شخصیت پرستی بت پرستی کی ماں ہے
خداکیلئے نورعلم سے روشنی لو
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی
مروجہ تبلیغی جماعت کی چند بڑی غلطیوں کی نشاندہی
بت پرستی سے زیادہ خطرناک شخصیت پرستی ہے،
دنیا میں بت پرستی کا وجود شخصیت پرستی سے ہوا ہے، لوگوں نے اپنے بزرگوں کی عقیدت میں انکی تصویریں بناکر رکھیں، بعد والوں نے انکی تعظیم شروع کردی اور انکے بعد والوں نے انکی پوجا ہی شروع کردی، آج دنیا میں شخصیت پرستی کا بول بالا ہے کسی کو اپنا پیر عزیز ہے کسی کو اپنا شیخ کسی کو اپنا امیر عزیز ہے دین کا ستیاناس ہوتا ہو ہوتا رہے لیکن میرے شیخ کی عزت پر آنچ نہ آئے، شیخ چاہے دین کا جنازہ نکال دے کوئی بات نہیں لیکن شیخ پر کوئی انگلی نہ اٹھائے،
بڑے بھولے ہیں وہ لوگ جو شخصیت پرست ہیں، اگر کوئی عامی شخصیت پرست ہو تو اتنا تعجب نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی مدرسہ کا فارغ جو قرآن وسنت پڑھ کر آیا ہے ، جو دلائل سنکر آیا ہے وہ اگر شخصیت پرست ہو تو پھر سینہ پیٹنے کو جی کرتا ہے،
سوچتے ہیں کہ یہ لوگ شخصیت اور اپنی اندھی عقیدت کی تو حفاظت کرسکتے ہیں لیکن دین اسلام کی حفاظت انکے بس کی بات نہیں،
دین اسلام محفوظ ہے اور محفوظ رہیگا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ اس دین کو ہمیشہ بعض ایسے لوگ حاصل کرتے رہینگے جو جھوٹو ں کے جھوٹ غلو کرنیوالوں کی تحریفات اور جاہلوں کی تاویل سے اس علم دین کو پاک وصاف رکھینگے” علماء کی ایک جماعت ہمیشہ باقی رہیگی جو تلبیس سے کام نہیں لے گی
تلبیس علماء یہود کا کام تھا اللہ نے انکو اس فعل شنیع سے منع فرمایا “ولاتلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون” حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ مت کرو اور حق کو مت چھپاؤ جانتے بوجھتے،
آج مروجہ تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہیکہ جو انکی کسی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو اس جماعت کے کاکنان اسکو اپنا مخالف سمجھتے ہیں، حتی کی اسکی جان تک کے درپے ہوجاتے ہیں ، اسکی عزت اچھالتے ہیں بہتان الزام سے کام لیتے ہیں ، مسجدوں میں بلانیوالے مسجدوں کی امامت سے نکلوادیتے ہیں اور الحمدللہ میں یہ سب کچھ بھگت چکا ہوں ، اور اصلاح کرنیوالے کو مخالف سمجھنا یہ شکایت ملت کے بڑوں بڑوں کو ہے مثال کے طور پر مفتی تقی عثمانی مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مولانا سلمان بجنوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند وغیرھم ، حالانکہ عقلمند وہ ہے جو اپنی غلطیوں کو جان کر انکو دور کرنے کی فکر کرے،
ایک غلطی اس جماعت کی مثلا یہ ہیکہ انکے مجمع میں ایک جاہل آدمی جو انکے کام کے ساتھ جڑا ہے وہ تو بیان کرسکتا ہے لیکن ایک عالم مفتی فقیہ جو انکے مروجہ کام سے نہیں جڑا ہے چاہے اپنے طور پر کتنا بھی بڑا دینی کام کررہا ہو وہ انکے مجمع میں بیان نہیں کرسکتا،
دوسرئ بڑی غلطی اس جماعت کی یہ ہیکہ مستورات کو دین کے نام پر دین بتاکر جماعت میں لیکر جاتے ہیں جبکہ دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور کا فتوی ہے کہ عورتوں کا تبلیغ میں گھر سے نکلنا چاہے محارم کے ساتھ ہو جائز نہیں ہے، اسلئے کہ فرض نماز کیلئے عورت کا گھر سے نکلنا درست نہیں ہے تو ایک نفلی کام کیلئے نکلنا کیسے درست ہوسکتا ہے، اللہ نے فرمایا وقرن فی بیوتکن اپنے گھروں میں رہا کرو ، اللہ نے عورت پر تبلیغ کی ذمہ داری نہیں ڈالی یہی وجہ ہیکہ کسی عورت کو نبی نہیں بنایاگیا ہے، اگر کہا جائے کہ عورتیں اپنی اصلاح کیلئے نکلتی ہیں تو جان لیجئے عورت کی اصلاح کی ذمہ داری اسکے شوہر پر ہے، اور اگر غیرشادی شدہ ہو تو باپ اور بھائیوں پر ہے، وہ باہر دین سیکھیں اور گھر میں آکر اپنی بیوی اور بہن بیٹیوں کو سکھائیں ، دارالعلوم دیوبند کے فتوی کا لنک نیچے دیا گیا ہے دیکھ سکتے ہیں،
تیسری غلطی۔ اپنے ہی کام کو دینی اور بڑا سمجھنا دوسرے شعبوں کو کمتر یا بالکل کچھ نہ سمجھنا چنانچہ اگر یہ کسی عالم سے بھی ملتے ہیں تو انکا سوال یہ ہوتا ہے “کیا آپکا وقت لگا ہے اللہ کے راستے میں” چاہے وہ صبح سے شام تک فقہ حدیث قرآن نورانی قاعدہ پڑھارہا ہو یا مسجد میں امام ہو یا کسی اور دینی یا رفاہی کام میں لگا ہو لیکن وہ سب کام انکے سوال سے ایسے محسوس ہوتے ہیں گویا وہ دینی کام نہیں ہیں،
چوتھی بڑی غلطی۔ اپنے کام کو اونچا ظاہر کرنے کیلئے جہاد سے متعلق آیات اور احادیث کو اپنے مروجہ کام پر فٹ کرنا، جہاد کے فضائل اپنے کام پر فٹ کرنا حالانکہ یہ مروجہ کام مولانا الیاس رحمہ اللہ کا ایجاد کردہ ہے جبکہ جہاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،
نیز اس کام کے بعض ایسے فضائل بیان کرنا جو کہیں ثابت نہیں ، مثلا ہمارے قصبہ موانہ کے اجتماع میں ایک صاحب نے بیان میں کہا اس کام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے “بڑے گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے لیکن اس کام میں لگنے کی وجہ سے بڑے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں” حالانکہ بہت سے بڑے گناہ تو توبہ سے اور شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتے جیسے حقوق العباد ، قرض وغیرہ، یہ غلو ہے،
پانچویں بڑی غلطی۔ شخصیت اور کام کو ایک سمجھ لینا، چنانچہ مولوی سعد کے بعض بیانات انتہائی گمراہ کن ہیں جن پر علماء کو سخت اعتراض ہے اور دارالعلوم دیوبند نے ان بیانات کی وجہ سے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پانچ چھ سال قبل مولوی سعد کے خلاف ایک فتوی بھی شائع کیا تھا، بہر حال اگر کوئی شخص ان بیانات کا رد کرتا ہے تو اس جماعت کے کارکن اس رد کو مروجہ تبلیغی جماعت کا رد گردانتے ہیں، حالانکہ تبلیغ الگ شے ہے اور شخصیت الگ شے ہے،
مدارس کے تعلق سے ایسا غلو نہیں پایا جاتا اگر کسی مدرسہ کے کسی عالم سے کوئی غلطی ہوجائے اور کوئی اسپر نکیر کرے تو کوئی اسکو یہ نہیں کہتا کہ یہ بندہ مدرسوں کا مخالف ہے، اسلئے کہ اہل مدارس نے یہ سو چ نہیں بنائی ہے کہ کام اور شخصیت ایک ہی شے ہیں، کام من حیث العمل ایک کام ہے اسکو کرنیوالے الگ الگ ہوسکتے ہیں اگر کوئی شخص کام صحیح کررہا ہے تو بہت اچھا لیکن گر اگر کوئی کام صحیح نہیں کررہاہے تو اسپر نکیر بھی تو کیجائیگی تاکہ کام صحیح سے ہوسکے ورنہ تو شخصیت تو باقی رہیگی کام باقی نہیں رہیگی، لاتغلوا فی دینکم دین میں غلو نہ کرو ،
انکے علاوہ بیشمار خامیاں ہیں، ان پر نکیر کرنے پر اس کام میں لگے ہوئے بعض مولوی یہ کہتے ہیں کہ “نماز میں لقمہ وہی دے سکتا ہے جو نماز میں شامل ہو باہر والے کا لقمہ قبول نہیں” گویا اس کام کو نماز کا درجہ دیدیا ہے، کیا ایسا کسی حدیث یا کسی قول فقیہ سے ثابت ہے کہ نکیر وہی کرسکتا ہے جو اس کام میں لگا ہو؟
حالانکہ حدیث میں تو یہ ہے “ مَن رَأى مِنكُم مُنكَرا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فإن لَم يَستَطِعْ فبِلِسانِهِ ، فإن لَم يَستَطِعْ فبِقَلبِهِ و ذلكَ أضعَفُ الإيمانِ” جو تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع کام ) کو دیکھے تو چاہئے کہ ہاتھ یعنی طاقت سے روکدے ، اگر اسکی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکدے ، اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسکو برا سمجھے ( لیکن اس منکر کی تائید عملی یا سکوتی یا معاونت نہ کرے) یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، اسلئے اے امت مسلمہ کے جیالو اے علماء کی جماعت اپنے فرض منصبی کو پہچانو آخرت کی فکر کرو دنیا تو فانی ہے ، دین کی فکر کرو جو کل کام آنیوالا ہے باقی کوئی کام آنیوالا نہیں ہے،
اللہ کرے سمجھ آجائے اور دین کو صحیح شکل میں باقی رکھنے کیلئے ہم سب کو اللہ غلو سے تحریف سے کذب سے تلبیس سے محفوظ رکھے
وما علینا الاالبلاغ
مولوی سعد سے سے متعلق دارالعلوم دیوبند کا فتوی
https://darulifta-deoband.com/home/ur/Dawah–Tableeg/147286
مدرسہ میں پڑھانا دین کا کام ہے یا نہیں ؟ دارالعلوم دیوبند کا فتوی
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/68845
مسجد اور گھر کی تعلیم کو شہادت سے بہتر قرار دینا
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/170164
کیا صرف تبلیغی جماعت میں جانے سے ایمان بڑھتا ہے؟
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/172105
اگر کوئی تبلیغ کا کام نہ کرے تو کیا حکم ہے؟
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/150939
قرآن کی تفسیر اہم ہے یا تبلیغی بیان ؟
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/154199
مستورات کا دعوت وتبلیغ کیلئے گھر سے نکلنا
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/158879
آیات جہاد کو تبلیغ پر فٹ کرنا
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/605335
تبلیغ میں نکالنے کیلئے جہاد کے فضائل سنانا
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/164661
چلہ لگانے والے کو عالم پر فوقیت دینا
https://darulifta-deoband.com/home/ur/dawah-tableeg/169494
دعوت وتبلیغ سے متعلق تمام سوالات وجوابات دارالعلوم کی اس ویب سائٹ پر دیکھیں
No Comments