے دکان دار سے کہا کہ یہ فلاں مولانا صاحب ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ رعایت کریں، حضرت مولانا نے فرمایا کہ :
” میں اپنے مولوی ہونے کی قیمت نہیں لینا چاہتا ،اس چیز کی جو اصل قیمت ہے وہی مجھ سے لے لو، اس لیے کہ پہلے جو قیمت تم نے بتائی تھی اس قیمت پر خوش دلی سے یہ چیز دینے کے لیے تیار تھے، اب اگر دوسرے آدمی کے کہنے سے تم نے رعایت کر دی اور دل اندر سے مطمئن نہیں ہے تو اس صورت میں وہ خوش دلی سے دینا نہیں ہو گا او رپھر میرے لیے اس چیز میں برکت نہیں ہوگی اور اس کا لینا بھی میرے لیے حلال نہیں ہو گا، لہٰذا جتنی قیمت تم نے لگائی ہے اتنی قیمت لے لو۔“
اس واقعہ سے اس طرح اشارہ فرما دیا کہ ” یہ مولویت بیچنے کی چیز نہیں“ کہ بازار میں اس کو بیچا جائے کہ لوگ اس کی وجہ سے اشیا کی قیمت کم کر دیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ الله کی وصیت
بلکہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ الله نے، جن کے ہم سب مقلد ہیں، اپنے شاگرد حضرت امام ابویوسف رحمہ الله کو یہ وصیت فرمائی کہ: جب تم کوئی چیز خریدو یا کرایہ پر لو تو جتنا کرایہ اور جتنی قیمت عام لوگ دیتے ہیں تم اس سے کچھ زیادہ دے دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کم دینے کی وجہ سے علم اور دین کی بے عزتی اور بے توقیری ہو۔
No Comments