مسلم تاجروں کو متنبہ ہوجانا چاہئے
جو شخص مسلمانوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر گراں قیمت پر اشیاء بیچے گا اللہ اسکو تنگدست اور کوڑھی بنادیگا
بقلم مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
جہاں رمضان کی آمد ہوتی ہے وہیں ہر شے کی قیمت آسمان چھونے لگتی ہے، اکثر مسلم تاجر بھی ہر چیز کی قیمت بڑھا دیتے ہیں اور اس ماہ کو تجارت کا سیزن بولتے ہیں، پھلوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کھجور گراں قیمت ہوجاتی ہے، کھانے پینے کی تمام اشیاء عام دنوں کی نسبت زیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہیں، اور اس جرم میں ریڑھی والوں سے لیکر شوروم والوں تک سبھی شامل ہیں الاماشاءاللہ جسکے دل میں اللہ نے اپنا خوف ڈال رکھا ہے،
جبکہ اللہ تعالی اس ماہ میں اپنی طرف سے رحمتوں کی برسات فرماتے ہیں، عام دنوں کی نسبت زیادہ فضل وکرم کا معاملہ ہوتا ہے، ایک نفل کا ثواب فرض کی برابر اور فرض کا ثواب ستر فرضوں کی برابر دیا جاتا ہے،
گنہگاروں کی مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں، لیکن ایک مسلمان تاجر اس ماہ میں عام دنوں کے مقابلے ستر فیصد زائد منافع لیتا ہے، اسکی چاندی ہوتی ہے اس ماہ میں، اسکو معلوم ہے کہ مسلمان افطاری سحری میں بادل ناخواستہ قسم قسم کے پھل اور کھانے کی اشیاء ضرور خریدے گا، لہذا وہ روزے داروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور جب عید قریب آتی ہے تو یہ مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایاجاتا ہے،
بہت سے لوگ رمضان سے قبل لوگوں کی ضرورت کی اشیاء خرید کر ذخیرہ کرلیتے ہیں اس نیت سے کہ رمضان اور عید کے موقع پر اچھے داموں میں مال بکے گا، چنانچہ پھر رمضان اور عید کے موقع پر مہنگا کرکے بیچتے ہیں
ان حالات میں اللہ تعالیٰ سے کس طرح رحم طلب کیا جائے؟ضروری اشیا کی قیمتیں معمول سے زیادہ وصول کرنا یا ذخیرہ اندوزی کرکے عام منافع سے زیادہ کمانا کُھلا ظلم ہےاورجب کوئی قوم ظلم کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُس پر عذاب مسلّط کر دیتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ۔ کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اُس وقت ہلاک کر دیا، جب وہ ظلم کر رہی تھیں۔[الحج]اس لیے ہمیں ایسا کرنے سے توبہ کرنی چاہیے ۔
وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ اور جو کوئی شخص اس میں ظلم کر کے ٹیڑھی راہ نکالے گا، ہم اُسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ [الحج]
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے تنگ دستی اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے۔
فروخ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں مسجد جانے کے لیے گھر سے نکلےتو راستے میں اُنھیں جگہ جگہ غلّہ نظر آیا۔ انھوں نے پوچھا: یہ غلّہ کیسا ہے ؟ لوگوں نے بتایا: یہ درآمد کیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ اِس میں برکت دے اور اُس شخص کو بھی جس نے اِسے درآمد کیا ہے! لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین ! یہ تو ذخیرہ اندوزی کا مال ہے! آپ نے پوچھا: کس نے ذخیرہ کر کے رکھا تھا ؟ لوگوں نے بتایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور آپ کے فلاں غلام نے۔ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو بُلوا بھیجا اور فرمایا: تم نے مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کیوں کی ؟ اُنھوں نے عرض کیا:امیر المومنین ! ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اس لیے ہمیں اختیار ہونا چاہیے)۔ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے تنگ دستی اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا کردیتا ہے۔ فروخ نے تو یہ سن کر اُسی وقت کہا: امیرالمومنین ! میں اللہ سے اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ ایسا نہیں کروں گا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غلام اپنی اُسی بات پر اَڑا رہا کہ ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اِس لیے ہمیں اختیار ہونا چاہیے)۔ ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ بعد میں جب میں نے اُسے دیکھا تو وہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوچکا تھا۔[مسند احمد]
اے ایمان والو ذرا تو شرم کرو کم ازکم غیر مسلموں سے سبق حاصل کیجئے وہ لوگ اپنے تہوار کے موقع پر اشیاء کی قیمتوں پر بھاری چھوٹ رکھتے ہیں چنانچہ آپ سنتے ہونگے “دیوالی سیل ہیوی ڈسکاؤنٹ” “ہولی سیل” “دسہرا سیل” وغیرہ وغیرہ
لیکن آج کا مسلمان ہر میدان میں گرچکاہے، نہ اسے عبادت کا خیال ہے نہ روزے دار کی مشقت کا اسے بس اپنی جیب کا خیال ہے، کس طریقے سے ایک ہی ماہ میں پورے سال کی کمی کو پورا کرلیا جائے، کس طرح پورے سال ہونے والے نقصان کی بھرپائی اس ایک ماہ میں کرلیجائے،
اکثر لوگوں کا مسلم تاجروں، ملازمین مزدور، ٹھیکیدار مساجد کے ذمہ داران وغیرہم کے متعلق بڑا ہی تلخ تجربہ ہے،
اگر آپکی شناسائی نہیں ہے تو مجال ہے کہ وہ مسلم تاجر یا کوئی بھی صاحب معاملہ آپ سے سلیقے سے معاملہ طے کرلے، ایسا لگتا ہے کہ یہ امت غیر منظم ہے اسکو پتہ نہیں تعلیم تہذیب اخلاق وکردار کا، اسکا نبی تو ایسا نہ تھا تو پھر ایسا کیوں ہوا؟
“وجہ اسکی علم دین اور اہل علم دین سے دوری اور انکو ہلکا سمجھنا ہے”
یہ حالات یہ آزمائشیں بلاوجہ نہیں ہیں
“مااصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر” جو پریشانی آتی ہے سب تمہارے اعمال کی پاداش میں ہے اور بہت ساری خطائیں تو اللہ معاف کردیتا ہے، آج مسلمان کے نہ اعمال صحیح نہ اخلاق نہ کردار پیدائش سے لیکر مرنے تک سب کچھ شریعت کے خلاف ہے صرف نماز تو لے دے کر کچھ اسلامی طریقے پر پڑھ لیتا ہے حالانکہ روح اسکی بھی ختم ہے اور باقی اعمال یا تو بالکل ختم ہیں یا انکی صورت بگاڑ دی گئی ہے، بڑے ڈرنے کا مقام ہے، جیسے اعمال ہیں ایسے اعمال پر تو ز مین کو الٹ جانا چاہئے تھا آسمان سے پتھروں کی بارش ہونی چاہئے تھی یہ اللہ کا کرم ہے کہ ابھی بھی اس نے سانسیں چلارکھی ہیں اور برابر رزق اتار رہا ہے،
رمضان میں اپنے لئے مغفرت کا سامان کیجئے نہ کہ جہنم کے عذاب کا
No Comments