Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

لازم اور متعدی گناہ کیا ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اثر وفرق

لازم اور متعدی گناہ کیا ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اثر وفرق

مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

اسلامی تعلیمات کے مطابق، برائی اور گناہ دو طرح کے ہوتے ہیں: لازم اور متعدی۔ لازم گناہ وہ ہیں جن کا اثر صرف کرنے والے کی ذات تک محدود رہتا ہے، جبکہ متعدی گناہ وہ ہیں جو دوسروں تک بھی پھیلتے ہیں اور معاشرتی یا دینی فساد کا سبب بنتے ہیں۔ یہ تقسیم ہمیں سمجھاتی ہے کہ گناہ صرف ایک ذاتی معاملہ نہیں بلکہ بعض اوقات اجتماعی نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے

. لازم گناہ

لازم گناہ وہ ہیں جن کا نقصان صرف گناہ کرنے والے کو پہنچتا ہے، جیسے:
• نماز چھوڑ دینا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ٭ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ”
(پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔) (الماعون: 4-5)
• حج کو ترک کرنا باوجود فرض ہونے کے:
اللہ تعالیٰ نے حج کو ان لوگوں پر فرض کیا ہے جو استطاعت رکھتے ہیں، اور جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، اس کے بارے میں فرمایا:
“وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ”
(اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اور جو انکار کرے تو اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔) (آل عمران: 97)

یہ تمام گناہ لازم ہیں کیونکہ ان کا نقصان صرف فرد کو ہوتا ہے، اور اس سے براہِ راست کسی اور پر اثر نہیں پڑتا۔

2. متعدی گناہ

متعدی گناہ وہ ہیں جن کا اثر فرد کے علاوہ دوسروں تک بھی پہنچتا ہے اور گمراہی یا معاشرتی نقصان کا باعث بنتا ہے، جیسے:
• قرآن و سنت کے غلط مطالب بیان کرنا
جو لوگ دین میں اپنی طرف سے باتیں گھڑتے ہیں یا قرآن کی غلط تفسیر کرتے ہیں، وہ دوسروں کے گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی:
“فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ۚ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ”
(پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنی کتاب (تحریر) اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے بدلے میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیں، پس ان کے ہاتھوں کی اس تحریر کی وجہ سے ان پر ہلاکت ہے اور ان کی کمائی کی وجہ سے بھی ہلاکت ہے۔) (البقرہ: 79)

• دین میں نیا راستہ اختیار کرنا یا اجماع سے ہٹ کر چلنا

دین اسلام کے بنیادی عقائد اور احکام میں اجماعِ امت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ جو لوگ اس سے ہٹ کر الگ راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ امت میں گمراہی اور تفرقہ پھیلاتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
“من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد”
(جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔) (صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
قراان کریم کے اندر اللہ تعالی نے جمہور کے راستے سے ہٹنے والوں کے متعلق فرمایا
وَمَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا(١١٥)
(سورۃ النساء: 115)

ترجمہ:

اور جو شخص مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس کی طرف وہ (خود) مائل ہوا، اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

ایسے لوگ اگر کسی غلط نظریے یا بدعت کو فروغ دیتے ہیں تو ان کے پیروکار بھی اسی گمراہی میں پڑ جاتے ہیں، اور وہ قیامت کے دن ان سب کے گناہ میں شریک ہوں گے، جیسا کہ حدیث میں ہے:
“من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئاً”
(جو کسی کو گمراہی کی طرف بلائے، تو اس پر اس کے پیروکاروں کے گناہوں کے برابر بوجھ ہوگا، اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔) (صحیح مسلم: 2674)

لازم اور متعدی گناہ کو برابر سمجھنا غلطی ہے

کچھ لوگ جب کسی متعدی گناہ پر نکیر کرتے ہیں تو بعض دوسرے لوگ ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ “تم خود نماز نہیں پڑھتے” یا “تم خود فلاں غلطی کرتے ہو”، گویا لازم گناہ اور متعدی گناہ کو ایک ہی درجے میں رکھ دیا جاتا ہے۔
اور اسطرح گویا وہ اس متعدی برائی اور اس برائی کے کرنیوالے کی حمایت یا اسکا دفاع کررہے ہوتے ہیں،
لازم گناہ ہر ایک کے ساتھ لگا ہوتا ہے چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن جب بات متعدی برائی کی آئے جسکی وجہ سے امت میں گمراہی پھیلے اور دین کی غلط تشریح لوگوں کے سامنے جائے جس سے تحریف دین کی شکل سامنے آنے لگے تو اسپر نکیر کرنا ہر ایک ایمان والے کی ذمہ داری ہے، لازم اور متعدی گناہ کو ایک سمجھنا سخت نادانی ہے،
اورایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ لازم گناہ کا نقصان صرف ایک فرد کو ہوتا ہے، جبکہ متعدی گناہ کا نقصان پوری امت کو پہنچتا ہے۔ دین میں ان دونوں کی نوعیت یکساں نہیں۔ اگر ایک شخص خود کسی لازم گناہ میں مبتلا ہو تب بھی اسے متعدی گناہ پر نکیر کرنے کا حق ہے، کیونکہ متعدی گناہ میں امت کی بھلائی اور اجتماعی اصلاح کا پہلو شامل ہوتا ہے۔

نبی کریمﷺ نے برائی کو روکنے کی تلقین فرمائی:
“من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان”
(جو کوئی تم میں سے برائی کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔) (صحیح مسلم: )

اگر لازم گناہ میں مبتلا شخص بھی کسی متعدی گناہ پر نکیر کرے، تو وہ ایک اچھی بات کر رہا ہے، اور اس کی اپنی غلطیاں اس کے صحیح بات کہنے کو غلط نہیں بنا دیتیں۔

ماحصل

1. لازم گناہ کا نقصان فرد تک محدود ہوتا ہے، جبکہ متعدی گناہ کا نقصان پوری امت کو پہنچتا ہے، اس لیے متعدی گناہ زیادہ خطرناک ہے۔
2. متعدی گناہ پر نکیر کرنا ضروری ہے، خواہ نکیر کرنے والا خود کسی لازم گناہ میں مبتلا ہو، کیونکہ یہ دین اور ملت کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
3. لازم اور متعدی گناہ کو برابر سمجھنا اور متعدی گناہ کی برائی کو کم کرنا ایک بڑی غلطی ہے، جو گمراہی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
4. برائی کو روکنے کی ذمہ داری ہر مسلمان پر ہے، اور اس میں سستی کرنا پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، برائی کو برائی سمجھنے، گناہوں سے بچنے اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ خطاؤں کو معاف فرمائے آمین۔

No Comments

Leave a Reply