Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

مسجد میں نکاح کرنا کیا مطلقا مستحب ہے؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

مسجد میں نکاح کرنا کیسا ہے؟
عام طور سے عوام وعلماء کی زبان پر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ مسجد میں نکاح کرنا چاہئے یہ سنت ہے،
یہ بات درست ہے کہ مسجدوں کا ایک اہم مقام ہے اسلام میں،
ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا
مسجد میں نکاح کے سلسلے میں کوئی روایت یا نبی کا عمل ہے؟
کیا مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے
احناف کے علاوہ دیگر ائمہ کا مذہب کیا ہے؟
اگر مسجد میں نکاح کے تعلق سے کوئی روایت ہے تو اس روایت کا مقصد کیا ہے اور مسجد میں نکاح کی علت کیا ہے؟
ہر ایک پر بالترتیب کلام کرتے ہیں


مسجد میں نکاح سے متعلق روایت


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ في المساجد الخ․ (رواہ ترمذي: ۱/۲۰۷) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نکاح کا اعلان کرو، اور نکاح مسجد میں کیا کرو۔
اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو مسجد میں کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ نکاح کو کھلم کھلا علی الاعلان کرو چھپا کر نہ کرو،


اب یہاں دوسری بحث شروع ہوتی ہے کہ کیا نکاح کا مسجد میں ہونا سنت ہے یا مستحب یا جائز ہے فقط؟ ائمۂ اربعہ کا کیا مذہب ہے؟


اہلِ علم کی ایک جماعت (حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ اور بعض حنابلہ ) مساجد میں عقدِ نکاح کو مستحب قرار دیتی ہے لیکن عقد سے ان کی مراد یہ ہے کہ ایجاب عورت کے سرپرست کی طرف سے ہو اور قبول خاوند کی طرف سے ہو اور ان سب کا استدلال امام ترمذیؒ کی روایت کردہ حضرت عائشہؓ کی حدیث سے ہے وہ فرماتی ہیں کہ آپﷺکا ارشاد ہے :’’اس نکاح کا سب کے سامنے اعلان کرو اور(یہ رسم) مسجد میں اد کروا امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو ضعیف قراردیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس باب میں یہ حدیث غریب اور حسن ہے اور اس حدیث کا راوی عیسی بن میمون ضعیف ہے ۔اور امام بخاریؒ نے ان کو حدیث کا منکر کہا ہے ، اور ابن حبانؒ کے فرماتے ہیں کہ یہ ساری موضوع روایات کو روایت کرتے ہیں ۔اس لئے جن لوگوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ اس کو اس روایت کی وجہ سے مستحب نہیں سمجھتے بلکہ وہ یہ علت نکالتے ہیں کہ نکاح اطاعت وعبادت ہے اس لئے اس کو مساجد میں مستحب سمجھا جاتا ہے کہ مساجد بھی عبادت گاہیں ہیں۔
چنانچہ مسجد میں نکاح کی ترغیب دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں “يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة۔‘‘
ترجمہ: امام ابنِ ھمام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ مسجد میں عقدِ نکاح کا ہونا مستحب ہے، کہ نکاح ایک عبادت ہے۔(اور عبادت کےلیے مسجد ایک عمدہ جگہ ہے) دوسری چیز یہ کہ نکاح کا جمعہ کے دن ہونا بھی مستحب ہے۔ (بحوالہ مرقاۃ المفاتیح، جلد6،کتاب النكاح، صفحہ285، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
لیکن جو بات میرے سامنے ظاہر ہوئی ہے تو وہ یہ کہ عقدِ نکاح مسجد میں مباح ہے جیسا کہ حنابلہ کا مذہب ہے ۔
بہر کیف ! چاہے ہم مساجد میں عقدِ نکاح کے استحباب کا کہیں یا اس کی اباحت کا بہر صورت مساجد کوہرقسم کے لہوولعب سے محفوظ رکھنا ہے اور ہر اس چیز سے جو نمازیوں کے لئے ایذا رساں ہواس لئے کہ مساجد ان کاموں کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ یہ تو اللہ جل جلالہ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت کے لئے بنائی گئیں ہیں۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نکاح مسجد میں ہونا یا صحابہ کا مسجد میں نکاح کرنا ثابت نہیں، اگر مسجد میں نکاح کرنا سنت یا مستحب ہوتا تو صحابہ سے زیادہ اس ثواب کے کام میں سبقت کرنیوالا کون ہوسکتا تھا؟


اب آتے ہیں تیسری بحث کی طرف کہ ترمذی کی روایت کا مقصد کیا ہے؟


اس روایت کا مقصد صرف امت کو اس بات پر ابھارنا ہے کہ نکاح سادگی کے ساتھ ہو زیادہ بکھیڑے کی ضرورت نہیں خرافات نہ ہو خرچ نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عن عائشة -رضي اﷲ عنها- قال النبي ﷺ: إن أعظم النکاح برکةً أیسره مؤونةً”. (شعب الإیمان، باب الاقتصاد في النفقة وتحریم أکل المال الباطل، دارالکتب العلمیة بیروت ۵/ ۲۵۴، رقم: ۶۵۶۶، مشکاة المصابیح، ۲/ ۲۶۸) ( ١٢ / ٤٩٣)
سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جسمیں پریشانی نہ ہو،
چاہے خرافات کی شکل میں مال خرچ کی شکل میں جہیز کے نام پر لوٹ مار کی شکل میں شادی بیاہوں میں مردوزن کے اختلاط کی شکل میں بے پردگی ناچ گانے ڈھول تاشے کی شکل میں ،
تو چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو سادگی سے نکاح پر ابھارا تھا
تو اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ کی تعلیم وتربیت نے صحابہ کرام کو ایسا بنا دیا تھا کہ وہ اپنی شادی اور نکاح کی تقریبات میں بھی حضور کو شرکت کی زحمت نہیں دیتے تھے، بلکہ اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ اتنی سادگی اختیار کرتے تھے ، عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور خواص اصحاب میں شامل ہیں، انہوں نے خود اپنی شادی کی اور حضور کو خبر بھی نہیں ہوئی۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح سادہ ہو لیکن نکاح کا اعلان بھی کرو اور اعلان کی ایک شکل یہ ہے مسجد میں نکاح ہو، اور کتابوں میں لکھا ہے کہ جمعہ کے دن جمعہ کے بعد نکاح مستحب ہے وجہ یہ ہیکہ جمعہ کے دن مجمع زیادہ ہوتا ہے تو زیادہ تشہیر ہوگی نکاح کی،
چنانچہ حکم یہی ہے کہ مسجد میں نکاح نماز کے بعد ہو تاکہ لوگوں میں نکاح کی تشہیر ہوسکے،
نبی کے دور میں چونکہ بارات کا نہ رواج تھا نہ تصور تھا لوگ سادگی سے نکاح کرلیا کرتھے اسلئے یہ حکم تھا نکاح کی تشہیر کا،
چنانچہ صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں “يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة۔‘‘
ترجمہ: امام ابنِ ھمام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ مسجد میں عقدِ نکاح کا ہونا مستحب ہے، کہ نکاح ایک عبادت ہے۔(اور عبادت کےلیے مسجد ایک عمدہ جگہ ہے) دوسری چیز یہ کہ نکاح کا جمعہ کے دن ہونا بھی مستحب ہے۔ (بحوالہ مرقاۃ المفاتیح، جلد6،کتاب النكاح، صفحہ285، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
لیکن آج کے زمانے میں جبکہ بارات میں برسات کی بوندوں کی طرح بھیڑ ہوتی ہے تو تشہیر پہلے سے ہی حاصل ہے نیز جس شادی ہال میں تقریب ہوتی ہے اسمیں مسجد سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں تو یہ علت تو ختم ہوجاتی ہے آجکل،
دوسری وجہ ہوسکتی ہے کہ نکاح عبادت ہے اور عبادت مسجد میں بہتر ہے،
تو سوچنے کی بات ہے کہ سارے کام شادی میں خلاف سنت ہورہے ہیں رشتہ طے ہونے سے لیکر لڑکی کی رخصتی تک صرف نکاح مسجد میں ہونا چاہئے یہ کیسا مذاق ہے شریعت کے ساتھ؟
یہ تو گویا رب کے سامنے جراتمندی دکھا رہا ہے کہ دیکھ تیرے گھر میں بیٹھ کر نکاح کرارہا ہوں اور تیرے ہر ہر حکم کو تڑوارہا ہوں پیچھے شادی ہال میں تجھ سے کچھ بگڑسکتا ہو تو بگاڑ لے !
میں کہتا ہوں کہ نکاح اسی وقت عبادت ہے جبکہ نکاح وشادی سے متعلق تمام امور سنت کے مطابق ادا کئے جائیں ورنہ جو کام اللہ کی نافرمانیوں کو کھینچ کر لائے جسکے وسیلے سے انگنت احکام خداوندی ٹوٹیں وہ کام عبادت نہیں بن سکتا، ایسے کاموں سے مساجد کو پاک رکھنا ہی عبادت ہے
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مسجد میں نکاح کرنے سے بہت سی خرافات سے حفاظت ہوجاتی ہے،

خرافات کو صرف مسجد میں نہیں چھوڑنا ہے بلکہ اندرون مسجد اور بیرون مسجد ہر جگہ چھوڑنا ہے، ورنہ تو یہی کہا جائیگا کہ یہ بندہ اللہ کو جرات دکھارہا ہے جیسے کہ اوپر بیان ہوا،
اسی طرح مسجدوں میں بچے شوروشغب کرتے ہیں نیز اکثر لوگ ویڈیوگرافی میں لگے ہوتے ہیں شوروشغب مسجد کے باہر تو برا ہے ہی مسجد کے اندر اسکی قباحت اور بڑھ جاتی ہے،
آدابِ مسجد بیان کرتے ہوئے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وشراءکم وبیعکم وخصوماتکم ورفع اصواتکم واقامۃ حدودکم وسل سیوفکم۔ ترجمہ: تم اپنی مسجدوں کو بچوں، پاگلوں، خریدوفروخت، جھگڑوں ، آوازوں کوبلند کرنے ، حد جاری کرنے اور تلواریں ننگی کرنے سے محفوظ رکھو۔ (سنن ابنِ ماجہ، ابواب المساجد والجماعات، باب مایکرہ فی المسجد، صفحہ54، مطبوعہ کراچی)
نیز کھجور وشیرینی کی تقسیم سے مسجد آلودہ ہوتی کے بہت سے لوگ وہیں پر کھجور کی گٹھلیاں ڈال دیتے ہیں جبکہ قرآن کا حکم ہے “وطھر بیتی للطائفین والقائمین والرکع السجود” میرے گھر کو پاک صاف رکھو نمازیوں کیلئے اور معکتفین کیلئے،
لہذا اگر مسجد میں نکاح کرتے ہیں تو مسجد میں نکاح والی روایت کے مقاصد کو بھی سامنے رکھیں،
جہیز کی مانگ لاکھوں کی ہے
خرافات دنیا جہان کی ہیں ، لال خط، ہلدی کی رسم ، مہندی کی رسم نیوتہ کی رسم ، بھات کی رسم منہ دکھائی کی رسم ، منڈھا کی رسم، اور نامعلوم کون کونسی رسمیں
رسمیں ساری ہوئیں
اور نکاح مسجد میں سنت کے مطابق، یہ شریعت کے ساتھ مذاق ہے
، نکاح سنت کے مطابق مسجد میں کرارہے ہیں لیکن ہیئت سنت کے خلاف بنا رکھی ہے سر پر ہندوانی سہرا ہے گلے میں نوٹوں کے ہار ہیں چہرہ سنت رسول سے پاک وصاف ہے،
یاایھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافة
اللہ فرماتا ہے اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، افتؤمنون ببعض الکتاب وکفرون ببعض( بعض احکام اسلام پر عمل اور بعض پر عمل نہ کرکے بعض کتاب کے مومن اور بعض کتاب کے منکر کے مصداق نہ بنو)
تمام خرافات انجام دیکر صرف مسجد میں ایجاب وقبول کو سنت یا مستحب کا نام دینا غلط ہے، شریعت کے ساتھ مذاق ہے، نکاح کا مسنون طریقہ یہ ہے فتاوی قاسمیہ میں ہے:
’’جس شخص کا ارادہ نکاح کاہو اس کو اولاً چاہیے کہ کسی دِین دار گھرانے کی دِین دار لڑکی کا انتخاب کرے اور پھر اس کے گھر والوں سے مل کر معاملہ کو پکا کرلے، پھر انتہائی سادگی سے مسجد میں مسجد کے آداب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کی تقریب منعقد کی جائے اور اپنی وسعت کے مطابق مہر مقرر کرے اور یہ کوشش کرے کہ بیوی سے پہلی ملاقات ہونے سے پہلے مہر ادا کردے، اور نکاح کے بعد جب بیوی کی رخصتی ہوجائے اور شبِ زفاف بھی گزر جائے تو اب مسنون طریقہ پر ولیمہ کرے، اس میں نام ونمود کی نیت نہ ہو، محض اتباعِ سنت مقصود ہو۔ اور اس سلسلہ میں رسوم ورواج سے کلی طور پر بچنے کی کوشش کریں اور یہ خیال رہے کہ شادی جتنی سادگی کے ساتھ کی جائے گی، اس میں اتنی زیادہ خیر وبرکت ہوگی۔ (مستفاد: انوار نبوت ص: ۶۱۷-۷۱۲)

وما علینا الاالبلاغ

 

Comments: 2

  • مظاہر المظاہری

    Reply February 28, 20233:40 pm

    ماشاء اللہ تبارک اللہ پوری پوسٹ پڑھ کردل خوش ہوگیا
    اللہ جزائے خیر عطا فرمائے آمین

  • HASEEB

    Reply February 4, 20252:56 am

    ماشاءاللہ زبردست
    عبد الحسیب رشادی
    کرناٹک

Leave a Reply