مخلوق کا ڈر بمقابلہ خالق کا ڈر
مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی الہندی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
جبتک بی جے پی کا ڈر دکھاتے رہینگے اسی کو گاتے رہینگے صبح وشام، جبتک ہندو مسلم کے نام پر ووٹنگ ہوگی اسوقت تک فرقہ پرست لوگ دندناتے رہینگے، جس کو ختم کرنا ہو اسکا ذکر ہی چھوڑ دو خود ختم ہوجائینگے،
ہوسکتا ہے اس شر کے اندر بھی کوئی بھلائی ہو؟
“عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم واللہ یعلم وانتم لاتعلمون
ہوسکتا ہے کسی چیز کو تم ناپسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کسی چیز کو تم پسند کرو اور تمہارے لئے وہ بری ہو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے”
یہ خیر کیا کم ہے کہ اللہ اپنے مومن بندوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے، آج مسلمانوں کے اعمال اخلاق معاملات رہن سہن بول چال بیاہ شادی غمی وخوشی سب کچھ غیر اسلامی ہے نہ اسکے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت کا امتی ہے، نہ اسکے رہن سہن بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے، اور معاملات تو بس اللہ کی پناہ چھوٹے سے چھوٹے بڑے سے بڑے لوگ چاہے تاجر ہوں ریڑھی والے دوکان والے حاجی نمازی سب معاملات میں زیرو ہیں ، ملازموں کے ساتھ سلوک ہتک آمیز، انکا استحصال، مساجد کے ائمہ مؤذنین کا استحصال، دین کے خدمتگاروں کو بے عزت کرنا ، غریب کی بچی کا استحصال جہیز کے نام پر ، تو کیا اللہ ایسے لوگوں کیلئے منصف حاکم مقرر کریگا؟ اگر ایمان کا، نبی سے محبت کا ، اللہ کی بندگی کا دم بھرتے ہو تو سنت پر عمل کرنا لازم ہے،
“قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعوانی یحببکم اللہ”
اے نبی کہدیجئے اگر اللہ سے محبت کا دم بھرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ بھی تم سے محبت کریگا”
جب انسان اللہ کو بھول جاتا ہے تو رحیم وکریم رب بندے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے دنیا میں ہی اسکو تنبیہ کرنے کیلئے ہلکی سی تھپکی دیتا ہے،
فرمایا “واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبہ اوقاعدا اوقائما
جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمکو پکارتا ہے اٹھتے بیٹھتے لیٹتے”
مگر ہم اتنے بے حس ہوگئے کہ ابھی بھی اللہ کی طرف رجوع کرنے کیلئے تیار نہیں،
جتنا بی جے پی سے ڈرتے ہیں اتنا ڈر اگر اللہ کا پیدا ہوجائے تو نیا پار لگ جائے،
“ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا”
جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسکے لئے راہیں نکالدیتا ہے”
جتنا ذکر صبح وشام بھاجپا کا کرتے ہیں اتنا ذکر اللہ کا کیا جائے تو اللہ بھی ہمیں یاد کرنے لگ جائے
“فاذکروانی اذکرکم “ مجھکو یاد کیا کرو میں تمکو یاد رکھونگا”
لوگوں کا ڈر ایسا دلوں میں سمایا گویا وہ خدا ہیں جہنم میں پھینک دینگے
“یخشون الناس کخشیة اللہ او اشد خشیة” لوگوں سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے کہ اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ “
ظالم حکمرانوں کو برا بھلا کہنے سے کام نہیں چلیگا نہ انکے خلاف دعائیں قبول ہونگی نہ کوئی تدبیر کارگر ہوگی جبتک ہمارے اعمال درست نہیں ہونگے، ایک حدیث قدسی پیش کرکے میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں
عن أبي الدرداء رضي اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ تعالیٰ یقول : أنا اللہ لا إلٰہ إلا أنا مالک الملک وملک الملوک قلوب الملوک بیدي وإن العباد إذا أطاعوني حولت قلوب ملوکہم علیہم بالرحمة والرأفة وإن العباد إذا عصوني حولت قلوبہم بالسخطة والنقمة فساموہم سوء العذاب فلا تشغلوا أنفسکم بالدعاء علی الملوک ولکن اشغلوا أنفسکم بالذکر والتضرع کي أکفیکم ملوککم (مشکاة شریف: ۳۲۳)
یہ حدیث قدسی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ : میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں بادشاہ ہوں کا مالک ہوں بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں جب بندے میری فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کوان کی طرف رحمت وشفقت کرنے کے لیے پھیر دیتا ہوں اور میرے بندے جب میری نافرمانی پر اترجاتے ہیں تو میں ان کی طرف بادشاہوں کے دلوں کو غصہ اور انتقام کے لیے متوجہ کردیتا ہوں، پس وہ ان کو سخت عذاب اور تکالیف میں مبتلا کردیتے ہیں اس لیے خود کو بادشاہوں پر بددعا میں مشغول نہ کرو بلکہ خود کو ذکر، عجز تضرع میں مشغول رکھو تاکہ میں تمھارے بادشاہوں کے مظالم سے تم کو محفوظ رکھوں۔
لوگوں سے ڈرنا چھوڑو رب سے رابطہ مضبوط کرکے اپنے درمیان اتحاد پیدا کرکے مایوسی کو چھوڑ کرکے کوشش کرنے کی ضرورت ہے
فلاتخافوھم وخافون ان کنتم مؤمنین
ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو،
وماعلینا الاالبلاغ
No Comments