Mufti Muhammad Ataullah Samiee

Mufti Muhammad Ataullah Samiee

قدیم بلاد الشام اور اس کی جغرافیائی اہمیت

قدیم بلاد الشام اور اس کی جغرافیائی اہمیت

✍️مفتی محمدعطاءاللہ سمیعی معہدالشریعة الاسلامیہ موانہ میرٹھ یوپی الہند
www.atasamiee.in

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بلاد الشام، جو آج شام، لبنان، اردن، اور فلسطین پر مشتمل ہے، قدیم دنیا کا ایک ایسا خطہ تھا جو اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہ خطہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک تھا جہاں مختلف تہذیبیں، ثقافتیں، اور تجارتی راستے آپس میں ملتے تھے۔

بلاد الشام کا محل وقوع

بلاد الشام مغربی ایشیا کے قلب میں واقع ہے۔ اس کے مغرب میں بحیرہ روم، شمال میں اناطولیہ (موجودہ ترکی)، مشرق میں میسوپوٹیمیا (دجلہ و فرات کی وادی)، اور جنوب میں جزیرہ نما عرب واقع ہے۔ اس کا محل وقوع ایشیا، یورپ، اور افریقہ کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا تھا، جس کی وجہ سے یہ تینوں براعظموں کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ بنا۔

بلاد الشام کے مغربی حصے کو بحیرہ روم کی قربت نے مزید اہم بنایا۔ اس کے ساحلی علاقے، جیسے صیدا اور صور، قدیم دنیا کے مشہور تجارتی مراکز تھے، جہاں سے مال و اسباب بحری راستوں کے ذریعے یورپ، مصر، اور شمالی افریقہ تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس خطے کی زرخیز زمین اور پانی کے وسائل نے زراعت اور تجارت کو فروغ دیا، جبکہ اس کا پہاڑی علاقہ دفاعی اعتبار سے بھی اہم تھا۔

قدیم تجارتی راستوں کا مرکز

بلاد الشام قدیم دنیا کے مشہور تجارتی راستوں کا مرکز تھا۔
• شاہراہِ ریشم: یہ راستہ مشرقی ایشیا، خصوصاً چین سے شروع ہو کر بلاد الشام سے گزرتا ہوا یورپ تک جاتا تھا۔
• شاہراہِ مصالح: یہ راستہ ہندوستان اور عرب دنیا کے مصالحہ جات کو یورپ تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

بلاد الشام کے شہر دمشق اور بیت المقدس ان تجارتی قافلوں کے لیے اہم مراکز تھے۔ ان شہروں میں بازار اور تجارتی منڈیاں دنیا بھر کے تاجروں کے لیے کشش کا باعث تھیں۔

قدرتی وسائل اور زرخیزی

بلاد الشام قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال تھا۔ یہاں کی زرخیز زمین دریائے اردن اور دیگر جھیلوں کے باعث زراعت کے لیے مثالی تھی۔ یہ خطہ زیتون، انگور، گندم، اور دیگر فصلوں کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔
• لبنان کے دیودار کے جنگلات قدیم دنیا میں جہاز سازی کے لیے استعمال ہوتے تھے اور ان کا ذکر تاریخی کتب میں بھی ملتا ہے۔
• بحیرہ روم کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں ماہی گیری اور سمندری تجارت بھی عروج پر تھی۔

مذہبی و ثقافتی اہمیت

بلاد الشام کو مذہبی اعتبار سے بھی نمایاں حیثیت حاصل تھی۔
• یہ خطہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سرزمین رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، اور دیگر انبیاء کے واقعات اسی خطے میں پیش آئے۔
• یروشلم (القدس) کو تین بڑے مذاہب (اسلام، عیسائیت، اور یہودیت) میں مقدس مقام حاصل ہے۔

قرآن کریم نے اس خطے کو “الارض المبارکۃ” (بابرکت زمین) قرار دیا، اور احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے شام کی فضیلت کو بیان فرمایا۔

فوجی اور اسٹریٹجک اہمیت

بلاد الشام اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث قدیم سلطنتوں کے لیے ایک اہم فوجی مرکز تھا۔
• یہ خطہ رومیوں، بازنطینیوں، مصریوں، اور بابلیوں کے درمیان جنگی حکمت عملی کا مرکز رہا۔
• شام کے پہاڑی علاقے دشمنوں سے دفاع کے لیے موزوں تھے، جبکہ ساحلی علاقے حملہ آوروں کے لیے راستہ فراہم کرتے تھے۔

ثقافتوں کا سنگم

بلاد الشام مختلف تہذیبوں کے ملاپ کا مرکز تھا۔ یہاں مشرقی اور مغربی تہذیبیں آپس میں ملیں اور ایک منفرد ثقافتی ورثہ وجود میں آیا۔
• فینیقی تہذیب، جو سمندری تجارت اور کثیرالثقافتی روابط کے لیے مشہور تھی، اسی خطے میں پروان چڑھی۔
• بعد میں رومیوں اور اسلامی تہذیبوں نے یہاں اپنے اثرات مرتب کیے۔

خلاصہ
قدیم بلاد الشام اپنی جغرافیائی حیثیت، قدرتی وسائل، اور تاریخی اہمیت کے باعث دنیا کا ایک اہم خطہ رہا ہے۔ اس کا محل وقوع نہ صرف مشرق و مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا تھا بلکہ یہ خطہ تجارتی، فوجی، اور ثقافتی اعتبار سے بھی بے مثال تھا۔ اس کی زرخیزی، تاریخی ورثہ، اور مذہبی اہمیت آج بھی دنیا کے نقشے پر اسے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

No Comments

Leave a Reply