مدارس میں ہائی اسکول لازمی؟
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ
لوگ ابھی تک اسکو سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہائی اسکول والے معاملہ میں دارالعلوم دیوبند کا مقصد کیا ہے؟
دارالعلوم دیوبند میں ۱۸ ستمبر کے اجلاس میں جو بات کہی گئی ہے اور جو تجویز پاس کی گئی ہے وہ یوں ہے” دارالعلوم دیوبند پانچ سال بعد درس نظامی میں ان طلباء کا ہی داخلہ لے گا جو ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ رکھتے ہونگے، اسی کے ساتھ یہ بات بھی کہی گئ ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں درس نظامی میں کوئی تبدیلی نہیں کیجائیگی، درس نظامی میں انگلش یا ہندی یا دیگر فنون کو جگہ نہیں دیجائیگی، دیگر فنون اور انگلش یا ہائی اسکول صرف درجہ حفظ وناظرہ تک محدود رہینگے،
درجہ عربی اول سے علم دین کے علوم عالیہ اور آلیہ کے ساتھ دیگر فنون کو داخل نصاب نہیں کیا جائیگا،
دارالعلوم کی بات اکثر لوگ سمجھ ہی نہیں سکے
دارالعلوم کا درس نظامی جوں کا توں رہے گا
دارالعلوم دیوبند کے نصاب تعلیم میں دسویں تک کی عصری تعلیم کی شمولیت کی جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق دارالعلوم دیوبند کے اس پانچ سالہ نصاب سے ہے جو عربی اول سے پہلے پڑھایا جاتا ہے، اس نصاب میں پہلے ہی سے ہندی انگریزی حساب سائنس فارسی وغیرہ کی کتابیں داخل ہیں
اس نصاب کے پانچویں سال میں تو ٹھوس تعلیم ہوتی تھی لیکن ابتدائی سالوں میں تعلیم اتنی مضبوط نہ تھی، انہی ابتدائی سالوں میں دسویں کا سرکاری نصاب داخل کرکے اس کو مضبوط کردیا جائیگا اور جو عربی درجات ہیں از اول تا دورہ حدیث شریف ان میں دسویں کے نصاب کو شامل نہیں کیا جائیگا۔
کیا صحیح کیا غلط؟
یہاں دوبحث ہیں (۱) ہائی اسکول کے سرٹیفکیٹ کو درس نظامی میں داخلہ کیلئے موقوف علیہ بنانا (۲) ہائی اسکول کے نصاب کو درس نظامی سے الگ رکھنا ،
پہلی بحث “درس نظامی میں داخلہ کو ہائی اسکول پر موقوف کردینا
پہلی شق یعنی ہائی اسکول کے سرٹیفکیٹ کو درس نظامی میں داخلہ کیلئے لازمی قرار دینا،
اس سے اختلاف اس معنی کر نہیں ہے کہ ہائی اسکول کرنا کوئی گناہ ہے بلکہ اس معنی کر ہے کہ ہائی اسکول کو موقوف علیہ بنادیاگیا ہے، دارالعلوم دیوبند کو چاہئے تھا کہ ہائی اسکول کو موقوف علیہ نہ بنائے، عجیب صورت حال ہوگئی ہے ہم خودسپردگی کی پوزیشن میں ہیں ، ایک غیرضروری چیز پر علوم قرآن کو موقوف کردیاگیا ہے، کیا آپ نے ایسا کوئی ادارہ دیکھا ہے غیروں کا چھوڑئیے خود مسلمانوں کا ہی جسمیں عالمیت یا حفظ قرآن کو موقوف علیہ بنایاگیا ہو؟ تو پھر آپ کیوں اتنے مرعوب ہیں کیوں خائف ہیں؟ کہ علوم قرآنیہ کیلئے غیر ضروری چیز کو موقوف علیہ بنادیا ہے؟ کیا رزق کا ٹھیکہ ان سرکاروں نے لے رکھا ہے؟ کیا علم دین رزق کیلئے حاصل کیا جاتا ہے؟ کیا علم دین غیروں کو مطمئن کیلئے حاصل کیا جاتا ہے؟
نیز جب دارالعلوم دیوبند میں درس نظامی میں داخلے کیلئے ہائی اسکول کو لازمی قرار دیاجائیگا تو لازمی طور پر ہر طالبعلم جو دارالعلوم دیوبند میں داخلہ کا خواہشمند ہے ہائی اسکول کریگا اور ذرا سوچئے جو طالبعلم ہائی اسکول کرلے گا وہ آگے ملّا کیوں بنے گا؟ وہ آگے انٹر بی اے ایم اے اور ڈاکٹری کیوں نہیں کرے گا؟ جبکہ مولویت میں سب کو اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے! ظاہر سی بات ہے کہ جو ذہین بچہ ہائی اسکول کرلے گا وہ لازمی طور پر دیگر علوم عصریہ پر توجہ دے گا مولویت پر نہیں پھر بادل ناخواستہ ان طلباء کو یا تو داخلہ دینا پڑیگا یا وہ کہیں اور چھوٹے غیرمعیاری مدرسہ سے سند فراغت حاصل کرلیں گے جو ذہنی اعتبار سے صلاحیت کے اعتبار سے کمتر ہونگے اور پھر ایسے ہی مولویوں کی کھیپ تیار ہوگی جو نہ خود کچھ جانتے ہونگے نہ دین اسلام کی کچھ خدمت کرنے کے قابل ہونگے ،
دوسری بحث “درس نظامی میں چھیڑ چھاڑ نہ کرنا”
دوسری بحث ہے ہائی اسکول کو درس نظامی کے نصاب سے الگ رکھنا، ہونا بھی یہی چاہئے کہ دیگر فنون کو مدارس کے درس نظامی سے الگ ہی رکھا جائے، اسلئے کہ مدارس کا مقصد علم دین علم شریعت کا حصول وتحصیل وتبلیغ ہے، ایسے علماء تیار کرنا ہے جو رسوخ فی العلم رکھتے ہوں تفقہ فی الدین رکھتے ہوں، اور تبحر فی العلم میں یدطولی رکھتے ہوں اور یہ تبھی ممکن ہے جبکہ علم دین کو فقہ اصول فقہ حدیث اصول حدیث تفسیر اصول تفسیر اور تمام وہ علوم جو رسوخ فی العلم اور تفقہ فی الدین میں مددگار ہیں انکو یکسوئی کے ساتھ حاصل کیا جائے ، اگر اسکے ساتھ کوئی اور مشغلہ یا کوئی اور فن بھی ساتھ ساتھ اختیار کیا جائیگا یا حاصل کیا جائیگا تو بندہ ہائی اسکول پاس کرنیوالا یا گریجویٹ تو بنجائیگا انجینئر اور ڈاکٹر بھی بنجائیگا لیکن راسخ فی العلم اور متفقہ فی الدین بالکل نہیں بن سکتا اس طرح دوکشتی میں سوار ہوکر نہ تفقہ فی الدین حاصل ہوسکتا ہے نہ رسوخ فی العلم، ہاں رسمی دیندار اور رسمی مولوی تیار ہوجائینگے لیکن اسلام کی حفاظت کیلئے جسطرح کے رجال کی ضرورت ہے وہ تیار نہ ہونگے، اسلئے کہ منطق کا قاعدہ ہے نتیجہ ارذل کے تابع ہوتا ہے
“فلولا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین”
ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہئے جو تفقہ فی الدین حاصل کرے”
اور تفقہ ورسوخ فی العلم سرسری طور پر پڑھ لینے سے یا بہت سارے مشاغل کے ساتھ حاصل ہوہی نہیں سکتا،
یہ تو یکسوئی چاہتا ہے، ہم نے پڑھاتھا کہ “ علم دین اپنا تھوڑا سا حصہ اسوقت دیتا ہے جب تم اسکو اپنا سارا کا سارا دیدیتے ہو” تو پھر بھلا یہ علم دین اتنے سارے مشاغل کے ساتھ کیسے کما حقہ حاصل کوسکتا ہے؟
ہمیں معلوم ہے کہ جو تمام دنیا سے الگ ہوکر خالص علم دین حاصل کرےگا وہ دیگر فنون میں ہوسکتا ہے پیچھے رہ جائے لیکن خدا کی قسم راسخ فی العلم اور دین کی صحیح تشریح وہی ہیش کرسکتا ہے، دین کا اصل محافظ وہی بن سکتا ہے، ایسے حضرات کو بعض لوگ احمق بھی کہینگے لیکن حقیقت میں وہ خود احمق ہوتے ہیں بس انکو اسکا ادراک نہیں ہوتا،
اگر مدارس کے نصاب تعلیم میں لارڈ میکالے کا لایا ہوا نصاب داخل کیا جائیگا تو خدا کی قسم پچھتر سال بعد ہم تم نہ ہونگے لیکن مولوی بھی ہونگے حافظ بھی ہونگے لیکن وہ ایسے ہونگے کہ نہ انکے داڑھی ہونگی نہ شرعی لباس، دیکھ کر معلوم نہیں ہوگا کہ یہ وارث انبیاء ہے یا وارث انگریز، اسکے ٹائی لگی ہوگی اور نبی کے مصلی پر امامت کررہا ہوگا، چہرہ صاف ہوگا اور فتوی دے رہا ہوگا، اور یہی اسلام دشمنوں کی منشاء ہے کہ مسلمان سارے اسلامی اعمال کرے لیکن اسکے اندر سے مومنانہ روح نکل جائے اسکا نام اسلامی ہو لیکن اسکے اندر سے ایمان کی حرارت ختم ہوجائے، اور اسکے کچھ دن بعد ایسا وقت آئیگا کہ یہ ظاہری مسلمان بھی ختم ہوچکے ہونگے اور ہندوستان اسپین کا نظارہ پیش کررہا ہوگ،
میرے پیارو جب آپکو مدارس کا مقصد معلوم ہوگا تو انکے طرز تعلیم پر اعتراض کا جواب خود ہی مل جائیگا،
مدارس کا مقصد اوپر بیان کیا جاچکا ہے، کہ راسخ فی العلم متفقہ فی الدین اور تبحرعلمی رکھنے والے ایمانی حرارت پیدا کرنیوالے، دین کی صحیح تصویر پیش کرنیوالے رجال تیار کئے جائیں، آخر ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے کہ چپل کی فیکٹری سے موبائل بنانے کا مطالبہ کیاجائے؟
انجینئرنگ کالج سے ڈاکٹر بنانے کا مطالبہ کیا جائے؟
میڈیکل کالج سے ایڈوکیٹ بنانے کا مطالبہ کیا جائے؟
چاول کی دوکان پر جاکر کپڑے کا مطالبہ کیا جائے؟
کیوں نہیں مطالبہ کیا جاتا ان سے؟
اسلئے کہ انکا اپنا اپنا ایک مقصد ہے اسکے خلاف کا کوئی مطالبہ نہیں کرتا ، لیکن مدارس جنمیں مسلمانوں کے کم وبیش صرف دو پرسنٹ بچے پڑھتے ہیں ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کو بالائے باق رکھ دیں اور ہماری بتائی گئی گائیڈ لائن کے مطابق تعلیم دیں، انکو چوں چوں کا مربہ بنانے کی سازشیں کیجاتی ہیں،
ہم مسلمانوں کی دنیوی تعلیم کے مخالف نہیں ہیں ، آپ پہلے ایک علم کو تو سلیقے سے حاصل کرلیں پھر دوسرے میں لگیں ہمیں ضرورت ہے ڈاکٹر انجینئر وکیل وغیرہ کی لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ایک ہی شخص کے اندر تمام صفات کیسے گھسیڑ سکتے ہو؟ کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل کالج میں بھی حدیث کی بخاری شریف پڑھائیے یا انجینئرنگ کالج میں تفسیر کا گھنٹہ رکھئے؟ اسلئے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ مطالبہ فضول ہے
ارے اگر حکومت کو فکر کرنی ہے تو ان اٹھانوے پرسںنٹ مسلمانوں کی فکر کرے جو مدارس میں نہیں جاتے، اہل مدارس کو انکے حال پر چھوڑ دیا جائے،
اور اہل مدارس کو بھی چاہئے کہ اپنے مقصد کو سامنے رکھکر ببانگ دہل کہیں کہ ہمارا مقصد پیسے کمانا اور کموانا نہیں ہے ہمارا مقصد انسان کو انسان بنانا ہے، ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہیں ،
اگر آپکو مسلمانوں کی فکر ہے تو ہمارے مدارس کو نہ چھیڑو بلکہ ہمارے لئے کالجز قائم کرنے کیلئے زمینیں فراہم کرو اور جو ہم نے یونیورسٹیاں قائم کرلی ہیں انکو جو ں کا توں رہنے دو لیکن نہیں ، ابھی مولانا محمدعلی جوہر یونیورسٹی قائم کی گئی اسکا حال دیکھئے کیا حال کیا؟ تو ہم کیسے تسلیم کرلیں کہ حکومت واقعی ان مولویوں اور مسلمانوں کے حق میں مخلص ہے؟
سمجھئے حالات کو ، ماضی سے سبق حاصل کیجئے اور آئندہ کیلئے مضبوط قدم اٹھائیے ،
اگر مدارس کے نظام میں کسی تعلیم کو جبری داخل کیا جاتا ہے تو اسکےنتائج بڑے خطرناک ہونگے،
حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ کے دور میں مدارس میں جبری تعلیم کا مسئلہ اٹھا تھا کہ اہل مدارس کو اپنے نصاب میں انگریزی تعلیم کو لازمی داخل کرنا پڑیگا تو حضرت شیخ نے اسکی بھرپور مخالفت فرمائی اور حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ اسکے بڑے خطرناک نتائج ہونگے، آپ پوری دنیا کو انگریزی تعلیم دلادیجئے سب کو انگریزی سکھادیجئے لیکن بس اسکی کوشش کیجئے کہ کوئی بھی تعلیم جبری نہ ہو جسکی مرضی پڑھائے جسکی مرضی نہ پڑھائے لیکن کسی پر جبر نہ ہو، بڑی افہام وتفہیم کے بعد شیخ الاسلام راضی ہوئے اور ایسی تقریر فرمائی جبری تعلیم کے خلاف کہ وہ جبری تعلیم کا بل پاس نہ ہوسکا،
پھر یہی صورت حال چل رہی ہے حکومت مدارس میں ہندی انگریزی کے متعلق سوالات کررہی اسی سے مرعوب ہوکر اہل مدارس کیلئے ہائی اسکول کی تجویز آئی ہے، حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کوشش یہ ہونی چاہئے تھی کہ جو ہم اپنے یہاں تعلیم دیتے ہیں اسی کو ہائی اسکول انٹر ، گریجویٹ اور پی ایچ ڈی کا درجہ ملے، لیکن اسطرف توجہ نہیں ہے حالانکہ ان ہی حدیث تفسیر ادب وغیرہ کا امتحان اگر آپ مدرسہ بورڈ کے تحت دینگے تو آپکو ہائی اسکول انٹر بی اے وغیرہ کی سند ملتی ہے اور سرکار کی نظر میں وہ بندہ پڑھا لکھا شمار ہوتا ہے، تو کیا پرائیویٹ مدارس میں یہی تعلیم حاصل کرنیوالا ان ڈگری کا حقدار نہیں ہونا چاہئے؟
یہ دوہرا رویہ غماز ہے اس بات کا کہ سرکار ہمارے نجی دینی اداروں کی اصل روح کو ختم کرنا چاہتی ہے، اسطرف ہمیں توجہ دینے اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے،
علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
زمانہ واحدہ میں علوم کثیر کی تحصیل،سب علوم کے حق میں باعث نقصان استعداد رہتی ہے؛اس لیے دینی مدارس میں مشترکہ طور پر ان علوم جدیدہ کی تدریس کو حضرت نانوتوی نے خارج از بحث قرار دے دیا………اور دینی و اسلامی علوم میں خامی کے اندیشہ سے آپ نے یہ فیصلہ فرمایا اور صاف طور پر کہہ دیا کہ جنہیں علوم جدیدہ حاصل کرنے ہیں،وہ وہاں جائیں( جہاں ان کی تعلیم کا بند و بست ہے،یعنی سرکاری تعلیم گاہوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کریں)
اور یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے سر سید نے مغربی تعلیم کی ترقی کی کاوش کرتے وقت یہ اعلان صادر فرمایا تھا:
” اس میں ایک ذرہ شبہ نہیں کہ اگر ہم کو یقین ہو کہ مشرقی تعلیم کی کسی تجویز سے مغربی تعلیم میں ذرہ بھر بھی کمی ہوگی،تو ہمارا فرض ہے کہ اس تجویز سے علانیہ نفرت کا اظہار کردیں۔”
(نصاب تعلیم از شبلی ص 146)
عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی کا ارشاد
اللہ کے بندو تم دینی مدارس کے مقام کو سمجھتے کیوں نہیں؟ کیا تمہیں اسکا احساس نہیں ہے کہ یہ ٹاٹوں اور چٹائیوں پر بیٹھ کر اپنی زندگیاں کھپانے والے اور بہت ہی قلیل تنخواہوں پر اپنی تعلیم دینے والے ہی تمہارے محسن اور تمہاری نسلوں کے دین کے محافظ ہیں ۔ اگر خدانخواستہ تمہارے طعنوں اور بری نگاہوں سے دل برداشتہ ہوکر انہوں نے اپنا کام بند کر دیا اور ان دینی مدرسوں پر زوال آ گیا تو یادرکھو پھر تمہارا ملک بھی اسپین بن جائیگا اور تمہارے بچوں کے کلمہ طیبہ اور دین پر باقی رہنے کی کوئی گارنٹی نہیں رہ جائیگی-
No Comments