Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

مدارس کے نصاب سے چھیڑچھاڑ کی ضرورت ہے یا صرف مہمیز کی؟

مدارس کے نصاب سے چھیڑچھاڑ کی ضرورت ہے یا صرف مہمیز کی؟

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند

تمام لوگوں کو مدارس کی انکے عملے کی یہاں کے طلبا کی اور یہاں کے نصاب
تعلیم کی فکر کھائے جارہی ہے
جبکہ یہاں ابدی زندگی کے سکون کے حصول کا فن سکھایا جاتا ہے
اور اسکول کالجز کےنہ نصاب تعلیم کی تبدیلی کی فکر ہے نہ طرز تعلیم نہ وہاں کے ماحول کی تبدیلی کا فکر ہے نہ انکی آخرت کی فکر ہے جبکہ نناوے فیصد اسکول کالجز بے حیائی سے پر ہوتے ہیں

کیا وہ نہیں جانتے
“والآخرة خیر وابقی ”
آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے
“ماعندکم ینفد وماعنداللہ باق افلاتعقلون”
جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائیگا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟
“ومامن دابة فی الارض الا علی اللہ رزقھا”
زمین کے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے
جہاں آخرت کے حصول کا گر سلھایا جاتا ہے انکی فکر تمکو کھائے جارہی ہے
اور جہاں جنکی آخرت تباہ ہورہی ہے انکی ذرہ برابر فکر نہیں؟
اسکو کیا کہینگے یہی نا کہ مسلم قوم کے نزدیک دنیا عزیز ہے آخرت کے مقابلے میں
بل توثرون الحیاة الدنیا والآخرة خیر وابقی
تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے
تم نے مدارس کے مقصد کو نہ جانا نہ پہچانا تم نے مدارس کو اسکول کالجز کی طرح تجارت گاہ سمجھ لیا ہے
اسی لئے تم آئے دن مدارس کے نظام تعلیم میں اور نصاب تعلیم کو جدت سے ہم آہنگ کرنا بلکہ بگاڑنا چاہتے ہو
اگر مدارس اپنے مقصد پر نہ رہے تو یہ اسکول کالجز تو بنجائینگے لیکن تصلب فی الدین میں صفر ہوجائینگے
دین اسلام کے تعلق سے انکا کوئی رول نہ ہوگا
نہ حفاظت دین ہوگی
نہ اشاعت اسلام ہوگی
نہ اسلام کی صحیح تصویر ہوگی
بلکہ من چاہا اسلام ہوگا مصلے پر سنت نبوی سے عاری چہرے کے ساتھ ٹائی لگاہوا ایک مسٹر ہوگا
شیخ الحدیث کے عہدے پر عمل سے کوسوں دور کوئی بابوجی ہونگے
ایک خود ساختہ وسیع الظرف اسلام ہوگا جو ہر ایک کے مزاج کے مطابق ہوگا
پھر نہ یہود کو کوئی پریشانی ہوگی نہ شیطان کو
یہ سراسر شیطانی دھوکہ ہے یعدھم ویمنیھم ومایعدھم الشیطان الا غرورا
شیطان تمکو امیدیں دلاتا ہے اور وعدے کرتا ہے اور شیطان کا وعدہ تو دھوکہ ہے
کام بگڑنے پر تنہا چھوڑدیتا ہے
اسلئے نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ تو درست نہیں ہاں طرز تعلیم میں ترمیم کی گنجائش ہے، طلباء اور اساتذہ کو مہمیز لگانے اور انکے اندر سے احساس کمتری وکہتری ختم کرنے کی ضرورت ہے
انکو راہ دکھائی جائے کہ کیسے تم زمانے کے مطابق اپنے ان علوم کو استعمال کرسکتے ہو
انکو انکی طاقت کا اندازہ کرانے کی ضرورت ہے انکو مدرسے کا مقصد بتایا جائے، کہ جیسے ہر ہنر اور دنیا کے ہر کام کا کوئی مقصد ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھتے مثلا میڈیکل کالج کا مقصد ڈاکٹری کی تعلیم دینا اور ڈاکٹر بنانا ہے، وہ وہاں مکینک بننا نہیں سکھاتے، پینٹ کرنا نہیں سکھاتے،
اسی طرح ان مدارس کا مقصد اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنا سکھانا ہے، دین اسلام کی حفاظت ہے پیسہ کمانا نہیں
انکو بتایاجائے کہ مولوی بننے کا مطلب مسجد مدرسے تک رہ جانا نہیں ہے ،بلکہ اسکا مطلب یہ ہیکہ کہ ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ آجائے ،اپنی دنیا بنانے اور کمانے کیلئے آپ دوسرے ہنر سیکھ سکتے ہو تجارت کرسکتے ہو کوئی سروس دے سکتے ہو کوئی اور آئیڈیاکام میں لاسکتے ہو
اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے

No Comments

Leave a Reply