ملک شام کس علاقے کو کہا جاتا ہے؟ اور اسکی فضیلت کیا ہے؟
مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی اعتبار سے “شام” (بلاد الشام) ایک وسیع خطے کو کہتے ہیں جو
تاریخی طور پر مشرق وسطیٰ کے شمال مغربی علاقے پر مشتمل ہے۔ اس کا جغرافیائی اطلاق موجودہ دور میں کئی ممالک اور علاقوں پر ہوتا ہے۔
بلاد الشام کا جغرافیائی دائرہ
قدیم بلاد الشام یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ملک شام بنیادی طور پر درج ذیل موجودہ ممالک اور خطوں پر مشتمل تھا:
1. شام (سوریہ):
موجودہ ملک شام (Syria) اس خطے کا مرکزی حصہ ہے اور اس خطے کو “شام” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
2. لبنان:
موجودہ لبنان بھی بلاد الشام کا حصہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ ایک اہم مرکز رہا ہے۔
3. فلسطین:
موجودہ فلسطین بھی بلاد الشام کا اہم حصہ ہے، جس میں بیت المقدس (یروشلم) اور دیگر مقدس مقامات شامل ہیں۔
4. اردن:
موجودہ اردن کا علاقہ بھی شام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی نصوص میں شام کا اطلاق
احادیث اور اسلامی تاریخ میں “شام” سے مراد یہی پورا خطہ ہے۔ مثال کے طور پر:
1. نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا”
(صحیح بخاری: 7094)
اس حدیث میں “شام” پورے بلاد الشام کے لیے استعمال ہوا ہے۔
2. حدیث میں “دمشق” اور “غوطہ” کا ذکر آتا ہے، جو موجودہ شام (Syria) میں واقع ہیں، لیکن مجموعی طور پر “شام” پورے خطے کو شامل کرتا ہے۔
3. قرآن مجید میں بھی اس علاقے کی فضیلت کا ذکر آیا ہے، جیسے:
“سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ”
(سورہ الاسراء: 1)
یہاں “بارَكْنَا حَوْلَهُ” سے مراد بیت المقدس اور اس کے ارد گرد کا پورا علاقہ یعنی شام ہے۔
بلاد الشام کی تاریخی حدود
اسلامی خلافت کے دور میں بلاد الشام کو انتظامی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا:
1. دمشق: مرکزی علاقہ اور دارالحکومت۔
2. حمص: موجودہ شام کے اندر کا علاقہ۔
3. اردن: موجودہ اردن اور اس کے ملحقہ علاقے۔
4. فلسطین: موجودہ فلسطین اور اس کے گرد و نواح۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اسلامی اعتبار سے شام کا اطلاق موجودہ شام، لبنان، اردن، اور فلسطین پر ہوتا ہے۔ یہ خطہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس کی تاریخی اور دینی اہمیت بھی مسلم ہے۔ اس زمین کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین اور اسلامی خلافت کا مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی پورے علاقے کو ذہن نشیں رکھ کر ملک شام کے فضائل سے متعلق احادیث مبارکہ مطالعہ فرمائیں
ملک شام کی فضیلت کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے متعدد احادیث مروی ہیں، جن میں اس سرزمین کی اہمیت اور اس میں اہل ایمان کی موجودگی کو بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں احادیث کا متن اور ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:
1. شام میں برکت کی دعا
حدیث:
عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:
قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا.
فَقَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا؟ فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا.
فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهُ قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ.
(صحیح بخاری: 7094)
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما۔”
صحابہ نے عرض کیا: “اور ہمارے نجد میں بھی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “اے اللہ! ہمارے شام اور یمن میں برکت عطا فرما۔”
صحابہ نے دوبارہ عرض کیا: “اور ہمارے نجد میں بھی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “وہاں زلزلے اور فتنہ ہوں گے، اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔”
2. شام میں رہنے والے حق پر قائم رہیں گے
حدیث:
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ:
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمِينَ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ.
(صحیح بخاری: 3641)
ترجمہ:
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
“میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، جو بھی انہیں چھوڑ دے یا ان کی مخالفت کرے، وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور وہ غالب رہیں گے۔”
وضاحت: علماء نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث میں “طائفہ” سے مراد اکثر اہل شام ہیں۔
3. شام، اللہ کے چنیدہ علاقوں میں سے ہے
حدیث:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ.
(سنن ابی داؤد: 4298)
ترجمہ:
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے قریب غزوۂ عظیم کے دن مسلمانوں کا خیمہ غوطہ میں ہوگا، جو ایک شہر کے قریب ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، اور یہ شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔”
4. شام کے لیے اللہ کی خاص مدد
حدیث:
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
طُوبَى لِلشَّامِ.
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ؟ قَالَ:
إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِ.
(سنن ترمذی: 3954)
ترجمہ:
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“شام کے لیے خوش خبری ہے۔”
صحابہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیوں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “رحمان کے فرشتے اپنے پر شام پر پھیلائے ہوئے ہیں۔”
5. فتنوں کے وقت شام کی طرف ہجرت
حدیث:
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّ عَمُودَ الْكِتَابِ انْتُزِعَ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَنَظَرْتُ إِذَا هُوَ نُورٌ سَاطِعٌ عُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ.
(المستدرک علی الصحیحین: 8573)
ترجمہ:
سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں نے دیکھا کہ کتاب (قرآن) کا ستون میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا اور میں نے دیکھا کہ یہ ایک روشن نور ہے، جو شام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ یاد رکھو! جب فتنے پھیلیں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔”
6. شام میں قیام کے لیے وصیت
حدیث:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
سَتَجِنُّدُونَ أَجْنَادًا: جُنْدًا بِالشَّامِ، وَجُنْدًا بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدًا بِالْيَمَنِ.
فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!
فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالشَّامِ؛ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ.
(سنن ابی داؤد: 2483)
ترجمہ:
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“عنقریب تم تین لشکروں میں تقسیم ہوجاؤ گے: ایک شام میں، ایک عراق میں، اور ایک یمن میں۔”
عبداللہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! میرے لیے (انتخاب) فرما دیجیے۔”
آپ ﷺ نے فرمایا: “شام کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ اللہ کی چنیدہ سرزمین ہے اور وہ اپنے خاص بندوں کو وہاں جمع کرے گا۔”
یہ احادیث شام کی عظمت اور برکت کو واضح کرتی ہیں، ان احادیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ارض مقدس اسلام میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
No Comments