Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

مسلمان کیلئے مال جمع کرنا جائز نہیں

ایک شخص کیطرف سے ایک شبہ اور اسکا ازالہ

بقلم: مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی الہندی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

(مسلمان پر کبھی زکوة اور حج فرض ہوہی نہیں سکتے، کیونکہ مال کنجوس جوڑتا ہے نیز مال تو دنیوی شے ہے اور دنیا کمانے کی مسلمان کو ممانعت ہے مسلمان کو چاہئے کہ اپنا مال غرباء پر تقسیم کردے، نیز مسلمان کیلئے بزنس کرنا بھی درست نہین کیونکہ یہ بھی دنیا کمانا ہے اور مسلمان کو دنیا کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے)
الجواب:
ایسا نہیں ہے اللہ تعالی نےجب زکوة کا حکم دیا ہے تو اس سے دلالتا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مال جوڑنا جائز ہے کیونکہ اگر مال جوڑنا جائز نہ ہوتا تو زکوة کے وجوب کا حکم کیا معنی رکھتا ہے؟ نیز زکوة دینے پر ثواب کیوں ملتا بلکہ اللہ تعالی یہ حکم دیتے کہ اپنے پاس مال کو رکھنا ہی مت جب مال رکھنا ناجائز ہوا تو گویا اللہ نے مال کو بیکار پیدا کیا جسکا کوئی فائدہ نہیں اسطرح سے اللہ کے کام کو لغو قرار دینا لازم آتا ہے حالانکہ اللہ کا کوئی کام لغو نہیں ہے
نیز اللہ فرماتا ہے وفی اموالہم حق للسائل والمحروم ، انفقوا ممارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت الخ وممارزقنہم ینفقون، اسمیں حرف من تبعیض کو چاہتا ہے جس سے لازمی طور پر بعض مال کا خرچ کرنا اور بعض کو اپنے پاس رکھنا سمجھ میں آتا ہے، اسی طرح صحابہ کرام کے واقعات ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے ایک کنواں خریدکر مسلمانوں کیلئے وقف کیا تو بنا مال جمع کئے تو ایسا ممکن نہیں ہے،
اور اسطرح کی بہت سی آیات واحادیث مال کے جمع کرنے کی حلت پر دال ہیں لیکن اسکے ساتھ شرط یہ ہیکہ مال کا حق یعنی صدقہ زکوة ادا کرتا رہے،

(مسلمان پر حج فرض نہیں ہوتا)

جب اللہ تعالی خود کہہ رہے ہے کہ جو بیت اللہ تک جانے کی طاقت رکھے اسپر حج فرض ہے تو آپ کیسے اسمیں رکاوٹ کی بات کر سکتے ہیں اس سے لازمی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مال جمع کیا جائے پھر حج پر جایا جائے نیز رزق حلال کی تلاش فرض ہے جو بغیر خریدفروخت اور بزنس کے ممکن نہیں صحابہ خود تاجر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت کے سفر کو ہر شخص جانتا ہے حضرت عثمان کے تجارتی قافلے دوسرے ممالک میں آتے جاتے رہتے تھے آپکی بات بلادلیل ہے نیز اللہ تعالی خود بزنس کی اجارت دے رہے ہیں یاایہا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا تکون تجارة عن تراض منکم الخ
ایک جگہ فرمایا احل اللہ البیع وحرم الربوا، ایک جگہ فرمایا فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ اس ابتغاء سے مراد مفسرین نے تجارت کو لیا ہے،
نیز ایک ادنی سے ادنی آدمی بھی جانتا ہے کہ دنیا دارالاسباب ہے زندگی گزارنے کیلئے مال کی ضرورت ہے ، البتہ یاد رہے دنیا کمانا جائز ہے لیکن دنیا میں خود کو کھپانا جائز نہیں کہ مال کے حقوق بھی ادا نہ کرے،
پھر ہم یہ پوچھتے ہیں کہ جناب کتنا مال جوڑنا جائز نہیں اسکی کوئی حد ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ جوڑنا جائز نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ضرورت کا معیار کیا ہے؟ ہر شخص کی ضرورتیں مختلف ہیں کسی کو کار کی ضرورت ہے کسی کو ہر ماہ بیرون ملک جانا پڑتا ہے تو اسکے لئے مال چاہئے کوئی جھونپڑی میں رہ سکتا ہے کسی کو پختہ مکان چاہئے اسکے لئے پھر مال چاہئے کسی کو موبائل چاہئے اسکے لئے پھر مال چاہئے تو معیار کیا ہے مال جوڑنے نہ جوڑنے کا؟ اگر آپ کہیں کہ زندہ رہنے کے بقدر مال کافی ہے ، ہم کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے بقدر مال کمانا بھی تو مال کمانا ہی ہے مال چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ مال تو مال ہی ہے تو اس مال کو وجہ ترجیح کیا ہوئی کہ اسکا کمانا جائز اسکا کمانا ناجائز؟ بات وہیں آگئی جہاں سے شروع ہوئی تھی کہ ہر آدمی کو مال کی ضرورت ہے ہر شخص کی حاجتیں مختلف ہیں اللہ نے مالداری کا ایک معیار مقرر کردیا اتنی مقدار تک زکوة واجب نہیں ہوتی وہ غریب شمار ہوگا اسکے بعد اسکو مال کا حق ادا کرنا پڑیگا اب چاہے جتنا مال جمع کرلے اسکا حق ادا کرتا رہے اب کسی کا کوئی نقصان نہیں

نیز مال سے بہت سے نیکی کے کام ہوتے ہیں جو بنا مال کے نہیں ہوسکتے اور جنکی ترغیب بھی آئی ہے مثلا صدقہ زکوت حج غرباء بیوہ یتیم مسکین کی امداد اور ظاہر ہے ان سب کے کیئے مال چاہئے
واللہ اعلم

No Comments

Leave a Reply