تحریر: مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی معہد الشریعہ الاسلامیہ، موانہ، میرٹھ
www.atasamiee.in
۵ محرم الحرام ۱۴۴۷ھ مطابق ۱ جولائی ۲۰۲۵ء بروز منگل
—————————————————————
انسان کی سب سے بڑی نفسیاتی ضرورت آزادی ہے۔ ہر بچہ آزادی پر پیدا ہوتا ہے، ہر بالغ ذہن آزادی کے ساتھ سوچنا چاہتا ہے، اور ہر بالغ قدم آزادی سے چلنا چاہتا ہے۔ انسانی فطرت پابندی کو برداشت نہیں کرتی جب تک کہ وہ پابندی کسی بلند تر خیر یا برائی سے بچاؤ کا ذریعہ نہ ہو۔ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے اس نے انسان کو بندگی کے دائرے میں باندھ کر بھی فطری آزادی کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اسے اصولوں کی روشنی میں تحفظ دیا۔
ان اصولوں میں سے ایک عظیم اصول “نظریۂ اباحت اصلیہ” ہے،
اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے ۔ ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ﴾۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی حرمت سے متعلق کوئی دلیل نہ ہو، کیونکہ حرمت کی دلیل آ جانے کے بعد وہ حرام ہو جائیں گی ۔
اسی آیت سے فقہاء نے اصول نکالا اور ان الفاظ میں بیان فرمایا:
“الأصل في الأشياء الإباحة”
ترجمہ: چیزوں میں اصل (بنیادی حکم) جواز اور حلت کا ہے۔
إن الأصل في الاشياء الإباحة وإن الحرمة بالنهي عنها شرعًا.ترجمۃ : اشیاء میں اصل جواز (جائز ہونا) ہے اور حرمت (ممانعت) صرف شرعی دلیل سے ہوگی ۔
الأشياء علی الإباحة حتی يرد الشرع بالمنع. ترجمۃ : چیزیں اس وقت تک جائز ہیں جب تک شرعی ممانعت نہ ہو
یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء اس وقت تک حلال و مباح مانی جائیں گی جب تک شریعت کی کوئی صحیح اور واضح نص (قرآن یا حدیث) ان کے حرام ہونے پر دلالت نہ کرے۔
یہ اصول کوئی محض قانونی قاعدہ نہیں بلکہ اسلام کے تصورِ قانون، تصورِ انسان، تصورِ سہولت اور تصورِ فطرت کی جامع عکاسی ہے۔ شریعت کا مزاج یہ نہیں کہ وہ انسان پر ہر شے کو حرام کرکے اس کی زندگی کو بندگاہ میں بدل دے، بلکہ وہ صرف ان اشیاء کو ممنوع قرار دیتی ہے جن کا نقصان واضح ہو یا جو اللہ تعالیٰ کے احکام و شعائر کی خلاف ورزی ہوں۔ باقی اشیاء میں انسان کو آزادی دی گئی ہے — اور یہی آزادی اسلام کی اصل شناخت ہے۔
قرآن کریم میں بارہا یہ نکتہ وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ دین کو انسانوں کے لیے سہولت بنایا گیا ہے، مشقت اور پیچیدگی کے لیے نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾
(سورۃ البقرۃ: 185)
اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔
یہ آسانی کا اصول نہ صرف عبادات میں بلکہ تمام معاملات، عادات، معاشرت، تجارت، سیاست، علم و ثقافت میں جاری و ساری ہے۔ شریعت نے صرف واجبات اور محرمات کا دائرہ مقرر کیا ہے،
فطری طور پر انسان آزاد پیدا ہوا ہے ، وه زیادہ پابندیوں سے کتراتا ہے اور آسانیوں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، اس لئے اسلام نے واجبات و ممنوعات کے احکام کا غیر ضروری بوجھ انسان پر نہیں ڈالا بلکہ چند محدود اشیاء و امور جن کا کرنا یا نہ کرنا انسان کی دینی و دنیوی فلاح کے لئے نہایت ضروری تھا کا پابند ٹھہرایا اور باقی اشیاء کو انسانی اختیار پر چھوڑتے ہوئے مباح قرار دے دیا ہے ۔ یعنی اسلام کے مطابق زمین و آسمان کی تمام اشیاء بنی نوع انسان کے فائده کے لئے پيدا کی گئی ہیں جس کا تقاضہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام اشیاء مباح (جائز) ہوں سوائے ان اشیاء کے جن کے کرنے یا نہ کرنے کا انسان کو پابند ٹھہرایا گیا ہے۔ اس تصور کو “نظریہ اباحت اصلیہ” کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ کا مبارک طریقہ بھی اسی اصول پر مبنی تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”ما خُيِّرَ رسول الله بين أمرين إلا اختار أيسرهما ما لم يكن إثماً“
(بخاری و مسلم)
یعنی رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ہمیشہ آسان اور نرم چیز کو اختیار فرماتے، بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔
یہ حدیث نظریۂ اباحت اصلیہ کا عملی مظہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی پوری حیات مبارکہ آسانی، سہولت، اور فطری توازن کا پیکر تھی۔
اس نظریے کی سب سے زبردست تائید ایک جامع حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے فرمایا:
”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور پوستین (چمڑے کا لباس) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہے، جسے حرام کیا وہ حرام ہے، اور جس پر خاموشی اختیار کی گئی، وہ معاف کر دیا گیا‘“
(جامع الترمذی: 1726)
یعنی محض یہ کہ شریعت نے کسی شے کا ذکر نہیں کیا، یہ اس کی حرمت کی دلیل نہیں، بلکہ اس کی مباح ہونے کی دلیل ہے۔ فقہی اصول کی زبان میں یہی بات یوں کہی جاتی ہے:
“الأشياء على الإباحة حتى يرد الشرع بالمنع”
چیزیں جائز ہیں جب تک شرع ان کی ممانعت نہ کرے۔
اب اس اصول کو ہم آج کے دور کی زندگی میں نافذ کریں، تو اس کی حکمت اور وسعت مزید واضح ہو جاتی ہے۔
دنیا میں لاکھوں اشیاء اور سرگرمیاں ہیں: کھانے، پہننے، سفر کے ذرائع، معاشرتی رویے، آلات و ایجادات، زبان و ادب، معلومات و ٹیکنالوجی۔ کیا اسلام نے ان سب کو فرداً فرداً حلال یا حرام قرار دیا ہے؟ نہیں! بلکہ ان سب پر اباحتِ اصلیہ کا قاعدہ نافذ کیا کہ ہر وہ چیز جائز ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو۔
اسی لیے
• موبائل فون، انٹرنیٹ، یوٹیوب، فیس بک، پروجیکٹر، ٹرین، ہوائی جہاز، لیپ ٹاپ، اے آئی، بائکس، کاریں، تجارتی لین دین میں آٹو پے سسٹم، آن لائن تجارت، آن لائن تعلیم، سافٹ ویئرز وایپس کی تجارت، وغیرہ جتنی جدید اشیاء انسانی فائدے کیلئے ہیں بشرطیکہ انکے خلاف دلیل نہ ہو یہ سب مباح ہیں۔ ان کا استعمال اگر علم، اصلاح، تربیت، دین، معاشی ترقی میں ہو تو ثواب کا ذریعہ ہیں۔ لیکن اگر فحاشی، گمراہی، بدزبانی، لہو و لعب میں ہوں تو حرام اور گناہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
• جیسے زبان اللہ نے دی — اگر سچ، نصیحت، علم و ذکر میں استعمال ہو تو عبادت ہے، لیکن اگر غیبت، جھوٹ، چغلی میں ہو تو حرام ہے۔
• ہاتھ سے صدقہ کرو تو ثواب، چوری کرو تو گناہ۔
• آنکھ سے قرآن پڑھو تو عبادت، فحش دیکھو تو گناہ۔
اسی اصول پر تمام اشیاء کا حکم مبنی ہوتا ہے: نیت اور استعمال پر۔
اب یہاں ایک اور پہلو سمجھنا ضروری ہے: کچھ اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن میں حرمت کی صراحت موجود ہو، جیسے:
• فحش تصاویر دیکھنا
• موسیقی و گانے
• نشہ آور اشیاء
• سود، جوا، دھوکہ
• Dream11، رمی سرکل جیسے آن لائن جوا ایپس
یہ سب قرآن و حدیث کی واضح دلیل سے حرام ہیں، لہٰذا ان پر نظریۂ اباحت اصلیہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ دلیلِ مانع کی زد میں آ چکی ہیں۔
نتیجہ کے طور پر، یہ اصول ہمیں بتاتا ہے کہ:
• دین نے ہمیں ضرورت سے زیادہ پابند نہیں بنایا۔
• ہمیں زندگی کے بیشتر میدانوں میں فطری آزادی عطا کی ہے۔
• صرف وہ چیزیں ممنوع ہیں جن پر واضح دلیل موجود ہو۔
• باقی تمام اشیاء مباح، جائز، اور استعمال کے مطابق حلال یا حرام بنتی ہیں۔
یہی اسلام کی عظمت ہے کہ اس نے انسان کو غلام بنا کر نہیں بلکہ ذمہ دار آزاد بنا کر پیدا کیا، اور یہی وہ وسعت ہے جس کی بنیاد پر اسلامی قانون ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ہر زمانے میں قابلِ عمل ہے۔
حاصل کلام یہ ہوا کہ
• اشیاء میں اصل حکم جواز کا ہے، حرمت دلیل سے ثابت ہوتی ہے۔
• اسلام میں آسانی، سہولت اور فطرت کو قانون کی بنیاد بنایا گیا ہے۔
• ہر نئی ایجاد کو حرام سمجھنا اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
• جو شے واضح دلیل سے ممنوع ہے، وہی ممنوع ہے، باقی مباح ہے۔
• جن اشیاء کی حرمت پر دلیل نہ ہو ان اشیاء کا حکم نیت اور استعمال پر مبنی ہوتا ہے۔